ڈیٹنگ پہ جائیے، مگر۔۔

آج کل فیس بک پر کثرت سے ایک موضوع پہ بات ہو رہی ہے کے ہمیں اپنے بچوں کوڈیٹس پر جانے دینا چاہیے یا نہیں ؟ پہلے پہل شاید اسکی حمایت میں تحرير آئی اور پھر مخالفت میں۔ میرا تو ان لوگوں سے بس اتنا سوال ہے کے ڈيٹ ہے کیا؟ اگر تو اسکا مطلب اور مقصد وہی ہے جو عام طور پہ لیا جاتا ہے میں اسکی طرفداری میں لکھوں گی اور میں اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتی تو پڑھنے والا شخص سب سے پہلے مجھ سے ہی يہ سوال پوچھے گا کے میں یہ نیک اور اچھا کام کتنی بار سرانجام دے چکی ہوں؟ مجھے چاہیے کے بجاۓ اپنا کنٹرول کھونے کے اسکے حق میں مزید بہتر دلائل دوں اور لوگوں کو موٹیویٹ کروں۔

جب ہم کچھ بولتے ہیں تو، ہماری آواز کو چند لوگ ہی سن پاتے ہیں لیکن جب ہم کچھ لکھتے ہیں تو وہ الفاظ ہمشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں اور وہ ہزاروں لوگوں کی نگاہوں سے گزرتے ہیں۔ لفظوں کا ہم یہ بڑا قرض ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ہمیں اسکا جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں لکھتے وقت يہ سوچنا چاہیئے کے جو بات ہم لکھ رہے ہیں وہ بات ہمارے مذہب اور معاشرے سے متصادم تو نہیں يا جو بات ہم دوسروں کو سکھا رہے ہیں ۔ وہی بات جب ہماری ذات پہ آۓ گی تو ہم کیا جواب ديں گے؟ لکھنے والے ڈيٹ کے حق میں يہ دلائل دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کے شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو جاننا اور سمجھ لینا ضروری ہے۔ اسکے لیے اکیلے میں ڈيٹ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ میں پوچھنے میں حق بجانب ہوں بتاہیے ایسی کتنی ڈيٹس ہیں جن کا انجام شادی سے دوچارہ ہوتا ہے؟

مغرب میں تو لوگ بہت ڈیٹس کرتے ہیں تو کیا وہ سبھی آپس میں شادی کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر گڈ ہو گیا اور اگر نہیں تو کیا اپ وہاں کا کلچر اپنانا چاہتے ہیں چلیں شوق سے اپنائیے لیکن ان ڈیٹس کے جو نتائج ہوں گے انہیں کون پالے گا؟ مغرب میں تو حکومتیں پالتی ہیں ۔آپکےیہاں کچرے کے ڈبے جہاں کتے معصوموں کو بھنبھوڑتے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں آپ بہت مضبوط کردار کے مالک فرشتہ صفت ہیں اپ کے ہاں ڈیٹ کامطلب حال چال پوچھنا اور صرف بیٹھ کر باتیں کرنا ہے وہ بھی تنہائی میں، لیکن ہم جس دین فطرت کے پیروکار ہیں وہ تو یہ کہتا ہے جوان ہوتے بہن بھائیوں کو علیحدہ بستروں اور علیحدہ کمروں میں رکھو اور جب شادی کی عمر کو پہنچیں تو انکی رضامندی سے انکی شادی کر دو۔ کیا اس سے بہتر کوئی اور بات ہو سکتی ہے؟

کیا ماں باپ یا کسی بڑے کی موجودگی میں ملنا یا بات چیت کرنا کافی نہیں ہوتا؟ شادی کے لیے انسانوں کو جاننے کا پیمانہ کیا ہے؟ آپ کے پاس جو صرف اکیلے ڈيٹ کرنے سے ہی بھرتا ہے ہمارے ماں باپ دادا دادی نے کتنی ڈیٹس کے بعد شادیاں کی تھیں؟ تب تو لوگ دلہا دلہن کو شادی کے بعد ہی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تا عمر ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کی عزت کرتے۔ آج شادیوں کی کامیابی کا ریشو ديکھ لیں اور تب کی شادیوں کا دیکھ لیں۔ میرا رب اگر مجھے کسی نامحرم سے تنہائی میں ملنے سے روکتا ہے تو مجھ رک جانا چاہئیے کیونکہ اس میں میری ہی بھلائی ہے۔

آپ کہتے ہو جو لوگ آپس میں محبت کرتے ہیں انہیں یہ حق حاصل ہے کے وہ ڈيٹ کریں جی ضرور کریں لیکن يہ بات یاد رکھیں کہ انسان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو محبوب کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے، جو طلب محض طلب ہوتی ہے وہ محبوب کو لے کر دو آتشہ ہو جاتی ہے اور اسکے نتائج صرف عورت بھگتتی ہے۔ خدرا اپنی روشن خیالی کی بھینٹ میرے وطن کی معصوم بیٹیوں کو نہ چڑھائیں۔

ہم مان ہیں ہمیں کھلونا مت بنائیں ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں