دہشت گرد کون؟

اج کل فیسبک پر ایک طوفان بد تمیزی مچا ہوا ہے. اسکی وجہ سلیم صافی صاحب کا کسی بڑے دھشت گرد کو شاعر یا ادیب کہنا ہے. بہت سارے لوگ باقاعدہ گالم گلوچ کر رہے ہیں.. سب لوگ یہ سوال کر رہے ہیں ہزاروں انسانوں کا خون کرنے والا شخص شاعر کیسے ہو سکتا ہے‫‫‫…..
بات یہ ہے کہ انسان ایک پیچیدہ نفسیات کے ساتھ پیدا ہوا ہے… اس کے ساتھ بیک وقت خیر بھی ہے اور شر بھی… کوئی بھی شخص پیدائشی ڈاکو ليٹرا یا دھشت گرد نہیں ہوتا… لیکن آپ پیدائشی مصور ہوتے ہیں،  شاعر بھی ہوتے ہیں۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ مصور ہوتا ہے۔ جب وہ زمین پر بيٹھ کر لکیريں کھنچتا ہے تو وہ تخلیق کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ جو پینسل سے نوٹ بک پر رنگ بھرتا ہے تب وہ مصور ہی ہوتا ہے… جب وہ کوئی نئی بات بولتا ہے تو وہ شاعری ہی کرتا ہے… انسان اپنی فطرت کے ساتھ ایک تخلیق کار ہے وہ ہر روز ایک نیا جہاں دریافت کرتا ہے.. اپ کسی چھوٹے بچے کوغور سے دیکھیے، وہ اپنی محبت کے اظہار کے لیے مختلف انداز اپناتا ہے…اس کے اظہار کا ہر انداز شاعری ہی ہے… یہ تو طے ہےکے ہر انسان پیدائشی شاعر ہے..

اب اس پہ بات کرتے ہیں کے کوئی شاعر یا ادیب آیا دھشت گرد ہو سکتا ہے یا نہیں….. تو اس کا جواب بہت آسان ہے۔ ہر وہ شخص خواہ وہ ڈاکٹرہو، انجینئر ہو یا شاعر ادیب یا پھر مذہبی پیشوا.. جب بھی کوئی انسان انتہا پر پہنچ جاتا ہے وہ دھشت گرد ہو سکتا ہے….اور کسی بھی انسان کو انتہا پر پہنچانے کے لیے جہاں اور بہت سارے عوامل ہیں.‫…وہاں ہم جیسے انسانوں کا ہاتھ بھی شامل  ہوتا ہے.. انسان جب کسی حادثے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے تو وہ ذہنی اور جزباتی حوالے سے انتہائی کمزور ہوجاتا ہے… اس وقت اس کی طرف خیر و شر پوری قوت سے بڑھتا ہے… اب يہ ہمارے رويوں پہ منحصر ہے کے ہم اس شخص کو کس طرف دھکیل رہے ہیں.. میں یہ نہیں کہتی کے احسان اللہ احسان جیسے لوگ کسی معافی تلافی کے قابل ہیں… لیکن ریاست جب اس طرح کے کسی کردار کو سامنے لاتی ہے تو ضروری نہیں اسے معافی دے دی جاتی ہو…. بلکہ اس کا مقصد یہ بھی تو ہو سکتا ہے ناں پیغام کہ اس جیسے بہت سارے اور لوگوں تک پہنچانا مقصود ہو کہ وہ دھشت گردی کی رہ چھوڑ کر امن کی زندگی جی سکتے ہیں ہم نے برسوں جنگ وجدل کر کے اس کے نتائج دیکھ لیے ہیں… ہم پوری قوت سے انکی کمر توڑتے ہیں وہ دوہری قوت سے ہماری ہڈیاں توڑتے ہیں…ہم متبادل بیانیہ کی بات کرتے ہیں لیکن مانتے نہیں ہیں.. کیا اب وقت آ نہیں گیا کے ہم کسی دھشت گرد کی دھشت پہ بات کرنے کی بجاۓ ان عوامل پر بات کریں کہ ایک ہنستا کھیلتا نارمل ان انسان وحشی کیوں بن جاتا ہے اور ہم کیسے لوگوں کو اس اگ میں کودنے سے بچا سکتے ہیں…..

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں