فکری یتیموں کے مغالطے

ایک زمانہ تھا جب کیمیونزم ایک مضبوط فلسفہ زندگی کی حیثیت سے سامنے آیا اور اسنے اپنے نظریے کا اسیر ایک زمانے کو بنائے رکھا۔ ہمارے ملک میں بھی ٹیڈی پینٹس پہنے، ہپی بال رکھے اور چی گویرا کو اپنا ہیرو ماننے والے نوجوان اس نظریے کے اسیر تھے جنکے ایشیاء سرخ ہے کے نعروں سے تعلیمی اداروں میں گھمسان کا رن پڑتا تھا۔
اس فلسفے کی جہاں بہت سی فطری و فکری کمزوریاں تھیں وہیں اسنے ایک اور بڑی غلطی دین کی مخالفت کر کے کی۔
الحاد اس فلسفے کا ایک بنیادی جزو تھا جسکے مضر اثرات اخلاق وکردار سے عاری معاشرے کے طور پر نکلنا لازم تھے۔ جب کیمیونزم اپنے گھر ماسکو میں شکست و ریخت سے دوچار ہوا تو یہاں ہمارے ملک میں اسکے چاہنے والوں میں بھونچال آنا فطری امر تھا۔
ان شکست خوردہ کیمیونسٹوں کے ایک گروہ نے اس فلسفے کی ناکامی کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ جہاں تک اس فلسفے کا سرمایہ دارانہ اور مادیت پرستی پر مبنی نظام کو چیلنج کرنے کی بات تھی وہ واقعی اثر رکھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ نظام اپنے چاہنے والوں سے یہ بھی مطالبہ کرتا تھا کہ جس ملک میں یہ نظام نافذ نہیں وہاں کی ریاست سے غداری کر کے بھی اس نظام کے حامی ملک کا ساتھ دینا ہے ساتھ ہی ساتھ اپنے ملک کے عام شہری کے مذہبی عقائد کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا ہے بلکہ اسے مذہب کے خلاف نفرت پر ابھارنا ہے۔ اس گروہ نے نہ صرف ریاست کے خلاف سازش اور مذہب بیزاری کا رویہ ترک کر دیا بلکہ ریاست کی خامیوں کو درست کرنے اور مذہب کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنانے کا فیصلہ کیا، جبکہ اپنے پرانے دشمن سرمایہ دارانہ نظام پر کڑی تنقید اسی شدت سے جاری رکھی۔ میری نظر میں یہ گروہ قابل عزت و قابل تعریف ہے اور معاشرے و ریاست کی فلاح کیلئے اسکا موجودہ کردار بھی قابل قدر ہے۔
جبکہ اسکے برعکس سابقہ کیمیونسٹوں ہی کے دوسرے گروہ نے پینترا بدلتےہوئے اپنے سابقہ اصل حریف سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا اور دانش مغرب ہی کو اپنی دانش قرار دے دیا۔ اس فریق کی نظر میں مغرب کا ہر فلسفہ خواہ وہ اچھا ہو یا برا آسمانی صحیفے کی طرح مقدس ہے جبکہ مذاہب میں سے بھی اپنے فکری آقا مغرب کی طرح ہر خرابی کی جڑ اسلام کو قرار دینا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر انبیاء تک کی گستاخی انکی نظر میں بنیادی حق ہے، جبکہ اگر اسی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے کوئی انکی عریانیت و فحاشی پر مبنی تہذیب پر سوال اٹھائے تو انکے منہ سے کف نکلنے لگتی ہے اور یہ اس پر فوراً جاہل اور انتہا پسند کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔
مغربی جمہوریت کی پرستش انکا مذہب ہے لیکن اگر یہاں کی جمہوری اسمبلی مکمل اتفاق رائے سے اسلامی قوانین منظور کرتی ہے یا باطل عقائد کی بنیاد پر ایک گروہ کو اسلام سے خارج قرار دیتی ہے تو یہ جمہوری فیصلہ انکی پیٹ درد بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ جس ریاست کا کھاتے ہیں اور جہاں رہتے ہیں وہاں کے اداروں سے خدا واسطے کا بیر رکھنا انکا مشن ہے جبکہ اپنے ملک کی دشمن ریاستوں کی یہاں ریشہ دوانیوں کو یہ افسانہ یا ہمارے ریاستی اداروں کی پالیسیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کو غلط فیصلہ کہتے ہیں اور پاکستان کی تقسیم کے حق میں بولتے ہیں۔ مغرب چاہے ایک جھوٹ کی بنیاد پر ملک کا ملک تباہ کر دے انکی پیشانی پر بل نہیں آتا اور اگر کوئی جنونی غلط حرکت کر بیٹھے تو اسلامی تعلیمات کی الف بے کا پتہ نہ ہونے کے باوجود اسلام کو اسکا ذمہ دار ٹھرا دیتے ہیں۔
بسنت،ویلنٹائن ڈے و ہیلووین جیسی غیر ملکی خرافات پر لاکھوں روپیہ بھی اگر اڑا دیا جائے تو اسے زندہ دلی کی علامت کہتے ہیں جبکہ بکر عید جیسے اسلامی تہوار پر قربانی انھیں پیسے کا ضیاع اور ظلم لگتی ہے ۔ عورت کے ذہن میں یہ ڈال کر اسکا استحصال کرنا انکا محبوب مشغلہ ہے کہ تم جتنی برہنہ ہوگی اتنی آزاد خیال کہلاؤ گی جبکہ یہی عورت اگر حجاب کی صورت اپنا تحفظ چاہے تو اسے دقیانوسیت کا طعنہ دیتے ہیں۔ بالوں اور داڑھی کے مغرب سے آنے والا ہر بے ہنگھم اور مضحکہ خیز سٹائل بنوانا انکے نزدیک فیشن ہے اور اسلامی تہذیب کی علامت داڑھی دیکھتے ہی انکے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ مغرب میں اگر کوئی پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو موم بتیاں جلا کر سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں جبکہ ڈرون حملوں کی زد میں آکر اپنے ہی ملک میں ہلاک ہونے والے عورتیں اور بچے انکی نظر میں کیڑے مکوڑوں جتنی اہمیت حاصل نہیں کر پاتے۔ ملکی ترقی کے زینے “سی پیک” سے تو بہت نالاں ہیں لیکن نیٹو کے سپلائی روٹ پر کبھی نہیں بولیں گے۔یونیورسٹیز میں نشے کا سرعام فروغ اور استعمال انکی آنکھ سے اوجھل رہتا ہے جبکہ مدارس میں کوئی غیر اخلاقی واقعہ ہو جائے تو یہ اسکی تشہیر کرنے اور اسے اسلام سے جوڑنے کو فرض منصبی ٹھراتے ہیں۔
الغرض ان فکری یتیموں کے لینے اور دینے کے باٹ اور ہیں، منافقت اور نفس پرستی ہی انکا عقیدہ ہے۔ معاشرے میں شراب، جنسی بے راہ روی اور مذہب بیزاری انکی نظر میں ترقی کا پیمانہ ہے۔ اپنے ملک کے ہر منفی پہلو کو نمایاں کرنا اور مثبت پہلو میں کیڑے نکالنا انکا شیوہ جبکہ مغرب کے گندے فُضلے کو بھی امرت دھارا ثابت کرنا انکا مشن ہے۔ انکی ہمدریاں ہمیشہ اپنی ریاست کی بجائے ریاست کے دشمنوں کے ساتھ رہتی ہیں ۔ مذہبی انتہا پسندوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں و گمشدگیوں پر یہ تالیاں پیٹتے ہیں، جبکہ اگر ریاست علیحدگی پسندی یا لبرل سیاسی جماعتوں کی آڑ میں قتل و غارتگری کا مظاہرہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اسے یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں مذہبی انتہا پسندی اور مذہب کی غلط تشریح کے ذریعے دہشت گردی کرنے والوں کا قلع قمع ضروری ہے وہیں ان فکری اور لبرل دہشت گردوں کی ریاست و اسلام دشمن ریشہ دوانیوں کو لگام دینا وقت کی ضرورت ہے ورنہ انکی اشتعال انگیز حرکات کو کنٹرول نہ کر کے ریاست جانبداری کا ثبوت دے گی اور یہی چیز دوسری طرف کے انتہا پسندوں کو مہمیز دینے کا باعث بنتی ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں