گندہ ہے پر دھندہ ہے…

ٹی وی اسٹوڈیو پہنچا تو اینکر مجھے دیکھ کر ایسے مسکرایا جیسے شکار دیکھ کر شکاری کا چہرہ کھل اٹھتاہے ۔
لیکن اسے معلوم نہیں تھا آج صیاد اپنے دام میں آپ آنے والا ہے……
علامہ صاحب ! آج کا واقعہ تو آپ کو معلوم ہے مشعال خان کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اس طرح کے واقعات کہ لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔کیا یہ اسلامی طور پر درست ہے؟

علامہ صاحب نے اطمینان سے پہلو بدلا اور گویا ہوئے:

مشعال خان کا قتل اس اسٹیج کیے گئے ڈرامے کا آخری سین ہے اس لیے اس کا جواب بھی سب سے آخر میں ہو گا۔
اس اسٹیج پر اس سے پہلے کئی سین موجود ہیں اس کا جواب بھی بہت ضروری ہے۔
سوال یہ ہے کہ مشعال خان کی ابتدائی تعلیم میں بنیادی اسلامی تعلیم و تربیت کی کمی کہاں رہ گئی ؟
سوال یہ ہے کہ کیا نصاب ِ تعلیم میں موجود ’’لازمی اسلامیات ‘‘ ایک مسلمان طالب علم کی دینی ضرورت کو پورا کررہی ہے ؟
سوال یہ ہے کہ اے اور او لیول کی اسلامیات میں گستاخیاں دیکھی ہیں ؟کون کس کے ایجینڈے پر کام کررہا ہے ؟ اس کی خبر کون اور کب لے گا؟
سوال یہ ہے کہ ان کتابوں کو پاکستا ن میں پبلش کون کررہاہے ؟ کیوں کرائی جارہی ہیں ؟ مستشرقین کا لٹریچر پاکستان میں کیوں تراجم کرا کر چھاپا جا رہا ہے ؟
سوال یہ ہے کہ مشعال خان پڑھنے روس کیوں گیا ؟ ہمارے ہاں اس معیار کے تعلیمی ادارے کیوں نہ بن سکے ہمارے بچوں کو کمیونسٹ تعلیمی اداروں کے بجائے اپنے تعلیمی ادارے میں پڑھنے کے مواقع میسر آتے تو نتائج یکسر مختلف ہوتے اس کا ذمہ دار کون ؟
سوال یہ ہے کہ مشعال خان کے دماغ میں کمیونزم کے جراثیم ڈالنے والے استاد کون ہیں ؟
سوال کی آڑ میں اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے کی کوشش میڈیا پر کس نے کی؟
سوال یہ ہے کہ شہزاد رائے کا گانا ’’سوال پوچھتاہے ‘‘ کے ذریعے آزاد خیال لبرلز کو بے باک کرنے پر پیمرا نے کوئی ایکشن لیا؟
سوال یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کی اساسی بنیادوں کو ختم کرنے کی کوششوں پر اعلیٰ سطح پر نوٹس کیوں نہیں لیا گیا ؟
سوال یہ ہے کہ اسلام کے خلاف ’’مسلم مارٹن لوتھر ‘‘کی کلوننگ اسلامی معاشرے میں کیوں کر کی جا رہی ہے ؟
سوال یہ ہے کہ نام نہاد لبرل دانشور ٹی وی پر بیٹھ کر مشعال خان جیسے لوگوں کو برانگیختہ کریں اور ان پر ایک حرف بھی نہ آئے ؟
سوال یہ ہے کہ آخر لوگوں نے مشعال خان کو قتل کرنے کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟
سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کے تقاضے آئیڈیل صورت میں ہمارے یہاں پورے ہوتےہیں ؟
سوال یہ ہے کیا ہماری قوم اپنے نظامِ عدل سے مطمئن ہے ؟
آپ ان تمام سوالات کے جوابات دے دیجیے کیوں کہ مشعال کے قتل سے پہلے ان تمام سوالات کے جوابات آپ پر واجب ہیں ۔
لیکن مجھے معلوم ہے !!!!!!!
تم میرے ان سوالات کا جواب کبھی نہیں دو گے ۔۔۔۔اس کے ذمہ داروں کا تعین کبھی نہیں کرو گے ۔۔۔۔تو پھر میں بھی تمہارے اسٹیج کیے گئے ڈرامے کے آخری سین کا جواب نہیں دوں گا ۔
تم ایک کھیل کھیل رہے ہو اسلام کے ساتھ اور وہ بھی علماء کی گردن پر بندوق رکھ کر
تم پوچھنا چاہتے ہو کیا یہ غلط ہے لازمی علماء تمہاری چال بازیوں سے واقف نہیں کہہ دیں گے ہاں قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے اور تم اس کو لے اڑو گے ۔۔۔۔آسیہ ملعونہ کو پھانسی ہو گی نہیں ۔۔۔ ۔۔تمہاری اس لابنگ اور برین واشنگ کے ذریعے توہین رسالت معمول کی بات بن جائے گی ۔
اسلام کل سے بحث کرتا ہے جز سے نہیں
سُنو ! مسٹر اینکر کان کھول کر سنو!مولانا سے سوال کرکے کوئی فیصلہ نہیں لکھا جارہا بلکہ مولانا کو استعمال کرکے توہین رسالت کے لیے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے
میرے سر کے تاج علماء کرام ! یہ یاد رکھیے ! میڈیا آپ سے آخری سوال پوچھتا ہے پہلا نہیں اس کو ایک بیہودہ فلسفی ژی ژیک کی بیہودہ مثال سے سمجھیے ۔
ایک شخص روزانہ دفتر سے گھر شام پانچ بجے آتا ایک دن دفتر سے ۴ بجے گھر پہنچا تو اپنی بیوی کو کسی اور کی بانہوں میں پایا تو اس نے اپنی بیوی سے سوال کیا یہ کون ہے ؟ یہاں کیوں ہے ؟ یہ کیسے آیا ؟یہ کیا کررہا ہے ؟ کیا اسے تم نے بلایا ہے ؟ (ابتدائی سوالات )
بیوی نے جواب دیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں ،اہم سوال یہ ہے کہ تم ۴ بجے یہاں کیا کررہے ہو تمہارے آنے کا وقت تو پانچ بجے ہے ۔(یہ آخری سوال ہے )
شرا نگیزی پر مبنی اس سوال کا ایک ہی جواب ہے ۔
لبرل ازم کا پرچار تم کرو ۔۔۔۔۔آزادی کی دعوت تم دو ۔۔۔۔۔بے راہ روی اور فحاشی کو تم جنم دو ۔۔۔۔۔۔فکر ونظر کے قحبہ خانوں کی تم پشت پناہی کرو ۔۔۔۔۔
پھر جب ان سب کے خلاف بغاوت ہو تو علماء سے پوچھو کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟
معذرت! اس سوال کا جواب اسلام نہیں دے گا یہ مسئلہ اسلام نے پیدا نہیں کیا جو اسلام اس کا جواب دے
یہ مسئلہ لبڑچوں ، بقراطیوں ، سقراطیو ں کی عفریت نما کوکھ سے پیدا ہوا ہے وہی ا سکا جواب دے
مجھے معلوم ہے تم میڈیا پر میرا یہ انٹر ویو نہیں چلاؤ گے کیوں کہ میں واقف ہوں تمہاری میڈیا انڈسٹری سے ’’گندہ ہے پر دھندہ ہے ‘’

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں