غزوہ بدر: فیصلے کا دن

17 رمضان المبارک،جمعتہ المبارک کے دن اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔جس میں مُٹھی بھر 313 مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لاؤ و لشکر کو اس کی تمام تر مادی اور معنوی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا اور کفار کی طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیواؤں کو ابدی طاقت اور رشکِ زمانہ غلبہ نصیب ہوا اور دینِ اسلام کو چار چاند لگے جس پر آج تک مسلمان فخر کا اظہار کرتے ہیں…. اِس غزوہ نے حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز کر دیا…. یہ وہ دن ہے جب حق و باطل، خیر و شر اور کفر و اسلام کے درمیان فرق آشکارا ہوگیا اور اقوامِ عالم کو بھی پتہ چل گیا کہ حق کا علم بردار کون ہے اور باطل کا نقیب کون ہے…. اِس لئے اِس غزوہ کے دن کو ”یوم الفرقان“ بھی کہتے ہیں…. یہ غزوہ اسلام کے فلسفہ جہاد کا نقطہ آغاز ہے…. یہ وہ اولین معرکہ تھا جس سے پہلے ایسا دل کش نظارہ کبھی زمین و آسمان نے نہیں دیکھا تھا کہ: ایک طرف وہ مشرکین تھے جن کے سر ﷲ وحدہ لا شریک کے سامنے تو نہیں جھکتے تھے، مگر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کے سامنے خم ہوجاتے تھے…. وہ مشرکین تھے جو سر سے لے کر پاﺅں تک تکبر و غرور سے بھر پور تھے…. اور دوسری طرف وہ مومنین کامل تھے، جن کے دل ایمان و ایقان کے نور سے روشن تھے….وہ مومنین تھے جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ بلند عزائم رکھتے تھے…. وہ صاحبان ایمان و ایقان تھے، جن کے پاس صرف اور صرف دو گھوڑے،چھ زرہیں اور آٹھ شمشیریں تھیں….وہ مومنین تھے ، جو دنیا بھر کی تقدیر پلٹنے آئے تھے۔

تھے اُن کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں
پلٹنے آئے تھے یہ لوگ…………….. دُنیا بھر کی تقدیریں
نہ تیغ و تیر پہ تکیہ……………. نہ خنجر پر نہ بھالے پر
بھروسہ تھا تو اِک ………………..کالی کملی والے پر

اُدھر بت پرست تھے،اِدھرحق پرست تھے…. اُدھر کافر تھے، اِدھر مومن تھے …. اُدھر ظلمت تھی اِدھر نور تھا….اُدھرظلم وجفا والے تھے،اِدھر صدق و وفا والے تھے…. اُدھر ساز و سامان والے تھے،اِدھر ایمان ایقان والے تھے…. اُدھرجہنمی تھے،اِدھر جنتی تھے….اُدھر اہل شیطان تھے،اِدھر اہل رحمان تھے…. اُدھر انسانیت کے تخریب کار تھے، اِدھر انسانیت کے معمار تھے…. اُنہیں سامانِ حرب و ضرب پر ناز تھا، اِنہیں تاج دار عرب و عجم پر ناز تھا۔ اُنہیں نیزے و تلوار پر بھروسہ تھا اور اِنہیں کالی کملی والے پر بھروسہ تھا۔

کھڑے تھے اُس طرف سب نفس و شیطان کے بندے
صفیں باندھے کھڑے تھے اِس طرف رحمان کے بندے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں