بھیانک فتنوں سے بچیں کیسے۔۔؟؟

فتنے ہیں کہ حدیث مبارکہ کے عین مطابق ٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح آتے چلے جا رہے ہیں.
کچھ عرصہ قبل ایک پوسٹ میں عرض کی تھی کہ بچوں کے ساتھ بدفعلی کے حق میں “فلسفے” پر مبنی کتاب مارکیٹ میں آ گئی ہے. کل ہی برطانیہ میں ایک خیراتی ادارے نے بچوں میں جنسی دلچسپی رکھنے والے درندوں کو “مریض” قرار دے کر انکے لئیے بچوں سے مشابہہ “سیکس ڈالز” امپورٹ کرنے کی کوشش کی جنہیں ایئرپورٹ پر روک لیا گیا. اب وہاں یہ بحث چل رہی ہے کہ” مریضوں” کو ڈاکٹری نسخے کی بنیاد پر اس “دوا” کی اجازت دی جائے تاکہ اصلی بچے محفوظ رہیں….!!!
بیوقوفوں، گردن مارو ان خبیثوں کی تاکہ ان فضول چکروں میں پڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے.

ادھر کینیڈا والے کہتے ہیں کہ جانوروں سے بدفعلی بھی کوئی جرم نہیں.

پھر فرانس میں ایک امام مسجد ہے جو اعلانیہ ہم جنس پرست ہے اور 2012 سے اپنے پارٹنر کے ساتھ رہ رہا ہے. مسجد خصوصاً قوم لوط کے پیروکاروں کیلئے ہے اور عورتیں اور مرد شانہ بشانہ نماز پڑھتے ہیں. یہ امام ساب برلن میں ایک خاتون کو کسی چرچ میں ایسی ہی ایک مسجد بنانے کیلئے مشاورت فراہم کر رہے ہیں…!!!

اور پھر لبرل ازم کے فلسفے کے مطابق باہمی رضا مندی سے خونی رشتوں کے مابین غلط تعلقات پر پابندی کی بھی کوئی “ٹھوس بنیاد” موجود نہیں؛ لہٰذا اسکی ترغیب بھی مختلف حیلوں بہانوں سے جاری ہے…!!!

ایک دوست بتا رہا تھا کہ مغرب میں اگر آپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ ہم جنس پرستی ایک لعنت اور قبیح فعل ہے اور بچہ یہ بات کہیں سکول میں جا کر کہہ دے تو “حقوق اطفال” کا محافظ ادارہ آپکے گھر پہنچ جائے گا اور اس بچے کو “ریڈیکل” بنانے کے جرم کی پاداش میں آپ جیسے “انتہا پسند”، “بنیاد پرست” اور “دہشتگرد” والدین سے الگ کر دے گا…!!!
……..

مطمئن ہونے کی صورت نہیں….ٹھیک ہے کہ یہ عالمی گاؤں کے دو چار چودھریوں کے گھروں کی بات ہے لیکن یاد رکھیں کہ چودھریوں کی باتیں ہم جیسے “کمّیوں” تک پہنچتے دیر نہیں لگتی…!!!
……..

پھر ہم کیا کریں؟

زیادہ جذباتی ہو کر ناقابل عمل منصوبے بنانے کی ضرورت نہیں. شروعات کیلئے سب سے پہلے میں خود یہ عہد کرتا ہوں اور آپ سب کو اپنے ساتھ یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ:

1. آج سے میں ہر حال میں اپنے بچوں کے ساتھ کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ضرور گزاروں گا جس میں ہم وہ کام کرینگے جو بچے کہیں گے (کوالٹی ٹائم) … ان شاءاللہ

2. میں اپنے گیارہ سال سے بڑے بیٹوں کو اور میری بیگم گیارہ برس سے بڑی بیٹیوں کو سیکس ایجوکیشن خود فراہم کرینگے…. ان شاءاللہ

3. میں کسی بھی صورت میں بچوں کو موبائل، کمپیوٹر اور ٹی وی کے آگے تنہا نہیں چھوڑوں گا… ان شاءاللہ

4. “ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا… ”
اور
“رب اجعلنی مقیم الصلاۃ و من ذریتی…. ”

والی دعائیں باقاعدگی سے پڑھوں گا… ان شاءاللہ

فی الحال ان 4 نکات پر عمل کی توفیق اور مدد میں اللہ سے طلب کرتا ہوں.

یا حیّ، یا قیّوم، برحمتک نستغیث….
(آمین)

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں