جمہوریانہ جہالت

ڈولفن کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک ہو یا دیگر جانوروں کے ساتھ قبیح فعل، پاکستان میں بچوں کی معصومیت کی پامالی ہو یا صدیوں سے بدترین روایات اور جہالت میں جکڑی عورتوں پر مظالم ہوں، ہمارے کسی پاکستانی یا مسلمان کا عالمی دہشت گردی میں ملوث ہونا ہو، یا کوئی اور بدترین ذلالت، ہم اپنے احتساب کے مرکز یعنی اپنے ضمیر، اور خدا کو چھوڑ کر مغرب کی مثالیں بطور دفاع لے آتے ہیں. مثلاً

دیکھو انھوں (مغرب امریکہ، یورپ ) نے بھی تو یہ کیا. انھوں نے بھی تو یہ بدبودار جرائم کئے. وہ تو ہم سے بھی برے ہیں. انکی پورن ویب سائٹس دیکھو. انکی عورتوں کی بے حرمتی دیکھو. انکا انصاف دیکھو.
یا یہ بھونڈا جواز آجائے گا کہ چند لوگوں کے جرائم یا قبیح حرکات کو اسلام یا مسلمانوں پر نہ تھوپا جائے.
یا ظالم تو مغرب ہے امریکہ ہے تو مجبوراً لوگ ری ایکشن دینگے.
یا یہ تو ان لوگوں کا ایجنٹوں کا کام ہے وہ پاکستان اور مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں. اس طرح کی درجنوں بیکار، بے معنی اور جہالت پر مبنی دلالی دلائل لوگ اگلتے رہتے ہیں.

سوال اپنے آپ سے یہ کریں کہ آپ نے اللہ کو جواب دینا ہے یا امریکہ یا یورپ کو؟
آپ مسلمان ہیں یا کوئی امریکن یا گورا؟
خدا کو آپ مانتے ہیں یا وہ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کے دعوے آپ کرتے ہیں یا وہ؟
جنت میں آپ جانا چاہتے ہیں یا وہ؟

پھر یہ رزدیلی کمی پن کیوں؟

کیا چند مسلمانوں کے بجائے ہزاروں لاکھوں لوگ بچوں کی معصومیت کچلیں گے تب آپ اسے “بڑا” سنگین گناہ تسلیم کریں گے؟ کیا ہر جانور ہمارے جبلتوں کا شکار بنے گا تب ہم اسے برائی سمجھیں گے؟ کیا ہر عورت پر تشدد ہوگا ہر عورت کا قرآن سے نکاح ہوگا تب ہماری اخلاقیات جاگیں گی؟ کیا سو فیصد دہشت مسلمان کرینگے تب ہم تسلیم کرینگے کہ ناحق قتل غیر اسلامی ہے؟ برائی تو برائی ہے چاہے ایک انسان کرے یا کروڑوں، ہمیں بطور مسلمان اسے برا ماننا ہے اور اسکے خلاف کھڑا ہونا ہے. کیا اللہ کے نزدیک ایک نیکی بے معنی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک برائی کیسے بے معنی اور کمتر ہوجائے گی؟

شاید ہم تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتے. ہم آنکھیں بند کرے اپنے اپنے تعصبات کے بنکر میں قید ہیں. سیاستدانوں کا احتساب کوئی کرنے کی جرات بھی کرے تو ماتم شروع، ہم ہی کیوں؟ فوج کیوں نہیں؟ کوئی فوجی میجر بالفرض معطل بھی ہوجائے تو حب الوطنی جاگے گی یہ ہماری فوج کو شہادتوں کا صلہ ملا؟ ایک وکیل کو لاٹھی پڑ جائے تو سارے وکلاء اپنے سامنے آنے والے ہر کسی کا سر پھاڑ دینگے.. ہمیں کیوں ہاتھ لگایا؟

صحافیوں کے کرتوت سامنے آئیں تو وہ بلبلا اٹھتے ہیں ” چند” کالی بھیڑوں کی وجہ سے صحافی برے نہیں ہوگئے. ڈاکٹر کو بتاؤ کہ یہ ہڑتال غیر انسانی ہے وہ آگے س تاویلات کا انبار لگا دیتے ہیں. جان بچانا آپکی ذمہ داری ہے کہ نہیں؟ اپنا فرض بھی کسی چڑیا کا نام ہے؟ ضمیر کیا جواز ہی تراشنے کی مشین ہے؟ آپ کا بنیادی رویہ اپنا احتساب ہونا چاہئے نہ کہ دوسروں کی برائیوں سے اپنا مقابلہ کرنا.

کیا ہر شعبے میں ہر بندہ کرپٹ، برا کمینہ گھٹیا ہوگا تب ہم اپنا زوال تسلیم کرینگے؟ تب بھی نہیں کرینگے. اپنی غلطی ماننے کو معافی مانگنے والے کو اللہ نے اسی لئے بہت بڑا مقام دیا. وہ رجوع کرتا ہے. وہ دوسروں کو ملامت نہیں کرتا. حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ سے معافی مانگ لی تھی جواز تراشنے پر سزا ملی تھی. حضرت موسی کو جلا وطن ہونا پڑا تھا کہ ایک ناحق کو مار بیٹھے. یہ تو پیغمبر تھے آپ کس کھیت کی سڑیل مولی ہیں؟ جو اپنی ذمہ داریوں کی ذمہ داری لیتا ہے خدا اسکے ساتھ ہے.

کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ نے نیکیوں، اچھائیوں یا برائیوں کو گن کر اچھے برے انسان کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ یا وہ قیامت کے دن ایسا کیوں نہیں کرے؟ میزان پر وزن پر فیصلہ کیوں ہوگا؟

کیونکہ تعداد تو بیرونی ذریعہ ہے. یہ تو اس دنیا میں انسانوں کے معیار کی جانچ کا واسطہ ہے. خدا نیت اور خلوص کی پڑتال پر قادر ہے. ہم انسان کی نیت اور خلوص کی جانچ پر مکمل قادر نہیں ہیں. ادھر ہم دوسروں کی برائیاں گن رہے ہوتے. اپنی برائیوں کے جواز تراش رہے ہوتے. ہمیں اسی طرح دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر مار پڑتی رہے گی.

کیا ہمارے خاندان میں ایک بھی rapist نکل آئے تو ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لے گئیں کہ ایک ہی تو تھا. کیا پورے معاشرے میں وہ خاندان بد نام نہیں ہوجائے گا؟. حقیقت میں ہم میں سے “چند لوگ” نہیں بلکہ بہت زیادہ لوگ برے اور بد اخلاق ہیں ورنہ اتنے زیادہ مسلمانوں کی اتنی برباد شدہ حالت نہ ہوتی.

برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکی برائیوں کو جواز دینے والے اسی وطن عزیز میں کثرت میں ہیں.

شیئرکریں
mm
ثاقب ملک ٹی ٹی آئی کے اعزازی لکھاری ہیں۔ ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں