جمہوریت کا حسن

جمہوریت اور میرے قصے کی ابتدا ۲۰۰۸ میں ہوئی جب پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ اس وقت میری عمر دس سال تھی، یعنی میں ایک کمسن بچہ تھا جو جمہوریت کے وجود سے ہی آشنا نہ تھا۔ نظام جمہوریت کے ثمرات بلاواسطہ مجھ تک منتقل ہوتے تھے لیکن میں جمہوریت نامی شے سے واقف نہ تھا چنانچہ یہ محبت یکطرفہ تھی۔ ہماری پہلی ملاقات کمرہ جماعت میں اس وقت ہوئی جب میں نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ اس ملاقات کے دوران یک بعد دیگر جمہوریت کے مختلف پہلوؤں سے واقفیت ہوتی گئی۔ ان میں سے ایک اہم ترین پہلو “عوام کو جوابدہی” کا تھا، اور اسی مائنڈ سیٹ سے متاثر ہو کر میں نے جمہوریت کو بہترین نظام حکومت اور جمہوری مائنڈ سیٹ کو وقت کی اہم ضرورت جانا۔ یہاں حکمران وقت ایک محدود مدت تک ملکی وسائل کو امانت جان کر صداقت کے ساتھ خود کو عوام کا خادم جان کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اور عوام کے حضور جوابدہ ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لیک ہونے والے پاناما پیپرز نامی خفیہ دستاویزات نے عالمی سیاست میں ہلچل مچادی، اس کی بدولت متعدد ممالک کے سربراہان کی ٹیکس چوری اور کرپشن منظر عام پر آگئی۔ متعدد نامزد غیر ملکی سرکاری عہدے داران احساس ندامت کے باعث اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ پاکستانی وزیراعظم اور ان کے بچوں کا شمار بھی پاناما پیپرز میں آنے والے ناموں میں ہوا، جس کے​ نتیجے میں مخالف جماعتوں اور اپوزیشن نے خوب مذمت کی اور میڈیا اور ایوانوں میں اس کا خوب ڈنکا بجا۔ عمران خان اینڈ کمپنی کے طفیل یہ شوروغل سپریم کورٹ تک  پہنچا ۔ اس معاملے کو لے کر جناب وزیراعظم صاحب نے پی ٹی وی پر اور قومی اسمبلی میں تقاریر کی صورت میں رقم کی منتقلی کی وضاحتیں دیں، لیکن اس کیس میں ان کی پوزیشن تاحال مستحکم نہیں ہو سکی کیونکہ وہ کوئی ٹھوس شواہد دستاویزات کی شکل میں پیش نہ کر سکے ہیں اور بلاشبہ اک خط پر  اکتفا کرنا قطعاً ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے پانچ ارکان​ پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے اس کے سامنے پیش ہوئے اور اب وہ خود پیش ہونے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل ماضی میں وزرائے اعظم سپریم کورٹ کا حکم بجا لاتے ہوئے پیشی دے چکے ہیں جبکہ ایسا پہلی بار ہونے جا رہا ہے کہ وزیراعظم کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے حضور پیش ہونا پڑے گا۔ بقول عمران خان صاحب کے وزیراعظم صاحب کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے، اس کی وجہ وہ جے آئی ٹی افسران کا وزیراعظم کے ماتحت ہونا بتاتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو یہ وقت بھی زیادہ دور نہیں جب نواز شریف صاحب نے سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو حتمی فیصلہ آنے تک مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو زیر غور لایا جائے تو ایک بات ذہن میں آتی ہے ۔ وہی لوگ جنہوں نے انصاف کی تلاش میں سپریم کورٹ کا رخ کیا ، سپریم کورٹ کے حکم سے تشکیل پانے والی جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں یہ افسران وزیراعظم کے ماتحت کام کرتے ہیں، وہیں اک جمہوری نظام کے تحت اپنے فرائض کی ادائیگی آزادانہ طور پر کرتے ہیں۔ میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ وزیراعظم حاضر سروس ہوں یا مستعفی ہوں، جے آئی ٹی ملکی مفاد میں اپنی ذمے دارانہ تحقیقات مکمل کرے گی۔ میں مکمل طور پر غیر جانبدارانہ​ نظر سے اس معاملے کو دیکھتا ہوں اور اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ اب اتنا انتظار کیا ہے تو تھوڑا اور صحیح انشاللہ سپریم کورٹ کی جانب سے تاریخ رقم کرنے والا فیصلہ آئے گا جو قانون کی بالادستی کا ثبوت ہو گا اور کرپشن کے اس کلچر کو کم از کم کلچر نہیں رہنے دے گا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں