لیڈر وہ۔۔ جو بہادر ہو۔۔

کچھ سال قبل کی بات ہے ۔ آرام سے اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجنے سے آنکھ کھل گئی ۔ اسکرین پر نظر دوڑائی تو دوست کا نمبر جھلملا رہا تھا جو کہ ہمارا پڑوسی بھی ہے ۔ خیر فون اٹھایا تو کال کی دوسری طرف دوست کا چھوٹا بھائی تھا جو گھبرایا ہوا تھا اور بس اتنا کہا کہ جہانگیر بھائی جلدی گراؤنڈ پہنچو بھائی کی لڑائی ہوگئی ہے ۔
میرا لڑنے کا بلکل دل نہیں تھا پر اگر نا جاتا تو بڑی شرمندگی ہوتی کہ دوست مشکل میں تھا اور میں پہنچا نہیں ۔ لہذا چارونہ چار گھر سے نکل پڑا ۔ رستہ میں معلوم پڑا کہ خیر سے میرا چھوٹا بھائی عدیل بھی اسی گراؤنڈ میں ہے تو فکر مزید بڑھ گئی اور باقاعدہ گراؤنڈ کیجانب دوڑ لگادی ۔ وہاں پہنچا تو لڑائی تقریباً شروع ہوچکی تھی لہذا میں بھی کود گیا سامنے والے تعداد میں زیادہ تھے پر مجھے بھائی کی فکر تھی اسلئے انکے اندر تک چلاگیا ۔ ہمارا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور مخالف پارٹی بھاگنے لگی تھی کہ اسی اثنا چھوٹے بھائی پر نظر پڑی جو جھگڑے والے مقام سے دور کھڑا تھا لہذا تسلی ہوئی اور میں واپس اپنے کیمپ میں آنے لگا مخالفین دور تک بھاگ چکے تھے ۔ ابھی اپنے دوستوں کے پاس پہنچا ہی تھا کہ اک لڑکے نے بتایا کہ عدیل ان لڑکوں کے پیچھے بھاگا ہے کیونکہ کسی نالائق نے اسے بتایا کہ جہانگیر اکیلا لڑ رہا ہے ۔
گئی بھینس پانی میں . .. پھر سے الٹے قدموں بھاگا اور کسی طرح عدیل کو واپس لے آیا ۔ اتنے میں مخالف پارٹی کے مزید افراد آچکے تھے ۔ ایسے میں اک دوست احمد (فرضی نام) کہنے لگا جیسے میں کہوں ویسے کرنا سب ۔ ہم مل کر لڑیں گے ۔ یعنی وہ لڑائی میں ہمارا سپہ سالار بننا چاہا اور ہم نے بھی اسے علم تھما دیا کہ بھائی بن جا تو لیڈر ۔ اسی اثناء “دشمنوں” نے پتھراؤ شروع کردیا اب ہمارے لڑکے سب بھاگنے لگے اور سب سے تیز رفتار ہمارے لیڈر احمد کی تھی جو واپسی بھاگتا جارہا تھا اور سب سے کہ رہا تھا ” اوئے کوئی بھاگنا نہیں اوئے ” ۔
زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مجھے ڈر لگنے لگا ۔ الحمدللہ ماریں بہت کھائی ہیں پر لڑائی کے دوران کبھی بھاگا نہیں پر اس دن پہلی بار دل کانپ رہا تھا ۔ شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ ہمارا لیڈر بزدل تھا .. اور پھر جہانگیر صاحب نے ریورس گیئر لگا کر واپسی کیجانب دوڑ لگا دی ۔ میرا ضمیر نہیں مان رہا تھا پر خوف اتنا زیادہ تھا کہ گھر پہنچ کر ہی سانس لیا اور یوں پہلی بار کسی لڑائی سے بھاگنے کا “شرف” حاصل کیا ۔

اب آتے ہیں اس مقصد کیجانب کہ آپکو یہ واقعہ کیوں سنایا ۔
دیکھیں جناب !
لیڈر یا قائد وہ ہوتا ہے جو اپنے گروہ کا نصیب طے کرتا ہے ۔ انکے اخلاق سے لیکر بہادری اور کامیابی سے لیکر ناکامی تک یہ اک لیڈر کی بصیرت پر منحصر کرتا ہے ۔ لیڈر عمر فاروق (رض) جیسا ہو تو بے سروسامانی کے عالم میں بھی کوئی قوم دنیا فتح کرلیتی ہے اور اگر لیڈر بہادر شاہ ظفر جیسا ہو تو مغلوں جیسی بہادر قوم حاصل ملکیت بھی کھو دیتی ہے ۔ لیڈر اگر محمد علی جناح جیسا ہو تو ہندو اور انگریز گٹھ جوڑ بعد بھی قوم اپنا خطہ انکے سینے سے سے نوچ نکالتی ہے اور اگر لیڈر یحیٰ خان جیسا ہو تو اپنے جسم کا حصہ بھی قوم کھو دیتی ہے ۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ گیدڑ کو اگر شیروں کی فوج کی کمان دے دیجائے تو وہ اک گیدڑ شیروں کی پوری فوج کو بزدل بنادے گا ۔ اور اگر اک شیر کو بکریوں کی فوج دے دیجائے تو وہ شیر ان بکریوں میں بھی شیروں جیسا حوصلہ پیدا کردیگا ۔
لڑائی سے بھاگنے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ اپنا لیڈر ہمیشہ بہادر شخص کو مانوں گا پھر چاہے بات سیاست کی ہو یا مذہب کی ۔ فالو صرف اسے کریں جو بہادر ہو ڈٹ کر کھڑا رہنا جانتا ہو ۔ یہ لیڈر ہی ہوتا ہے جو اقوام کا مستقبل طے کرتا ہے ….

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں