ملحد ایاز نظامی اور در گذر

اگر ملحد ایاز نظامی اینڈ کمپنی نے مجھ سمیت کسی بھی مسلمان کی ذات کی کردار کشی کی ہے یا ہمارے والدین اور ہمارے حسب و نسب کو گالی دی ہے تو ہم تمام مسلمان اپنے آقا محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معافی و در گزر کرنے کی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے معاف کرتے ہیں جس کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات اور اپنے جانثار ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والوں کو فتح مکہ کے موقعے پر عام معافی دی،اپنے اوپر کچرا پھینکنے والی بڑھیا کو معاف فرمایا،حجتہ الوداع کے موقعے پر زمانہ جہالت کے قتل اور سود کو اپنے خاندان کی طرف سے معاف فرمایا،طائف کی وادیوں میں پتھر کھا کر اپنے جسم اطہر کو لہو لہان کروا کر بھی دعائیں دیں….لیکن جہاں مسئلہ دین حق کا اور مسلمانوں کے اجتماعی وجود کے تحفظ کا آیا تو وہاں پر کچھ یوں فرمایا کہ ” اگر یہ چار لوگ خانہ کعبہ کے غلاف میں بھی چھپے ہوں تو ان کی گردنیں اڑا دو ”

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ دین حق کی بلندی کی خاطر کافر کی گردن مارنے کے قریب تھے کہ اس کافر نے آپ کے چہرہ مبارک پر تھوک دیا اور آپ نے اسے چھوڑ دیا اور اس در گذر کی وجہ پوچھنے پر فرمایا کہ ہم اپنی ذات کے لیے نہیں لڑتے اور ہم عام مسلمان بھی سیدنا علی کی اس ادا پر عمل کرتے ہوئے کسی سے بھی اپنی ذات کی خاطر کوئی بغض اور عداوت نہیں رکھتے…

یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لوگ اس قسم کے درگذر کے واقعات کو بنیاد بنا کر عام مسلمانوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر معاملے میں معافی اور درگذر سے کام لیتے تھے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ جتنے بھی معاملات میں درگذر برتی گئی ان کا تعلق اپنی ذات سے تھا نہ کہ دین کے اجتماعی معاملات سےـ اس کے علاوہ کچرا پھینکنے والی خاتون کے حوالے سے کسی بھی صحابی نے یہ نہیں کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجیئے کہ ہم اس کی گردن اڑا دیں بلکہ گردن اڑانے کی اجازت والے تمام واقعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو اور انسانیت سے گری ہوئی غیر اخلاقی زبان کا استعمال کیا گیا تھا…

اصل میں یہ لوگ مسلمانوں کے بدن سے روح محمد نکالنے کے مشن پر گامزن ہیں اور ان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ ہر اسلام مخالف کے لیے درگذر کے مندرجہ بالا واقعات کا جا بجا ذکر کرتے نظر آئیں گے لیکن جونہی آپ نے ان کی شان میں یا ان کے کسی نام نہاد مرشدی یا کسی دیسی لبرلز کے کسی امام کی شان میں کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا تو ان کی ساری درگذر کی فلاسفی اور اخلاقیات دھواں بن کر اڑ جاتی ہے اور ان کے اندر کا اصل حیوان اپنی پوری حقیقت کے ساتھ غراتا ہوا باہر نکل آتا ہے لیکن ان کے مقدر میں ناکامی ہی ناکامی ہے دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی… ان شاء اللہ

” ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا ”

نوٹ:- ہم عام مسلمان ان بہروپیوں کی طرح صرف اجتماعی نظم کی بات زبانی کلامی نہیں کرتے بلکہ اجتماعی نظم پر یقین رکھتے ہوئے ریاست سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایاز نظامی اور اس کے سہولت کاروں کو تمام عدالتی تقاضے پورے کرتے ہوئے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اپنی عدالت نہ لگا سکے اور سماج کو فساد فی الارض سے بچایا جا سکے…

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں