معلوم کی حد سے آگے

گزشتہ کچھ دنوں میں وطنِ عزیز کی پاک سرزمین کو دہشت گردوں نے خون سے لال کردیا ہے۔ دہشت گردوں نے ملک کے تینوں صوبوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ دہشت گردوں نے پہلے صوبہ پنجاب میں زندہ دلانِ لاہور کو سوگ میں مبتلا کیا۔ ابھی یہیں کی گھتیاں نہیں سلجھ سکیں تھیں کے خیبر پختون خواہ دلخراش چیخوں سے گونج اٹھا، ان چیخوں کی خراشوں سے ابھی لہو رس ہی رہا تھا کہ سندھ کہ شہر اور بزرگانِ دین حضرت لال شہباز قلندر کے حوالے سے جانا جانے والے شہر “سہون شریف” کو دہشت گردوں نے خون سے لال کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق ابتک ان دھماکوں کی ذد میں اپنی جانوں کا نقصان اٹھانے والوں کی تعداد 150 کے آس پاس ہوسکتی ہے اور اس سے تین گنا زیادہ تعداد زخمیوں کی ہوسکتی ہے۔

موجودہ دہشت گردوں کی کاروائیوں کو دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں کہ کوئی “ضربِ عضب” نامی آپریشن ہوا ہے یا پھر بھارتی جاسوس پکڑے گئے ہیں اور بلوچستان میں پڑوسیوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ دہشت گردوں کی ان ہیبت ناک کاروائیوں کی صورت میں ہمیں یہ آگاہی دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم آپکی “معلوم کی حد سے آگے ہیں”۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمارے پڑوسی ملک کے جاسسوں کو پکڑتے ہیں ان سے معلومات بھی لیتے ہیں مگر ان کی معلومات پر عمل کی کیا نوعیت ہے ان دھماکوں نے عوام کیلئے بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے۔

جہاں تک ان دھماکوں سے ہمارے حفاظتی اداروں کے اقدامات کا اندازہ ہوتا ہے وہیں دوسرے طرف ہماری انتظامیہ کی کارکردگی کا پول بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے میں ہونے والے دھماکوں میں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی سہولیات میسر ہونے کے باعث ان زندگیاں محفوظ ہوگئیں۔ ان زندگیوں کو محفوظ بنانے میں ان صوبوں کی حکومتوں کا بھی کردار ہے کہ ان کی بدولت ایسے زندگیاں محفوظ بنانے والے ادارے بمع سہولیات کے قائم کر رکھے ہیں دوسری طرف سہون شریف میں ہونے والی اموات کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں بروقت طبی امداد میسر نہیں آئی۔ اس کی ذمہ داری دبئی کی قیادت میں چلنے والی ہمارے ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کے سر جاتا ہے جو سالہا سال سے صوبہ سندھ کی خدمت پر معمور ہیں مگر دلی دکھ کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ انہوں نے اپنے محلات تو ایسے بنا رکھے ہیں جیسے دبئی ہی ہو مگر انکو ووٹ دینے والے اپنی زندگیاں اس لئے ہار گئے کہ ان کے ہسپتالوں اور طبی اداروں کا پیسہ ان محلات کی تزئن اور آرائش میں صرف ہوگیا۔ اس علاقے اور پورے سندھ میں شائد ہی کوئی ایسا ادارہ موجود ہو، جہاں ایسی کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

اللہ ہمارے ملک پر اور ہم تمام پاکستانیوں پر اپنی خصوصی رحمت نازل فرمائے (آمین) مگر کیا ہم پر یہ واضح نہیں کر دیا گیا ہے کہ “اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جسے اپنی حالت بدلنے کی خود فکر نا ہو”۔یعنی فیصلہ قوم نے ہی کرنا ہے۔

آخر ایسا کیا ہو گیا کہ ایک دم سے ہمارے پڑوسی ملک سے بھیجے ہوئے دہشت گردوں کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہمارے ملک میں عسکری قیادت کی تبدیلی ہوئی ہے۔ اس عسکری قیادت کی تبدیلی کو ابھی ڈھائی ماہ کا عرصہ ہوا ہوگا۔ لگتا یہ ہے کہ دشمن نے ہماری نئی عسکری قیادت کا امتحان لینا شروع کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے اس افسوسناک واقعہ کا علم ہونے کہ بعد ہم صرف اتنا ہی لکھ سکے “یا اللہ ہم پر رحم فرما” جس پر ہمارے دوست احباب نے “آمین” لکھنا شروع کردیا۔ سوال یہ ہے کہ آمین کہہ دینا یا ہمارا بس دعا کر لینا کافی ہے۔؟ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ جہموریت کو بچانے والے کیا بچانے کیلئے جہموریت کا سہارا لے رہے ہیں، ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے۔ دکھ کی اس گھڑی میں یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں مگر ہم پر جو بیت رہی ہے اسکے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ جنکی وجہ سے ہمیں ان ناگہانیوں کی نظر ہونا پڑتا ہے۔

ہمیں بھی یہ لکھنا بہت اچھا لگتا ہے کہ “قوم دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے متحد ہے، قوم کے حوصلے بلند ہیں اور قوم ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے” مگر یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ قوم ہی قربانی کیلئے کیوں، قرض اتارو ملک سنوارو سے لے کر آج تک قوم ہی کیون قربانی کا بکرہ بنی ہوئی ہے۔ ہماری یہ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین، ہمارے معزز اسمبلیوں کے ممبران ساری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ان کی حفاظت پر لگے رہتے ہیں اور قربانی دینے کیلئے قوم متحد ہے اور قوم ہی قربان ہورہی ہے۔

دشمن کی سازشیں بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں مگر اربابِ اختیار معلوم نہیں کن معاملات میں مگن ہیں۔معیشت معیشت کا گن گایا جاتا ہے۔  پاکستانیوں کو ایک بار پھر خودکش حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کون ہمیں “معلوم کی حد سے آگے” لے کر جائے گا۔؟ کون دشمن کی کاروائی سے پیشتر اسکے سفاکانہ اور وحشیانہ عزائم خاک میں ملائے گا۔ اپنی صفوں میں اتحاد اور بھائی چارہ قائم کرلو اور دشمن کے دانت اپنی حوصلے اور ہمت سے کھٹے کردو۔ اللہ رب العزت ان حادثات کی زد میں اپنی جانوں سے جانے والوں کی مغفرت کرے اور خصوصی طور پر انکے لواحقین کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے (آمین)۔

شیئرکریں
mm
خالد زاہد نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے، شعر و شاعری کا شغف رکھتے ہیں اور آرٹیکل / بلاگز تحریر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں