مرزا غالب: اردو اور فارسی کے عظیم شاعر

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ اور والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ مرزا غالب 27دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے, پانچ برس کی عمر میں یتیم ہو گئے ,آپ کے والد محترم نے 1802ء, راج گڑھ کی جنگ میں گولی لگنے سے وفات پائی۔ مرزا غالب کے خاندان کا وظیفہ نواب احمد بخش خان نے انگریزوں سے مقرر کرایا۔ آپ والد کی وفات کے بعد چچا کے ہمراہ رہے اور چار سال بعد 9 سال کی عمر میں آپکے چچا کا سایہ بھی آپ کے سر سے اٹھ گیا- 9اگست,1810ء کو تیرہ سال کی عمر میں آپکی شادی نواب احمد بخش کی گیارہ سالہ بیٹی امراء بیگم سے ہوئی, 1813ء میں آپ نے اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہا اور دہلی چلے آئے- شادی کے بعد حالات کی تنگی اور قرض کے پیش نظر قلعے میں ملازمت احتیار کر لی۔ شروع میں فارسی اور مشکل اردو کے اشعار لکھے آپکا تخلص اسد رہا تاہم معاصرین کے طعنوں کے بعد شاعری کا رخ ہی بدل ڈالا اور ایسا بدلا کے کوئی اور شاعر ان کا مد مقابل ہو ہی نا سکا- 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے آپ کو نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوا، جنگ آزادی 1857 ء کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہوگئی۔ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے خط لکھا انھوں نے 100 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادمِ حیات ملتا رہا۔

مرزا غالب نے لڑکپن ہی سے اشعار کہنے شروع کر دیے تھے, آپ سے پہلے شاعری فقط دل و نگار کے معاملات تک ہی محدود ہوا کرتی تھی, آپ نے اس, روایت کو توڑ کر شاعری میں فکر و سوالات کی آمیزش کی, شاعری کو لامحدودیت بخشی, انسان اور کائنات کے مسائل اور ان پہ غور وفکر کا پہلو سامنے نکال کر رکھا, رمومانیت, رندی, تصوف, روزمرہ کے معاملات, فکر معاش, انکساری, شوخی محبت اور زندگی سے وابستگی کی آپ کے اشعار میں روح ملتی ہے- مرزا غالب کا زندگی کو کھلے اور ایک مختلف قسم کے زاویوں سے دیکھنا, پرکھنا, معاملات اور تجربات اور تجزیات کو شاعری میں کھلے اور سلیس الفاظ میں بیان کرنا انکا کمال رہا ہے, آپ کی شاعری میں جو حالات, رنج و الم, اداسی, تنہائی اور ویرانی کی جو جھلک آتی ہے وہ صرف آپ کی ذاتی زندگی اور حالات کے عکاس نہیں بلکہ وہ اس عہد, سماج اور اس ماحول کے آئینہ دار ہیں جنکو بڑی خوبی اور سادہ اسلوب میں آپ نے اشعار کی زمیں پہ بسا ڈالا- مرزا غالب کے پہلے استاد تو مدرسے کے ایک مولوی محمد معظم تھے اسکے بعد دوسرے استاد ایرانی اور فارسی شاعر ملا عبدالصمد ہوئے, غالب کا تخلص پہلے اسد اور پھر غالب رہا اور ایسا رہا کے پھر آج تک اسے کوئی مغلوب نا کر سکا, اردو شاعری کو نئے رجحانات سے روشناس کرانے والے غالب شاعر اردو ادب میں ہمیشہ غالب ہی رہیں گے-

مرزا غالب کے سات بچے بچیوں کی ولادت ہوئی لیکن کوئی بھی پندرہ ماہ سے زیادہ عمر نا پا سکا, آپ غالباً 1868ءکے آخری ایام میں یا 1869ء کے شروع میں بیمار پڑھ گئے اور 15 فروری 1869ء کو دہلی میں زندگی کی بازی ہار گئے- 4فروری 1870ء کو غموں سے چور, قرض سے نڈھال, پہلی برسی کی تیاریوں میں گم آپکی بیگم بھی انتقال کر گئیں-

مرزا غالب ایک طرح کے شاعرِ آخرالزماں ہیں جن پر ہزار ہا سال کی اردو اور فارسی شاعری کا خاتمہ ہوا، بقول ان کے اپنے الفاظ میں:

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

آپکا یہ دعویٰ آج تک مانا جاتا ہے کہ غالب نے مشکل سے مشکل موضوعات کو نہایت سادہ اور سلاست کے ساتھ بیان کر کے شاعری کو باکمال کر دیا، آپ کا نام رہتی دنیا تک غالب ہی رہے گا-

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں