جماعت اسلامی ایم کیو ایم رومانس اور رقیب کی عرضی

کہا جاتا ہے کہ تصویر الفاظ سے زیادہ پر اثر ہوتی ہے۔ آج میرے سامنے کئی تصویریں ہیں۔ جناب منور حسن کی منصورہ میں فاروق ستار اور جناب نعیم الرحمن کی مئیر کراچی وسیم اختر کے ساتھ ادارہ نور حق میں ملاقات کی تصاویر۔ ایک تصویر جس میں سیاست کا رنگ نظر آرہا ہے۔ ایک ایسی تصویر جو جمہوریت کے تمام رنگوں پر مشتمل بہترین فن پارہ ہے۔ ایک تصویر جسے سمجھوتے کا بہترین استعارہ اور مصلحت کا عظیم اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ محض چند تصاویر نہیں، یہ ایک عہد کی تاریخ ہے۔ ایک سیاہ دور کی تاریخ جسے ہم کراچی کے اس وقت سے شناخت کرتے ہیں جب قائد تحریک کیلئے ان کی سالگرہ کا تحفہ کسی پاکیزہ لہو کی بھینٹ سے دیا جاتا تھا۔ ہر چند کہ آپ اس وقت ان تمام سطور کو شاید کسی بے عقل کی جذباتیت سے تعبیر کر رہے ہوں گے مگر حقیقت چشم کشا ہے۔ حقیقت جو عیاں ہے ان جنازوں سے جو اسی شہر کی جامعات سے اٹھے اور ان کے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں ہی کے راستوں سے گزر کر اپنی ابدی منزل کو روانہ ہوئے۔ سیاست دنیا بھر میں کی جاتی ہے اور سیاسی حریف کا یہ تصور بھی ہر جگہ رائج ہے۔ جو نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے وہ سیاسی حریف اور کھلے دشمن کے درمیان فرق ہے۔ جس گروہ کی لسانی بنیادوں پر عسکری کاروائیاں اور غیر ملکی امداد کے شواہد موجود ہوں، جس کے درندے آپ کے لوگوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہے ہوں، جو انتخابات کے دوران محض آپ سے بائیکاٹ کروانے کیلئے پورے کراچی میں کئی شہادتوں کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہوں، جو خدمت خلق فائونڈیشن کی ایمبولنس میں اسلحہ بھر کر جامعہ کراچی میں داخل ہوتے ہوں اور مسجد سے نکلتے اسامہ بن آدم اور عبدالجبار کو شہید کرتے ہوں وہ کس قسم کی سیاست کر رہے ہیں اور کس بنیاد پر سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں ؟ یہ کیسے سیاسی حریف ہیں اور سیاست کے کن اصولوں کی بنیاد پر مخالف پر حملے کرنا ان کا طریق ہے؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ سراج الحق صاحب پی پی پی کی بہترین سیاست پر بیان دیں اور مسلم لیگ کے ساتھ ملک کی بہتری کیلئے کام کرنے کا عزم کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمران خان کے ساتھ اتحاد کریں اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کریں۔ یہ تصاویر سیاست کی تصاویر ہیں جن میں کوئی درندہ نظر نہیں آتا اور کسی ماں کی بددعائیں اور کسی گھر سے اٹھتے جنازے نہیں ہیں۔ یہ تصاویر کسی سیاہ دور کی نمائندگی نہیں کرتیں کہ جس میں کسی کی دھمکی پرپورا شہر بند کرا دیا جاتا ہو۔ یہ ڈرل مشینوں اور ہتھوڑوں کی تصاویر نہیں۔ یہ مشین گنوں اور ٹی ٹی پسٹل کی تصاویر نہیں۔ یہ کسی لولے ،لنگڑے، اندھے، کانے، مرچی، مرزا کی تصاویر نہیں۔ یہ اردو بولنے والے مہذب طبقے کی مسخ ہوتی شکل کی روداد نہیں۔ مگر جب یہ غنڈے ادارہ نور حق آتے ہیں اور جماعت کی قیادت شہر کی بہتری کیلئے کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے تو کچھ اور تصاویر میرے سامنے آ جاتی ہیں۔ مجھے فرحان آصف کی تصویر یاد آتی ہے جس کے جسم پر موجود تشدد کے نشانات شمار کرنا ممکن نہیں تھا اور آلات تشدد کی اقسام تحریر کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں۔ مجھے واصف عزیز کی تصویر یاد آتی ہے جسے شہید کرنے کیلئے بیرون ملک سے غنڈے امپورٹ کئے گئے اور رات کی تاریکی میں اس کا لہو بیچ سڑک بہایا گیا۔ مجھے اسامہ بن آدم اور عبد الجبار شہید کی تصویر یاد آتی ہے جو جامعہ کراچی کی مسجد سے نکل رہے تھے اور باہر سے آئے غنڈوں نے انہیں شہید کر دیا۔ مجھے ڈاکٹر پرویز محمود شہید یاد آتے ہیں جو منافقت اور مصلحت سے انکار کرتے ہوئے ہر محاذ پر ان دہشت گردوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ اس فہرست میں نجانے کتنے نام ہیں اور کتنے گھرانے جو اس بربریت کا شکار ہوئے۔ میں جب اس شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے گورنمنٹ کامرس، سیفی کالج اور جامعہ کراچی کی جانب دیکھتا ہوں تو کئی تصاویر میرے سامنے آ جاتی ہیں۔ ان کشادہ پیشانیوں اور روشن مستقبل کی امید پر چمکتی آنکھوں کی تصاویر جنہیں انہی تعلیمی اداروں میں جماعت اسلامی کے سیاسی حریفوں نے شہید کر دیا تھا۔ ان چہروں کی تصاویر جو کچھ گھروں کا سہارا تھے اور ان لوگوں کی عصبیت کی نذر ہو گئے جو ادارہ نور حق آتے ہیں، شہر کی بہتری کیلئے تعاون کی اپیل کرتے ہیں، پر امن کراچی کی بات کرتے اور شہر کی ترقی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ جن کے ساتھ جماعت اسلامی کی قیادت بیٹھ کر پریس کانفرنس کرتی ہے اور شہر میں “تعمیر و ترقی” کیلئے ان کے ساتھ اپنے تعاون کی یقین دہانی کرواتی ہے۔ تو مجھے ایک تصویر نظر آتی ہے۔ بے بسی کی تصویر۔ مکاری کی تصویر۔ معصومیت کی تصویر۔ سیاسی مقاصد کی مکروہ تصویر۔ کسی کے ڈکٹیشن کی تصویر۔

شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

2 تبصرے

تبصرہ کریں