پردہ

بچپن میں ہمارے گھر میں بہت سارے بکرے بکریاں ہوا کرتے تھے ، میرے دادا ابو گاؤں والے ماحول کے عادی تھے لہٰذا جب تک کراچی میں رہے اپنی گاؤں والی ہی روٹین پر کاربند رہے . ہم بچوں کے لئے سب سے بہترین لمحہ وہ ہوتا تھا جب کوئی بکری بچہ جنتی تھی ، کیوں کہ اسکے بعد اسکے دودھ سے بنی ایک میٹھی ڈش جسے ہماری زبان میں ” بولی ” کہا جاتا ہے بنائی جاتی تھی ، پر ایک چیز جو بہت تجسس میں مبتلا کرتی تھی وہ یہ کہ جب بھی کوئی بکری بچہ جاننے والی ہوتی تو ابا جی ( دادا ابو ) چارپائیاں کھڑی کر کے چادر تان دیا کرتے تھے . اک بار ابو سے استفسار کیا کہ ابا جی ایسا کیوں کرتے ہیں تو ابو نے بس یہی کہا کہ ” بیٹا جانور بھی #پردہ کرتے ہیں ، اسلئے ہمیں انکی قدر کرنا چاہئے۔
اس وقت تو یہ بات بلکل سمجھ نہیں آتی تھی اور سچ کہوں تو تب مجھے پردہ کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا ، پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ آتی گئی کہ دنیا میں موجود تمام مخلوقات اپنی حرکات ، اعضاء اور آواز تک کے معاملے میں حساس ہیں اور اسے دوسرے سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں . جیسے حلال جانور بچہ جنتے ہوئے ، بلی اور کتا وغیرہ اپنے فضلہ کو مٹی سے چھپاتے ہیں . مرغی انڈا دیتے ہوئے کسی کونے گوشے کو تلاش کرتی ہے پرندے ملاپ کرتے ہوئے گھنے درختوں یا کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انکے نزدیک انہیں کوئی دیکھ نہ رہا ہو .
لہٰذا ایسے میں مرد و عورت کا اپنی شرم گاہوں کا پردہ کرنا انکی فطرت کا حصّہ ہے . اب وہ الگ بات کہ مرد و زن کے لئے پردہ کے تقاضے الگ ہیں . بحیثیت مرد جب نئی نئی جوانی آئی تو دوستوں سے پوچھا کونسے کالج مینن ایڈمیشن لیا جاۓ تو سب نے ایک ہی جواب دیا یار جس کے پاس ” لڑکیوں ” کا کالج ہو . اور ابھی گزشتہ روز جب چھوٹی بہن کے لئے کالج میں داخلہ لینا تھا تو گھنٹوں یہی چیز تلاش کرنے میں گزر گئے کہ کوئی ایسا کالج ہو جہاں آس پاس کا ماحول اچھا ہو ، میری بہن کسی کی چبھتی نظریں نہ سہے ، کوئی اسے جملے کس کر اعصابی تکلیف نہ دے .
یعنی بحیثیت بھائی اور بحیثیت ایک لاابالی نوجوان میرے رویہ میں زمین آسمان کا فرق ہے . جیس کی میں قدر کرتا ہوں اسے محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں اور جس سے میں محظوظ ہونا چاہتا ہوں اسے میں کم سے کم پردہ میں دیکھنا چاہتا ہوں . خیر الحمد الله جب الله پاک نے بہن سے نوازا اور بھائی ہونے کی ذمہ داری کاندھے پر آئی تو دوسروں کی بہنوں کی بھی ویسی ہی عزت کرنے لگا جیسے اپنی بہن کی کرتا ہوں . لہٰذا اگر کوئی پردہ کی حرمت کی بات کرتا ہے اپنی بہن کے علاوہ دوسروں کی بہنوں کو بھی پردہ کروانا چاہتا ہے تو اس سے بہتر شخص کون ہوسکتا ہے ؟ جو اپنے نفس کو مار کر اپنے اندر کے شیطان کا گل گھونٹ کر پردہ کی حرمت کی بات کرتا ہے .
اب آپ کہیں گے کہ یورپ و امریکہ میں بھی تو پردہ نہیں ہے وہاں بھی تو عورت آزاد ہے . تو جناب آپ نے شاید تاریخ نہیں پڑھی اور نہ ہی آج کے حقائق دیکھے ہیں ، یورپ و امریکہ نے عورت کو برہنہ کر کے نہیں بلکہ اپنی محنت سے ترقی کی ہے جب کہ عورت کو اپنی آزادی کی قیمت اپنی عصمت دری کی صورت چکانی پڑی ہے ۔ پاکستان میں ایک عورت کا ریپ ہوجاۓ تو مہینوں سر پر آسمان اٹھائے رکھا جاتا ہے ، جب کہ امریکہ جیسے ملک کی اپنی فوج میں موجود ہر پانچ میں سے ایک خاتون گینگ ریپ کا شکار ہو چکی ہے دیگر مغربی ممالک کے بھی سٹیٹسٹکس دیکھ لیجئے پر وہاں عورت ذات اپنی عصمت کا گلا گھونٹ کر خاموش ہوجاتی ہے کہ اسے جھوٹے زعم میں مبتلا رکھا گیا ہے کہ ” تم آزاد ہو ، اور آزادی کی کچھ قیمت تو چکانا ہی پڑتی ہے نا “.

قدر کیجئے ان مردوں کی جو جنس مخالف کے تحفظ کے لئے وہی سوچ رکھتے ہیں جو وہ اپنی بہن کے لئے ٹھیک سمجھتے ہیں اور احتیاط برتیئے ان شریر اذہان سے جو اپنے نفس کی تسکین کے لئے عورت کی آزادی کا نعرہ دے کر اسے برہنہ کرنا چاہتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں