آر ایس ایس اور پاکستان کو درپیش خطرات

آر ایس ایس۔۔۔ قارئین! پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ نام سنتے ہیں ذہن میں خوف، دہشت، قتل و غارت، دنگا، کاشی بلیرام بانی اور گولوارکر فساد، ہندو مسلم فسادات اورچاقوؤں جنجروں سے لیس دہشت ناک صورتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ آج اس مضمون کی وساطت سے ہم یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ ہندوستان کی یہ تنظیم جس کو “آر ایس ایس” کہا جاتا ہے، آخر ہے کیا؟ یہ تنظیم کب بنی؟ اس کے بانیوں میں کون کون شامل ہے؟ اس جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ہندوستانی کلچر و معاشرے میں اس کا کردار کیا ہے؟ کس حدتک ہندو معاشرے اس کے اثر و نفوذ میں ہیں؟ اور آخر میں پاکستان کو اس تنظیم سے کیا خطرات ہیں کا جائزہ لینے کی کوشش کرینگے۔

آئیے آغاز کرتے ہیں۔۔۔

یہ یکم اپریل 1889 کا دن تھا، ہندوستان کی ریاست مہاشٹرا کے ضلع ناگپور میں ایک معمولی سے گھرانہ بلیرام پنت ہیڈگوار اوراس کی بیوی رواتا کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام کاشی بلیرام ہیڈگوار تھا، کاشی بلیرام ہیڈگوار نے ابتدائی تعلیم ناگپور سے حاصل کی، ثانوی تعلیم کے لئے وہ پونے (مہاراشٹرا کا ایک ضلع) گیا ۔ میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1910میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کولکتہ گیا جہاں انڈین میڈیکل کالج سے 1914 میں ایل ایم اینڈ سی کے امتحانات پاس کئے، بعد ازاں اس کے اگلے ہی سال یعنی 1915 میں واپس ناگپور آکر ڈاکٹری کا پیشہ اپنایا۔ 1920 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے سیاست کا آغاز کیا لیکن وہ کانگریس کی سیاسی نظریات سے ہم آہنگ نہ ہوسکا۔ اس کی شمولیت کے تین سال بعد ہندوستان میں 1923 میں ہندومسلم فسادات ہوئے ان فسادات میں ہیڈگوار نے محسوس کیا کہ ہندو قوم کو اپنے تشخص اور ساکھ کے لئے لڑنا ہوگا، ہیڈگوار ہندوستان کے ہندو قوم پرست دانشور لوک منایا گنگادر تیلک اور وینایک دومودار ساورکر (جنہوں نے ہندو قوم پرستی کا پیج بویا اور ہندوؤں کی نشاۃ ثانیہ جدید کی بنیاد رکھی) کے نظریات سے متاثر تھا۔  کاشی بلیرام ہیڈگوار نے محسوس کیا کہ وقت قریب ہے کہ ہندو قوم کو یکجا کیا جائے انہیں ان کی تاریخی اصلیت سے روشناس کیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے 27 ستمبر1925 کو پاگپور انڈیا میں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی بنیاد رکھی۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے اصل بانی تو ہیڈگوار کو کہا جاتا ہے، لیکن اس کے نظریاتی بانیوں میں لوک منایا گنگادر تیلک ، وینایک دومودار ساورکر شامل ہیں۔
آر ایس ایس کے رہنما ہیڈگوار، گولوارکر، ساورکر اور موہن بھگوت

آرایس ایس کا تنظیمی ڈھانچہ یوں مرتب شدہ ہے کہ تنظیم کا ایک صدر ہوتا ہے جسے ”سر سنچالک” کہا جاتا ہے ، یہ سرسنچالک پوری تنظیم کو چلاتا ہے۔بنیادی طور پر یہ ایک سماجی اصلاحی تنظیم تھی جسکا ممبر ہر ہندو بن سکتا ہے۔ یہ تنظیم ملک بھر میں پھیلے اپنے کیمپوں کے ذریعے سے سارے معاملات چلاتی ہے۔ ان کیمپس کو آپ علاقائی دفتر کہہ سکتے ہیں۔ ہندی میں انہیں ”شاکھا” کہاجاتا ہے۔ ان شاکھاؤں میں روزانہ سنگ رضاکار اکھٹے ہوتے ہیں،آپ ان شاکھاؤں کو اسکول کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ سکول میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اور یہاں معاشرے کا ہر طبقہ اور ہر عمر کا فرد ہوتا ہے ، یہاں روزانہ کی بنیاد پر ان کی اسمبلی (پریڈ) ہوتی ہے، ہر شاکھا میں باقاعدہ اساتدہ نامزد ہوتے ہیں جنہیں ہندی میں سنکھ پرچارک کہا جاتاہے۔ یہ پرچارک آرایس ایس کے ہندو قوم پرست نظریات پر مبنی لٹریچر پڑھاتے ہیں، اور شاکھا کے امور چلاتے ہیں، یہاں ایک باقاعدہ منظم طریقے سے رضاکاروں کی نظریاتی تربیت ہوتی ہے، انہیں ہندوتوا (جو ایک ہندو قومیت کا نظریہ ہے) کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے، فکری تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں عسکری تعلیم بھی دی جاتی ہے، جس میں اسلحہ چلانا، فوجی ٹریننگ وغیرہ شامل ہے۔ اس تنظیم کے رضاکار مخصوص وردی پہنتے ہیں ، خاکی نیکر ، سفید شرٹ ، کالی ٹوپی اور چمڑے کے جوتے ان کی آفیشل وردی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 تک ملک بھر میں 51,335 کے قریب شاکھائیں یا کیمپس ہیں۔ اور ان کی تعداد اور ممبرز میں دن بدن اضافہ ہوررہا ہے، قریباً 500,000 (پانچ لاکھ) متحرک کارکنان اس کا حصہ ہیں۔ تنظیم سے ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ وابسطہ ہیں، ان میں ڈاکٹر، اداروں کے سربراہان، بنکرز، آئی ٹی انجینئرز، سکول کے اساتدہ، پروفیسرز، ریٹائرڈ فوجی اور پولیس افسران ، طلباء وغیرہ شامل ہیں۔ تنظیم کے مالی امور کو یہی لوگ چلاتے ہیں۔ انڈین میڈیا گروپ (ڈی این اے انڈیا) کے مطابق آر ایس ایس نے اپنے نظریات کو عوام الناس میں مشتہر کرنے کے لئے 38 ذیلی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں، ہر شعبہ کے لئے الگ سے تنظیم بنائی گئی ہے ان تنظیموں کے مجموعہ کو ”سنگ پریوار” کہا جاتا ہے۔ سنگ پریوار کی مرکزی تنظیم آر ایس ایس ہے۔ایک پورٹ کے مطابق سنگ پریوار سے 15 کروڑ ہندو جڑے ہوئے ہیں جو اپنی رضاکارانہ خدمات سنگھ کو دیتے ہیں۔ بی جے پی اسی سنگ پرویوار کا ایک حصہ ہے جس کا قیام 1980میں عمل میں لایا گیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014 کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی اور مرکز میں حکومت بنائی۔ بھارتی جنتا پارٹی کے قیام کا مقصد ہندو بنیاد پرستوں کو سیاسی نمائندگی دینا تھا۔نریندر مودی کا پسِ منظر بھی آر ایس ایس ہی سے ہے ۔آر ایس ایس نے ہندوستان کے دیہی علاقوں میں 27000 ہزار کے قریب سکول بنائے ہیں جن میں ہندو قوم پرست نظریات پر مبنی نصاب پڑھایا جاتا ہے، ان اسکولوں کا ایکھل ودھیالہ کہا جاتا ہے۔ ان اسکولوں سے 8 لاکھ طلباء منسلک ہیں۔
اس تنظیم کو اپنے قیام سے 22 سال برطانوی راج میں 24 جنوری 1947 کو پہلی بارپابندی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ پابندی چار روز تک برقرار رہی۔ بعد ازاں 1948 میں مہاتماگاندھی کے قتل کے الزام میں بھی اس جماعت پر پابندی لگائی گئی۔ ایک سابق آر ایس ایس کارکن نتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کیا تھا……لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ گاندھی کا قتل آر ایس ایس کی منظم سازش تھی۔اس کے بعد 1992 میں بابری مسجد کی شہادت میں آرایس ایس کی ذیلی تنظیم ویشوا ہندو پریشد کے ہاتھوں انہدام پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
آر ایس ایس کی عمارت ہندو قوم پرست نظریات کی بنیاد پر تعمیر ہوئی۔ مادو شدشیو گولوارکر کا شمار آر ایس ایس کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جس نے آر ایس ایس کی نظریاتی اور فکری راہ بنائی۔ اس جماعت کے افکار میں یہ شامل ہے کہ ہندوستان ہندوؤں کا دیش ہے یعنی”ہندو راشٹر” یہاں کے مسلمان بھی دراصل ہندو ہیں، جنہیں عربوں نے زورزبردستی مسلمان بنایا، اب ان مسلمانوں کو اپنے پرانے مذہب کی جانب پلٹنا ہوگا۔ اسی طرح ہندوستان دنیا کی سب سے پرانی تہذیب کا گڑھ ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کا قیام ایک جغرافیائی غلطی ہے جس کو درست کرنا ہوگا۔مسلم اور ہندو کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔ اکھنڈ بھارت اس کے بنیادی نظریات کا حصہ ہے جس کی تعبیر کے لئے پاکستان کودوبارہ ہندوستان کا حصہ بنا کر ہندوستان کو دوبارہ سے اصل جغرافیہ پر لے کر آنا ہوگا۔
آر ایس ایس اپنے نظریات کو مسلط کرنے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتی ہے، ہندوستان کی بہت سی دہشگردانہ کارائیوں میں اسی جماعت کا ہاتھ رہا ہے،یہ اپنے کارکنان کو بم بنانے اور لڑنے کی باقاعدہ تربیت دیتی ہے، ان کا عسکری ونگ سیفروں کے نام سے مشہور ہے جو دنگا فساد، دہشتگردی میں اپنا”کردار” ادا کرتا ہے……اس جماعت کی دہشتگردانہ سوچ کا مظاہرہ اس وقت ہوا جب 1948میں جماعت کے رکن نتھورام گوڈسے نے مہاتماگاندھی کو اس بات پر قتل کیا کہ گاندھی تقسیم کے وقت پاکستان کے حصے کی رقم 55 کروڑ پاکستان کے حوالے کرنا چاہتے تھے اور آرایس ایس اس کے خلاف تھی لہذا سازش کر کے گاندھی جی کو قتل کروا دیا گیا تاکہ پاکستان کو یہ رقم نہ مل سکے۔1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے دوران آرایس ایس کی ذیلی تنظیم ویشو و ہندوپریشد کے غنڈوں نے بابری مسجد کو شہید کیا۔آر ایس ایس کے دہشتگرد ملک کے کئی دہشتگردانہ کارائیوں میں مطلوب ہیں۔ان دہشتگردوں نے 2002 میں گجرات فسادات جس میں 2500 کے قریب مسلمانوں کو شہید کیاگیا ، ہزاروں بے گھر کیئے گئے اور مسلمان لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی اوریہ سب اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی ایما پر ہوا۔ 2006 میں مہاراشٹرا کے ضلع مالیگا، 2007میں حیدر آباد میں مکہ مسجد،2008 میں ممبئی دھماکے، 2013میں اتر پردیش ریاست کے ضلع مظفر نگر میں ہندومسلم فسادات …… ان فسادات اور بم دھماکوں میں اب تک ہزاروں مسلمان شہد ہو چکے ہیں۔
کلبھوشن یادیو بلوچستان میں جاسوسی کرتے پکڑا گیا جس کا تعلق مبینہ طور پر انڈین نیوی سے تھا

اب آخر میں اس بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مملکتِ خداداد پاکستان کو اس جماعت سے کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں آرایس ایس کا ہندوستان کی فوج سے تعاون کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا، جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ آرایس ایس ٹریننگ کیمپس میں عسکری تربیت حاصل کرتی ہے،اس ٹریننگ کا مقصد زمانہ جنگ میں ملک کا دفاع ممکن بنانا ہوتا ہے، 1962 میں جب چین اور ہندوستان میں اکسائی چن اور اروناچل پردیش کے سرحدی تنازعہ پر جنگ ہوئی تو آر ایس ایس کے سربراہ ایم ایس گولوالکر نے جواہر لال نہرو سے کہا کہ آرایس ایس اس جنگ میں فوج کے شانہ بشانہ کام کرے گی، عسکری محاذ پر تو ان کو اجازت نہیں دی گئی لیکن فوج کو ابتدائی طبی امداد، ٹرانسپورٹیشن، خون کے عطیات وغیرہ میں رضاکاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی آر ایس ایس نے خون کے عطیات کے لئے ملک بھر مہم چلائی اور ملک کے امن و امان کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر آر ایس ایس نے اندرا گاندہی سے مکمل طور پراپنی حمایت کا اظہار کیا۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ 1984میں گولڈن ٹمپیل میں سکھوں کے خلاف حکومتی قتل عام میں آر ایس ایس کے عسکری ونگ کا بڑا عمل دخل تھا۔کارگل جنگ میں آر ایس ایس نے فوج کے شانہ بشانہ کام کیا اور اپنی خدمات پیش کیں، زخمی فوجیوں کی طبی امداد کے لئے بارڈر پر کشمیر میں کیمپش لگائے گئے۔۔۔ چونکہ اس جماعت کا فلسفہ ہندوقوم پرستی پر مبنی ہے اس لئے جماعت کا مقصد ہندوستان کو ہندوراشٹ بنانا ہے اور اس عمل میں پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
آر ایس ایس کے موجودہ چیف موہن بھگوت نے انڈیا کے معروف صحافی پرابو چاولہ کو انٹریو کے دوران کہا کہ
” پاکستان کا بننا ایک غلطی ہے، اور اس غلطی کو درست کرنا ہمارا مقصد اولین ہے، اور ہم اس میں جلد کامیاب ہوجائینگے”۔۔ نریندر مودی کی جیت کے پیچھے کہاجاتا ہے کہ موہن بھگوت ہی کا ہاتھ ہے ، مودی کی جیت آر ایس ایس کی جیت تصور کی جاتی ہے۔ آر ایس ایس کا سیاسی ونگ یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی تاریخ کے اس موڑ پر ہے جو اس کا ملک پر طاقت ور ترین دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہندوستان پاکستان کو دشمن اول سمجھتا ہے اور اس کی خارجہ پالیسیوں کا بنیادی مرکز پاکستان کو توڑنا ہے۔ اس مقصد ہی کیلئے کلبھوشن یادو جیسے جاسوس بھیج کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اسی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے جو آرا یس ایس کے نظریات میں شامل ہے۔پاکستان کے دشمن اسرائیل سے سفارتکاری، افغانستان میں امداد کے نام پر پاکستان میں شورش برپا کرنے کی پالیسی۔۔۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جس کو انجام دینے کے لئے آر ایس ایس سازش کرتی رہی ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں