شکریہ راحیل شریف

بعض اوقات سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کریں۔ آج بھی یہی مسئلہ ہے کہ کچھ لکھنا ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہا کہ نقطہء آغاز کیا ہو کہ جس سے نکتہ بیان ہو۔

جناب راحیل شریف کی رخصتی سے کچھ قبل کا واقعہ ہے۔ ایک سہانی صبح، چائے پیتے ہوئے اخبار کی اوٹ سے مناظر فطرت سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک یہ خبر پڑھی، چیف آف آرمی اسٹاف نے چار خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔ بس وہیں ایک خیال آیا اور اسی خیال کی وجہ سے آپ یہ پڑھ رہے ہیں۔ خیال کچھ یوں تھا کہ شکریہ راحیل شریف۔ شکریہ اس بات کا کہ آپ نے مارشل لاء نہیں لگایا۔ شکریہ اس بات کا کہ آپ نے اس جمہوری حکومت کو چلنے دیا۔ شکریہ اس بات کہ آپ نے بھی اپنے آقا کی پالیسی پر دل و جان سے عملدرآمد کیا۔ شکریہ کہ آپ نے شمالی وزیرستان کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نذر کر دیا۔ آپ کا بہت شکریہ۔ آپ ہر جگہ نظر آئے۔ آپ کا شکریہ کہ دھماکے کی ہر جگہ آپ فوری نمودار ہوئے اور جنگ کرتے سپاہیوں کے ساتھ عید منانے پہنچے۔ بہت بہت شکریہ۔ اور اسی شکریہ کے ذیل میں احمدی قادیانی کا شور جس نے سارے شکریہ کا بیڑا غرق کر دیا۔ ابھی میں شکریہ ادا کر ہی رہا تھا اور بہت کچھ کہنا باقی تھا کہ فتووں کی لائن لگ گئی اور پتہ چلا کہ اب قادیانی ملک پر قابض ہونے کوہیں۔ ساجد میر کا فتوی اور باجوہ بلی کا بکرا۔ احمدی جنرل کی آمد کی نوید اور شکریہ ادھورا رہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دانشوران کہف اب جاگے ہیں اور گئے وقت کی تلافی کر کے ہی ٹلیں گے۔ سو اک طوفان امڈ آیا اور فتووں کی بارش تھمنے پر ایک آخری بادل گرجا جس نے ساجد میر کی معافی برسائی اور یوں یہ قصہ بھی تمام ہوا۔ ظاہر ہے اس تمام عرصے میں ہم سب ہی تماشائی تھے اور تماش بین دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کے شور و غل سے سرکس آباد ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو انہماک سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ میں خود کو موخر الذکر میں شمار کرتا ہوں ۔ بطور تماش بین مجھے یہ لگتا ہے کہ ہم علی عمران کی طرح حماقتیں کرتے کرتے اب ازلی احمق ہو چکے ہیں اور اب ہمیں کوئی حماقت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ خود ہی سرزد ہو جاتی ہے۔ ان حماقتوں کی بھی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سےایک جو آج کل مارکیٹ میں اِن ہے اسے سوال اٹھانا کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے لیپ ٹاپ کو چھوڑیں، گھر کے دروازے سے نکلیں اور باہر کا ایک چکر لگا کر آئیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتے اور میری طرح انتہائی سست الوجود اور کاہل واقع ہوئے ہیں تو اس بات پر فخر کرتے ہوئے ذرا نیا ٹیب کھول کر فیس بک پر جائیں اور کسی دانشور کی دیوار پر پھسل کر واپس آئیں۔ آپ کو میری بات سچ معلوم ہو گی۔ یہ آڑے ترچھے سوال ہی ملکی معیشت کے زوال کی بنیادی وجہ ہیں۔ جب پورے ایک سو ایک درجن لوگ شکریہ راحیل شریف اور قادیانی جنرل کا موازنہ کر رہے تھے اوراس سے پہلے اسی قبیلے کے کئی لوگ ٹرمپ کی آمد پر تبصرہ فرما رہے تھے۔ آپ نے ان سوالات کو دیکھا؟ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم غلط سوال کر کے درست جواب کی توقع کرتے ہیں۔ ٹرمپ ہو یا اوبامہ، اسلام دشمنی میں کون سی کمی آنی ہے؟ صلیبی جنگوں کا یہ تسلسل کس کے آنے سے ٹوٹ جانا ہے؟ امریکی خارجہ پالیسی میں کون سا صدر آ کر تبدیلی کر سکتا ہے؟ امریکہ نوازی میں ہمارا کون سا جنرل پیچھے رہنا چاہے گا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عزم اس فوج کے کس چیف نے نہیں کیا؟ خطے میں امریکی مفادات کی پاسبانی کا یہ سلسلہ کس جنرل کے آنے سے ختم ہو سکتا ہے؟ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ کون سا جنرل نہیں لگاتا؟ لیکن چھوڑیں۔ یہ اہم نہیں۔ اہم یہ کہ ہم یہ کہیں کہ دیکھیں جنرل راحیل شریف شہداء کے خاندان سے تھے۔ انہوں نے مارشل لاء نہیں لگایا۔ انہوں نے سیاست میں قدم نہیں رکھا۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ وہ ہر اہم موقعے پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے نظر آئے۔ ان سے پہلے کے جنرل دیکھیں، انہوں نے کیا کارنامے انجام دئے۔ ملک کے دو ٹکڑے کر دئے؟ دہشت گردی امپورٹ کی؟ کیانی کے بھائی پر کرپشن کے الزامات لگے؟ مشرف نے اکبر بگٹی کو مارا اور لال مسجد کو شہید کیا، بلوچوں کے حقوق غصب کیا۔ جنرل راحیل شریف نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ آ جاتے ہیں تنقید کرنے۔۔۔ آئیں مل کر کہیں؛ شکریہ راحیل شریف۔۔

شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں