نطشے اور تہذیبوں کا تصادم

آدميوں کي دنيا انسان کي آرزومند ہے، انسانيت کي جستجو ميں ہے۔ تاريخ آدم کاساراسفراسي آرزو، جستجو،اورتکميل کا ہے۔ راہيں اطوار اور تفہيمات سے مختلف اطراف نکل گئيں۔ يہاں مشرق ومغرب سے دواصطلاحات پرانسان کي جستجوکا درست فہم حال کي مشکل آسان بناسکتا ہے۔ يہ اصطلاحات مرد مومن اور فوق البشرہيں۔ ان دونوں کا سفرمخالف سمتوں ميں ہوا، جدا راہوں پر ہوا۔
فوق البشرجرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے پیش کیا۔ اس سے مراد عیسائیت کی رہبانیت اوربے عملی سے آزاد ایسا باعمل اورطاقتورانسان، جودنیا کوبھرپور انداز میں برتتا ہے۔ دنیا کے معاملات سے اپنا حصہ بزور طاقت حاصل کرتا ہے، اورآخرت کی زندگی کے وعدوں پرانحصار نہیں کرتا، اورموجودہ دنیا سے لاتعلق نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا انسان ہے، جوانسانیت کی منزل ہے، جوزمین پرقوت عمل کے ذریعہ وسائل زندگی سے فیضیاب ہوتا ہے، اور اس دوران یہ روایتی وعیسائی تعلیمات واقدارسے بےنیاز ہوتا ہے، بلکہ انہیں راہ کا کانٹا سمجھتا ہے۔ تاہم نطشے کا یہ برتر انسان نسل پرست ہے، یہ برترنسل سے ہی ابھرسکتا ہے، یہ اخلاقیات کا پابند نہیں، کسی کو جوابدہ نہیں۔ اردو کے مشہور ترقی پسند افسانہ نگارپروفیسر عزیز احمد کہتے ہیں، “نطشے کے فوق البشر کی تین خصوصیات ہیں ۔ قوت فراست اور تکبر”۔ نطشے کا یہ فوق البشرگوکہ ظلم اورفساد کیلئے نہیں تراشا گیا، مگرمتضاد صفات نے فوق البشرکا حشرکردیا۔
جبکہ علامہ اقبال کا مردمومن عشق، جہد عمل، جمال وجلال، حق گوئی وبیباکی، اورفقرواستغناء کا پیکرہے۔
مشرق ميں یہ مردمومن مثالي انسان کي صورت سامنے آيا، انسان کامل کا یہ کامل نمونہ دليل کامل ہوا، صديوں زمانے نے انساني تہذيب سے نمو پائي، اورمعراج انسانيت سے فيضياب ہوئے۔ پھرزمانے کا پھيرزوال پذيرکرگيا، مردمومن کي نگاہوں سے نمي رخصت ہوئي، تہذيب جہاں باني گئي، روح آسماني گئي، اورپھرفکرکي رواني گئي۔ عمل معطل اورعلم الوداع ہوا۔ انساني تہذيب کے تحقیقی وتخلیقی سوتے خشک ہوئے۔ قوت عشق ماند پڑگئي، مردمومن شعروادب ميں جکڑبند ہوگيا، تصوربن کرمافوق العقل ہوگيا، عمل کي دنيا سے مردمومن معدوم ہوکررہ گيا۔ مسلمانوں پرچھبتا ہوا طنز ہوگيا۔
دوسري جانب مغرب ميں بھي مذہب معطل ہوگيا، مکروفريب کا فنکارہی کردارکا معیارہوگيا، اوريوں یہ مجذوب فرنگي کا مغرب پرنوحہ ہوگيا۔ عيسائي خدا ناقابل قبول ہوا۔ نطشے نے موجودہ انجیل کومستردکردیا۔ اسے خوشخبری کے بجائے بُری خبرقرار دیا۔ اُس نے کہا یہ انجیل وہ ہے ہی نہیں، جوعیسٰی علیہ سلام نے دی۔ نطشے عیسائیت میں بگاڑکا ساراذمہ سینٹ جان پال پرڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے جان پال اقتدار کا بھوکا تھا، اس کیلئے اس نے عیسٰی علیہ سلام کی تعلیمات اور سوانح میں تحریفات کیں۔ سوخدا تک پہنچنے کا راستہ گُم ہوگیا۔ جوخدا پاپائیت نے ہمارے لیے تراشا ہے، اسے انسانوں کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، ہم اس خدا کے سہارے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ خدا کا خلاء پیدا ہوگیا، المیہ ہوگیا۔
نطشے نے خدا کا خلاء پُرکرنے کي ناکام سعي کي، آدمي کوفوق البشرتک پہنچاديا، خودی نہ پاکرخدا بناديا، مگر يہ خدا تفاخرسے نہيں مايوسي سے پيدا ہوا۔ متضاد جذبات سے ٹکڑے ہوگیا۔ یاس اورتکبرکے ساتھ فوق البشربننا ممکن نہ تھا، سوپہلے نازی ہٹلراعظم وجود میں آیا، پھرمغرب کا سُپرمین سامنے آیا۔ فوق البشرکا وہ وہ حشرہوا کہ آدمی بیٹ مین بنا، آئرن مین بنا، اسپائیڈرمین بنا، مگرانسان نہ بن سکا۔
اج کے مغرب کا متکبرآدمی، فوق البشرہی کا وہ حشر ہے، جومجذوب فرنگی نطشے کوہرگز مطلوب نہ تھا، بلکہ جس انسان کی تلاش نے اُسے فوق البشرکی تراش خراش پرمجبور کیا، اسی انسان کی تلاش پھرآج مغرب کا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ مسئلہ انسان کیسے حل ہو؟
علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا، کہ نطشے وہ مجذوب فرنگی ہے، جس کا دل مومن اور دماغ کافرتھا۔ اقبال نے درست کہا تھا۔ فوق البشرنطشے کے دماغ کا کمال تھا، جس کا ذکرہوچکا ہے۔ اب مجذوب فرنگی کے دل سے رجوع کرتے ہیں، اورمسئلہ انسان کا حل سمجھتے ہیں۔
تصنیف ‘اینٹی کرائسٹ’ میں نطشے لکھتا ہے، ”اگلے زمانے کی تہذیب وتمدن سے ہمیں جوپھل ملنے والا تھا، مسیحیت نے اس کا ستیاناس کردیااور پھر بعد کے تمدن اسلام سے جوپھل ہمیں مل رہا تھا، اس کوبھی مسیحیت نے روند ڈالا۔ مسیحیت نے اندلس کی شاندارتہذیب وتمدن کا گلا گھونٹ دیا۔ اندلس کا حیرت انگیز اسلامی تمدن جوفطری طورپرہم سے زیادہ قریب تھا، جوہماری حسیات اورجمالیات کوروم اور یونان سے کہیں زیادہ متاثر کرتا، اسے برباد کردیا گیا۔ صلیبیوں نے مسلمانوں سے بارہا لڑائیاں لڑیں۔ اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ زمین پھٹ جاتی اور وہ اندر سماجاتے۔ صلیبی جنگیں انتہا درجے کی رہزنی تھیں۔”
نطشے جیسا انسان، جیسا تمدن، اور جیسا معاشرہ تعمیرکرنا چاہتا تھا، اسے اس کی صورت اسلامی تہذیب میں نظرآئی، مگر وہ بھرپور خواہش کے باوجود اسلام سے فیض نہ پاسکا۔ مستشرقین کی مسخ شدہ اور متعصبانہ اسلامی تاریخ پراُسے بالکل بھروسہ نہ تھا۔ نطشے نے ایک دوست کوخط میں لکھا، ”میں مسلمانوں کے درمیان زندگی کا کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں، بالخصوص ایسے مقامات پر، جہاں اسلام کا بغور مشاہدہ آسان ہو، تاکہ اسلام کے بارے میں میری رائے یورپی اثرات سے پاک ہوسکے۔” مگرنطشے کی کم نصیبی کہ موقع نہ مل سکا، وہ حالت جنون میں چلا گیا، زندگی کے آخری دس سال ذہنی معذوری میں بسرکیے۔ اُس کے نقاد کہتے ہیں کہ اگر وہ موقع پاتا، تویقینا اسلام پرمستحکم رائے تک پہنچ پاتا۔ جیسا کہ اُس نے ایک موقع پرکہا، ”اگر اسلام عیسائیت کومسترد کرتا ہے، تو اسے ایسا کرنے کا ہزاربارحق حاصل ہے، کیونکہ اسلام کم از کم انسانوں سے معاملات کی بات کرتا ہے۔” غرض علامہ اقبال نے نطشے کوانتہائی اہم مفکر سمجھا ہے، اورخواہش ظاہر کی کہ کاش وہ اُسے مقام کبرسے آشنا کرپاتے۔
مدعا مضمون کی جانب پلٹتے ہیں، جو آج پھرمجذوب فرنگی کی زباں سے مسئلہ انسان کاحل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ آج آدمیوں کی دنیا انسان کی آرزومند ہے۔ صلیبی مغرب آج پھراسلامی تہذیب پرحملہ آور ہے۔ خدا کے اعلٰی وارفع تصورسے محروم نطشے پھرصدا لگا رہا ہے، کہ اُسے مردمومن سے کوئی آشنا کردے، کوئی اُسے فوق البشرکی حشرسامانیوں سے نجات دلادے، کوئی اسلامی تہذیب وتمدن سے مغرب کومالا مال کردے، کوئی مجذوب فرنگی کوجنون سے بچالے، کوئی اس آدمی کو انسان سے ملادے، کوئی اس بے چین روح کوپرسکون کردے۔
صاف نظر آرہا ہے، اسلام مغرب پرغالب آرہا ہے۔ نطشے کی ادھوری آرزوپھر آزمائشوں کی زد میں ہے، صلیبی وصہیونی رہزن پھرانسانی تہذیب تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جلد بدیرنطشے کی یہ آرزوتکمیل پائے گی، اسلامی تہذیب مجذوب فرنگی کی روح تک رسائی پائے گی، جنون نفس مطمئن سے رہنمائی پائے گا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں