ٹی ٹی پی کے منحرف ترجمان کا اعترافی بیان اور ہماری ذمہ داری

تحریک طالبان پاکستان کے سابقہ اور جماعت الاحرار کے موجودہ منحرف ترجمان احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان آئی ایس پی آر نے جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ وڈیو بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں پاک فوج کے آپریشنز کے بعد ان کے کمانڈرز اور جنگجوؤں میں خاصی مایوسی پھیلی۔ احسان نے اپنی ترجمانی کے دوران واہگہ بارڈر حملہ، ملالہ یوسفزئی پر حملہ،کرنل شجاع خانزادہ پر حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ اعترافی بیان میں منحرف ترجمان کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے اسلام کی غلط تشریح کر کے لوگوں بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کیا، پاک فوج کے کامیاب آپریشنز سے جماعت الاحرار کے ٹھکانے تباہ ہوئے جن میں ان کے کمانڈرز بھی مارے گئے۔
احسان نے بھی اپنی پارٹی اور قیادت کے بارے میں تقریباً ویسی ہی باتیں کی ہیں جیسی ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا نے ڈیتھ سیل میں موت سے کچھ لمحے قبل کی تھیں، فرق صرف یہ ہے کہ صولت سزائے موت کا قیدی تھا جبکہ احسان نے رضاکارانہ سرنڈر کیا ہے۔ احسان نے اپنے اعترافی بیان میں ٹی ٹی پی اور اس کی قیادت پر جس طرح کے الزامات لگائے ہیں اگر وہ درست ہیں تو ایم کیو ایم یا اس جیسی دوسری مافیاز مثلاً بی ایل اے یا جسقم اور ٹی ٹی پی میں صرف اتنا ہی فرق رہ جاتا ہے جتنا ع اور غ میں، (یعنی صرف نقطے کا فرق)۔ کیونکہ مملکت خداداد کو تباہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو مِس گائیڈ ایم کیو ایم اور اس جیسی دیگر قوم پرست علیحدگی پسند جماعتیں بھی کرتی رہی ہیں اور ٹی ٹی پی بھی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ بھارت سے فنڈ ایم کیو ایم و بی ایل اے نے بھی لیا اور ٹی ٹی پی نے تو پاکستان کے خلاف اسرائیل تک سے فنڈ لینے پر آمادگی ظاہر کردی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایم کیو ایم جیسی لبرل و سیکولر جماعتیں ملک دشمن عناصر کے مقاصد کے حصول کے لئے قومیت کا منجن استعمال کرتی آئی ہیں جبکہ ٹی ٹی پی نے مخلص اور جذباتی نوجوانوں کو اسلام کا لولی پاپ دیا۔ ایک طرف مذہب کے نام پر انتہاپسندی ہے تو دوسری طرف سیکولر ایکسٹریم ازم۔۔
موجودہ حالات و قرائین سے تو یہی ثابت ہوتا نظر آرہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور ایم کیو ایم ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے اور ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ نوجوانوں کو ان دونوں قسم کے گروہوں کے چنگل سے چھڑانا اور نئی پود کو ان کے جھانسے سے محفوظ رکھنا نہ صرف حکومت اور اداروں کا بلکہ ہم سب کا دینی و قومی فریضہ ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں