“وہ دیتا رہا اور ہم کھاتے رہے”

صبح رمضان کی قرآن کلاس کے لیئے گھر سے نکلے. شدید گرمی کا عالم اور گاڑی باہر کھڑی رہنے کے باعث تنور (بھٹی) بنی ہوئی تھی. صاحب, نے پہلے گاڑی کو ٹھنڈا کرنا چاہا. ہم نے بھی وقت کے اس زیاں کے احساس کو کم کرنے کی غرض سے اطراف میں نگاہ دوڑائی. چھٹی کے دن کے باعث ہر طرف سناٹا ہی تھا. البتہ  کیاری میں ایک ادھیڑ عمر کی خانہ بدوش قسم کی عورت نظر آئی. گرمی اور آرام کے وقت میں اس غریب عورت کو کام کی تلاش میں دیکھ کر افسوس ہو رہا تھا. اس کا ظاہری حلیہ بھی حد درجہ مفلوک الحال تھا. جسم پر پھٹے پرانے بوسیدہ سے کپڑے, پیروں میں ٹوٹے پھوٹے گھسے ہوئے گردآلود چپل, منتشر ملگجے بال اور خوبصورت چہرے پر پڑی جُھریاں. اس کی غربت زبانِ حال سے بیان ہو رہی تھی. مگر اس تمام تر مخدوش الحالی اور موسم کی سختی کے باوجود اس کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا. اس کے ہاتھ میں بڑی سی درانتی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس کا ارادہ کیاری کی گھاس کاٹنے کا ہے. گھاس کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی نظر ہم پر پڑی تو وہ بےاختیار مسکرا دی. اس کے بدحال چہرے پر خوشحال سی مسکراہٹ نے ہمیں اس کا حال جاننے کے لئیے اُکسایا. جوابی مسکراہٹ کے ساتھ ہم نے اسے سلام کیا اور احوال دریافت کیا.

وہ روزے سے تھی اور اس کے گھر میں بھی سب کا ہی روزہ تھا. غربت کی انتہائی حد پر بھی روزے کی صورت میں اس کی ایمانی کیفیت پر بڑا رشک آیا. گھر والے کا ذریعۂ معاش پوچھا تو معلوم ہوا کہ پھل کا ٹھیلا لگاتا ہے. “پھل کا ٹھیلا لگاتا ہے” ….یہ سننا تھا کہ ہماری کیفیت کچھ ناقابلِ بیان سی ہو گئی. شہر کی حالیہ تین روزہ “فروٹ بائیکاٹ مہم” فوراََ نظروں میں گھوم گئی. اگرچہ ہم اس مہم کے اچھے خاصے حمایتی تھے مگر اس موجودہ آنکھوں دیکھی صورتِ حال کے پیشِ نظر ہماری حمایت “متاثر” ہونے لگی. سوشل میڈیا کی وہ پوسٹس, اظہاریے, بیانیے (اسٹیٹس) آنکھوں کے سامنے آگئے جن میں فروٹ بائیکاٹ مہم کی مخالفت میں ریڑھی بان پھل فروش کی ان “تین دن کی روزی” کے نقصان کو جذباتی حربے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا. جن میں دلیل سے ذیادہ تاویل پر ذور تھا. اور سب سے بڑھ کر عوامی مسائل کے حل کے لئے عوامی شعور کی بیداری کے سمندر کو “غریب کی روزی کے نقصان” کے کُوزے میں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی.

بہرحال قصۂ مختصر, ان منفی بیانیوں اور اس غریب عورت کے حالات جان کر, ہمارا ذہن بھی اس تعلق سے کچھ مخالف سمت چلنے کو تیار ہونے لگا. اب ہماری متوقع صورتِ حال یوں تھی کہ “غریب پھل والے کی بیوی تین دن کی روزی کے نقصان پر فروٹ بائیکاٹ مہم والوں کو خوب سنائے گی اور ہم اس کے دکھ میں اسے کیسے تسلی دیں گے…..” خیر, بمشکل ہمت کر کے فروٹ بائیکاٹ مہم کا افسوس اور اس کے ازالے کی غرض سے مزید ان تین دن کا حال معلوم کیا کہ, “پھلوں کی ہڑتال تھی تو تمہارے شوہر نے کیا کِیا؟” اس نے کمالِ اطمینان سے جواب دیا : “گھر میں ہی رہا کیوں کہ روزہ بھی تھا تو جب کاروبار نہیں تو جا کر کیا کرتا” (یعنی ٹھیلا ہی نہ لگایا). انتہائی دکھ کے ساتھ, ہمارا تجسس مزید بڑھا کہ ” پھر ان دنوں روزی روٹی کا کیا ہوا؟”

مگر جانتے ہیں…..قرآن کی تفسیر اور دنیا جہان کی ڈھیروں معلومات سے لدے سمارٹ فون کی حامل پڑھی لکھی خاتون کے سامنے اس غریب پھل والے کی درانتی تھامے اَن پڑھ بیوی کا کیا جواب تھا ؟ وہ بھی اطمینان بھری مسکراہٹ کے ساتھ
“روزی روٹی کا تعلق, گھر میں بیٹھے رہنے یا باہر جا کر کمانے سے ذیادہ, اللّٰہ کی دین (دینے) سے ہے. بس روزی کے ناغے کے دنوں میں بھی وہ دیتا رہا اور ہم کھاتے رہے۔”

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں