ابنِ صفی ۔ ایک بے نظیر ناول نگار

جاسوسی ادب میں جس مصنف کو ایشیاء میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ھوئی وہ جناب اسرار احمد المعروف ابنِ صفی ہیں۔ جب 26 جولائی 1928 کو اتر پردیش الٰہ آباد میں ابنِ صفی نے جنم لیا تو ان کے والدین کو اندازہ نہ تھا کہ عام سے علاقے میں پیدا ھونے والے اس شخص کی شہرت چہارسو پھیل جائے گی۔اور اس کے قلم سے تخلیق کردہ کردار اس کی موت کے بعد بھی اس کا نام زندہ رکھیں گے۔ ابنِ صفی کو اردو زبان میں جاسوسی ناول نگاری کا شہنشاہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ھوگا۔ جاسوسی کہانیاں اور ناول لکھنے والے تقریبا تمام مصنف ابنِ صفی مرحوم کو اپنا استاد تسلیم کرتے ھیں۔ بچوں اور بڑوں کے محبوب ادیب جناب اشتیاق احمد مرحوم نے اپنے ناولز میں اکثر اوقات ابنِ صفی کا ذکرِ خیر کیا اور برملا انہیں اپنا استاد تسلیم کیا۔
میری کتابوں سے ملاقات پہلی جماعت میں ہوئی ۔ جب میرے امی ابو نے مجھے اخبار بینی میں دلچسپی لیتے دیکھا تو ہاتھ پکڑ کر ابراھیم لائبریری لے آئے جہاں سے وہ خود ابنِ صفی ، اشتیاق احمد ، ایم اے راحت ، علیم الحق حقی کے ناولز سمیت جاسوسی ، سسپنس ڈائجسٹ وغیرہ لے کر پڑھتے تھے ۔ ابتداء میں تو مجھے نونہال اور اشتیاق احمد کے ناول تھمائے گئے۔ پھر پانچویں جماعت سے ابنِ صفی کے ناول پڑھنے لگا۔ چونکہ کچا ذہن تھا اور عمران سیریز تھوڑی مزاحیہ لگتی تھی ۔ اس لئے عمران سیریز پسندیدہ بن گئی۔ جاسوسی دنیا کے چند ناول پڑھ کر چھوڑ دیئے تھے کیونکہ وہ کافی سنجیدہ سے لگتے تھے ۔ ابنِ صفی کے علاوہ مظہرکلیم ، ایم اے راحت ، صفدر شاہین کی عمران سیریز پڑھی مگر جو لطف ابنِ صفی کے تحاریر میں تھا وہ کسی اور میں کہاں۔
ابنِ صفی کی ناول نگاری کی مکمل اور جامع تعریف تو میرے بس کی بات نہیں بس اپنی محدود عقل کے مطابق جو کچھ ابھی تک محسوس کیا ھے اسے الفاظ میں ڈال کر پیش کرنا چاھوں گا۔ سب سے پہلی اور خاص چیز ان کی کردار نگاری ھے ۔ خدا ھی جانے کیا سوچ کر انہوں نے اپنے ناول کے مرکزی کردار تخلیق کئے کہ نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے تخلیق کردہ کردار جاسوسی ادب سے شغف رکھنے والے افراد کے دل و دماغ پر راج کر رھے ھیں ۔ انہوں اس خوبی سے کردار تخلیق کئے کہ ھر کردار کی عادات و اطوار ، حرکات و سکنات ، شخصی خاکہ مکالمات ادا کرنے کا انداز دوسرے کردار سے بالکل جدا رکھا ۔ کرنل فریدی کی سحر انگیز بارعب شخصیت ، کیپٹن حمید کی شوخ و چنچل لاپرواہی سے بھری شخصیت، معصوم شیطان عمران کی حماقت آمیز ذہانت کی پراسرار شخصیت ، انور ، رشیدہ کا عجیب و غریب کردار ، جوزف جیسا عجیب مالک پرست کردار سمیت ہر کردار اپنی جگہ لاجواب رہا ہے ۔ مجرموں میں بات کی جائے تو لیوناڑڈ ، سنگ ہی ، تھریسیا ، ہمبک دی گریٹ ، ایڈلاوا سمیت درجنوں ایسے کردار تخلیق کئے جو کہ مجرم اور منفی پرچھائی رکھنے کے باوجود قارئین کے پسندیدہ کردار بن گئے۔
دوسری ان کی خصوصی خوبی کا ذکر کیا جائے تو وہ منظر نگاری ہے ۔ کسی بھی کہانی کو سحر انگیز بنانے کے لئے اس کی منظرنگاری مضبوط ہونی چاہئے ۔ ابنِ صفی مرحوم میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی کہ وہ ایسی زبردست منظرکشی کرتے کہ قاری کی آنکھوں کے سامنے گویا ان کے بیان کردہ لائنز کی ویڈیو چلنے لگتی اور وہ پوری طرح ان کے ناول کے سحر میں ڈوب جاتا۔منظر نگاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے بہت سے مقامات بھی تخلیق کئے ۔ جن کی شہرت آج بھی ویسی ہی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے ناولز میں معاشرتی مسائل کا بھی ذکر ھوتا ۔ اکثر اوقات ان کے ناولز میں سیاسی طنز بھی ھوا کرتے تھے۔ بعض مذھبی باتیں اور پند و نصائح ایسے لطیف پیرائے میں بیان کرتے کہ دوست دشمن سب کے دل کو ان کی بیان کردہ بات چھوجاتی۔ مزاح نگاری میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا ۔ سنجیدہ حالات والے ناول میں بعض اوقات ایسے مزاحیہ حالات اور مکالمات تخلیق کردیتے کہ قاری کا ہنستے ہنستے پیٹ درد ہو جائے ۔
ان کے ناول حقیقت سے کافی قریب ھوتے تھے ۔ آج کل کے کچھ جعلی مصنفین کی طرح وہ اپنے کرداروں کو مافوق الفطرت بنا کر پیش نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ ان کو عام انسانوں کی طرح حالات کا مقابلہ کرتے دکھاتے تھے ۔ ان کے کردار کبھی فتح یاب ھوتے تو کبھی شکست کا منہ بھی دیکھتے تھے۔ ابنِ صفی کا مطالعہ بہت وسیع تاھ اس لئے اکثر وہ اپنے ناول میں ملکی و غیر ملکی کلچر ، سیاسی و سماجی حالات ، مختلف اقوام کے عروج و زوال کے اسباب تحریر کیا کرتے تھے ۔ یہ معلومات ان کے قارئین کے لئے ایک بہترین تحفہ ثابت ھوتی تھی۔اس کے علاوہ انہوں اپنے ناولز میں جاسوسی و جرائم کے مختلف اسراروں سے پردہ اٹھایا ۔ زہر ، جانوروں اور مختلف اقوام کی کلچر اور رھن سھن کا ذکر کیا جو کہ حقیقت پر مبنی تھا۔ ان کا قاری گھر بیٹھے پوری دنیا کی سیر کرلیتا تھا۔
انکی تعریف تو لامحدود ہوتی جائے گی ۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ھوں ۔
کیونکہ ابنِ صفی ایک بے نظیر ناول نگار ، ایک عظیم انسان تھے ۔ جب بھی اور جہاں بھی جاسوسی ادب کا نام آئے گا وھاں ابنِ صفی کا نام لازمی لیا جائے گا۔ اللہ ابنِ صفی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔ آمین

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں