اخوت کا بیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجا

پچهلےدنوں انگلی میں معمولی آپریشن  کی زحمت اٹهانی پڑی.جسکی بهاری فیس ادا کرنے کے ساتھ  ساتھ  بهاری
تکلیف بهی برداشت  کرنا پڑی.ایک معمولی انگلی کا زخم اتنا اہم ہوگیا کہ اس زخم نے پوری رات آنکهـ  کو سونے نا دیا.ذہن کو بےقرار  رکها آنسوؤں کی روانی رکنے نا پائی. جسم کا انگ انگ  دکهتا  رہا.پورے ہاتھ  میں تکلیف  اس قدر شدت کی تهی کہ نا بیٹهے چین آرہا تها نا کهڑے نا لیٹے.غرض ایک عضو کے زخم نے پوری رات اتنے بڑے انسانی جسم  کو جسمیں خلیات،عضلات،اور نظاموں کا ایک جال سابچها  ہے،مضمحل کیئے رکها. نا رات کو چین سے آنکهیں اپنا کام سر انجام دے پارہی تهی.دماغ کے سسٹم نے بهی درست طریقے سے سوچنے اور عمل کرنے کا عمل جاری نہیں رکها.جب نیند ہی نا آئے  تو بهوک  لگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.غرض یہ کہ تمام انسانی وجود ایک معمولی زخم کے باعث تناؤ کی کیفیت سے دوچارہو  گیا.
ہم  سب اس بات سے وافف ہیں کہ ایک ہی جیسے خلیات ایک ہی جیسا کام سر انجام دیں تو ایک عضو(mussel )بنتا ہے .جیسے دل ایک عضو ہے،گردہ ایک عضو ہےیہ.جب ایک جیسے تمام عضو ایک جیسی خدمت انجام دیں تو ایک نظام(system) وجود میں آتاہے.وکی پیڈیا کے مطابق انسانی جسم میں دس بنیادی نظام مل کر کام کرتے ہیں.جن میں نظام انہظام،نظام تنفس،نظام مدافعت،عضلاتی نظام،اعصابی نظام ،نظام تولید،نظام ڈهانچہ  ،نظام اخراج اورنظام دوران خون وغیرہ.یہی تمام نظام جب ایک ساتھ  مستقل طریقے کے ساتھ  ملکر  اپنی  اپنی ذمہ  داری  انجام دیں تو ایک انسانی جسم وجود میں آتا ہے.اشرف المخلوق کو اسفلاسافلین سے ہٹا کرحسن الخالقین بنانے کے لیئے ہرآن حکم ربا، یقیناً کوئی مقصد تو ہوگا.
مجهے اس  وقت نبی مہربان  حضرت  محمد  مصطفی  صلی  اللہ  علیہ  وسلّم  کی وہ  حدیث جس میں آپ نے مسلمان امت کو ایک جسم سے تشبیہ دی بہت شدت کے ساتھ  یاد  آئی  مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے.کیا واقعی مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں؟ یقیناً  مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں.اسلیئے تو عالمی استعماری طاقتوں کی ایجینڈا سیٹنگ ،امریکی اسٹیبلشمنٹ  کی شبانہ روز سازشوں،یہود و نصاریٰ مضبوط گٹھ  جوڑ،خلافت کے مرکز کے خاتمے،نیو ورلڈ آرڈرکے وقوع پذیری ،طاقتورممالک کی بدترین عالمی معاشی،سماجی،تہذیبی،ثقافتی بدمعاشی  کے باوجود  آج کا باشعورمسلمان جرمنی میں مسلم مروہ کی بے گناہ موت پر دل سوز ہے ، چین کے صوبے سنکیانگ  میں ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ  ناروا سلوک پر مضطرب ہے،ترکی میں بیٹها برما میں ہونے والی مسلم نسل کشی پر سراپا احتجاج ہے،عراق وشام میں مسلمانوں کی مظلومانہ موت  پر حکمرانوں کی بے حسی  کے باوجود پریشان و مضمحل ہے.کشمیر میں ہونے والے بہیمانہ تشدد پر دل گرفتہ ہے.لیکن کیا یہ بے چینی،بےسکونی،پریشانی،اضطراب کافی ہے؟بلاشبہ نہیں کیونکہ آج کے معاشرے میں وقعت  و حیثیت  انہی کی ہے جو متحد ہیں،مستحکم ہیں،مضبوط ہیں،تعلیم یافتہ و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہیں.مسلمانوں کی مرکزیت سوچی سمجهی منصوبہ  بندی سازش کے  تحت ختم کی گئی ہے.

لارنس آف عربیہ کے کردار سے کون واقف  نہیں؟مسلمانوں کے اندر بیٹهے   اسلام کا لبادہ اوڑهے مسلمانوں کے اندر نفرت کا بیج کس خوبصورتی سے بویا گیا.سعودی فرمانروائی  اسی کی بدولت وجود میں آئی.خلافت اسلامیہ کا خاتمہ مسلمانوں  کےخلاف بہت  بڑی  سازش  تهی  جسکا  خمیازہ ابهی تک مسلم امہ بهگت  رہی  ہے.
کسی بهی  وقت کسی بهی جگہ کسی بهی خطے میں ہونے والی دہشت گردی  کو اسلام اور مسلمانوں  سے جوڑنا نیوورلڈ  آرڈر  ایجینڈاہے. حالیہ لاس ویگاس کلب پر حملہ کرکے 50 افراد کو موت کے گهاٹ  اتارنے والا اور 400 افراد کو زخمی  کرنے والا ایک کیتھولک  عیسائی  فرقے سے تعلق  رکھنے  والا  اسٹیفن پیڈاک  نا ہی کوئی مسلمان ہے نا طالبان.پهر بهی دجالی میڈیا سی این این و بی بی سی اینکرز اپنے ناظرین  کو  یہ بات باور کروائے جارہےکہ اسنے چند دن قبل  اسلام  قبول  کر  لیا  تها .کیا یہ کهلا تضاد مکروہ  و فریب نہیں؟کیا یہ مسلم دنیاکے ساتھ  کهلی دہشتگردی  نہیں؟
9/11 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ نقصان اگر کسی کا ہوا ہے تو وہی مسلم امہ ہے.صرف دو عمارتوں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کی آڑ  میں پورے ملک افغانستان  کو تہس  نہس  کر  دیا  گیا.وار آن ٹیررکی خود ساختہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئےآزاد   ملکوں کی آزادی چهیننا  کہاں  کا انصاف  ہے؟آج افغانستان  سے لیکر شام،مصر فلسطین،چیچنیا،بوسینیا،عراق،لیبیا،تیونس،طرابلس،کشمیر اور برما سب مسلمانوں  کے  خون  سے  رنگین  ہیں.ممتاز صحافی اور نوائے وقت کے کالم نگار عتیق انور راجا اپنے کالم نائن الیون،مسلم دشمنی  اور عالمی امن”میں لکهتےہیں “اقوام متحدہ  ہرسال امن کاعالمی دن مناتی ہے مگر اقوام متحدہ  کے  فارم سے دنیامیں  تباہی کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہے.اقوام متحدہ  میں چند ممالک کوجو اہمیت حاصل  ہے انہوں نے اپنی  اس طاقت  کا فائدہ  ہر دور میں اٹھایا  ہے . جب سے یہ ادارہ  قائم ہوا بظاہر  ایکدوسرے  کےحقوق  کاتعین ہوا.مگر حقیقت یہ کہ اس نے ادارے  نے ہمیشہ  مسلم دشمنی  کاکردار ادا کیا.امریکہ،روس،چین اور دوسرے غیر اسلامی ملکوں  نےطاقت  اپنے  پاس رکهکر مسلم ممالک کو مختلف طریقوں سے  اپنا غلام بنانا  شروع  کیا  ہے.مسلم دنیا کی نااہل  قیادتیں،عیاش  اور نالائق  حکمران  طبقےکے  لوگوں نے غیرمسلموں  کواورزیادہ  طاقتور  بنادیا ہے.امن کے پیامبرچندگمراه لوگو  کو  اپنے  ساتھ  ملاکرکہیں بهی دہشت  گردی کی کوئی واردات  کرواتےہیں.دنیا کو اپنے گهر سے “واچ”کرنے والا امریکہ  اپنے  ملک  کے  اہم  مقام  پرہونےوالےحملےکوناروک  سکا یہ بات کوئی  بھی  نہیں  مان سکتا”.
صرف یہی نہیں بلکہ  مسلمانوں میں  آپس کے اتحاد کو ختم کرنے کے لیئے کی جانے والی بین  الاقوامی  کوششوں  سےکون واقف نہیں.
. جماعت  اسلامی کی مرکزی  میڈیا سیل کی پریس  ریلیز کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر    سراج الحق  نے  کہا  ہے  کہ”  اسلامی  دنیاکے خلاف عالمی  استعمار مسلم دنیاکے نقشہ تبدیل  کر  کے  اسے ٹکڑوں  میں  تقسیم  کرناچاہتےہیں.تاکہ مسلمانوں  کو  باہم دست  و  گریباں  کرکے ان کے  وسائل  پر  قبضہ  کر  سکیں.عالم اسلام کو دشمن کے ناپاک عزائم  کو  ناکام  بنانے  کے  لیےہوش  مندی سے  کام  لینا باہمی  اخوت  و  محبت  کا  ثبوت  دیناچاہیئے  .یورپی  یونین  مشترکہ  منڈی  اور مشترکہ  کرنسی  پر متفق ہو  سکتی  ہے  تواسلامی  دنیا کیوں  نہیں ؟”
اس ممکنہ خطرے سے اقبال بهی آگاہ  تهے…تبهی  تو وہ کہتے  ہیں
اخوت اسکو  کہتے  ہیں ، چبهے  کانٹاجوکابل میں
تو  ہندوستاں  کا ہر  پیر و  جواں  بیدار   ہوجائے
گذشتہ  ماہ خطبہ  حج  کے  موقع  پر  امام کعبہ  ڈاکٹر  شیخ  عبدالرحمان  السدیس نے بهی اسی مسئلہ کی جانب اشارہ  کیا انہوں  نے  کہا  کہ،”اسلام  میں  دہشتگردی  کو حرام قرار  دیا  گیاہے،دہشتگرد امت مسلمہ  کو  کم زور کرنےکی کوشش  کررہے  ہیں . انہوں  نے  نوجوانوں کو ورغلاکرقتل  اورفساد  کی  راہ  پرڈال دیا،زمین پرفساد  پهیلانےوالوں  کوانکے  انجام تک پہنچایا  جائے . دہشتگردی  کوکسی  قوم  یادین  سے  نہیں  جوڑا  جاسکتا،دہشتگردی  کااسلام  سے  کوئی  تعلق  نہیں . انہوں  نے  مسلم  ممالک  کے  حکمرانوسےبهی  کہا  کہ  امت  آج  مشکل دور سے گزررہی ہے.امت مسلمہ  چیلنجزسے  نمٹنے  کے  لئے  باہمی  اتحاد  اوریکجہتی  کا  مظاہرہ  کرے اور  تمام  معاملات  اپنے  ہاتھوں  میں رکهیں.
خطبہ  حجة  الوداع  میں آپ  صلی  اللہ  علیہ  وسلّم  نے  حکم  فرمایا  تها  کہ ” دیکهو  باهمی  اختلافات  میں نا پڑنا  “.اللہ  رب اللعالمین  کا حکم بهی یہی ہے کہ واعتصموا  بحبل اللہ جمعیا  ولاتفرقوا یعنی “تم سب ملکر اللہ کی  رسی  کو  مضبوطی  سے  تھام  لو  اور  تفرقہ  میں  ناپڑو”.
جیو اردو میں صحافی و کالم نگار رانا اعجاز  لکهتے ہیں،”شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان ممالک پستی  اور  ذلت  کاشکارہیں .غربت،مہنگائی ، بدامنی ،لاقانونیت ، بےروزگاری ، جہالت،انتقام ، لوٹ  مار ، ڈاکے،اغواء،قتل  و  غارت گری  جیسے  موذی  امراض  مسلمانوں  میں باہمی اختلاف ہی کا نتیجہ  ہیں.آج امت  مسلمہ  میں مثالی اتفاق و اتحاد ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے.ہم 58 اسلامی ممالک ہیں.ڈیڑه ارب سے زائد مسلمان ہیں.ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں بشرطیکہ  اختلاف کے ناسور سے باہر نکل آئیں.آج امت مسلمہ  کو  اغیار  کی اندهی  تقلید  سے نکال کر اسلام  کی  راہ  پرگامزن  کرنا  انتہائی  ضروری  ہے.اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہی  کامیابی  حاصل کی جاسکتی  ہے.”
مسلمان حکمرانوں  سے توقع نہیں رکهی  جاسکتی کیونکہ  وہ  تو خود ہی باہم دست و گریباں  ہوکر عوام کو بهی لڑنے  مارنے،مرنے  کی تعلیم دے رہے ہیں.کبهی ختم نبوت کی شق سے مذاق کرتےہیں تو کبهی ناموس رسالت  قانون  سے. اس اخوت اور باہمی امن و محبت کےلیئے اپنی بنیادوں سے جڑنا،اپنے دین اسلام پر پوری طرح سےعمل پیراء  ہونا،اپنے قول  و  فعل  کے تضادات  کو ختم  کرنا ، اپنے آپ سے اپنے لوگوں سے محبت  کرنا،اپنے آپ کو گروہی و مسلکی بحثوں سے نکالنا   ،اپنے آپ کو تعلیم یافتہ و باشعور بنانا، اور ان تمام باتوں کے ساتھ  ساتھ  اپنے جیسے اذہان رکهنے والوں کو  اپنے  ساتھ  ملانا،اخوت اور بهائی چارے  کو عام کرنے سے ہی  ہمارے مسائل حل ہوسکے ہیں.بقول اقبال
ہوس نے کردیا  ہے ٹکڑے  ٹکڑے نوع  انساں کو
اخوت کا   بیاں    ہوجا ،  محبت   کی زباں  ہوجا
میں یہ نہیں کہتی کہ یہ آسان کام ہے.بلاشبہ یہ ایک مشکل ترین مشن ہے.اس مشن کی تکمیل کے لیئے لوگوں نے اپنی زندگیاں لگادیں. ہمیں کوششیں  کرنی ہے ہمیں اپنے ساتھ ان سب لوگوں کو لے کر چلنا ہے جو اس مملکت خداداد  پاکستان  سے،اسکی بنیادوں سے ،اسکی اساس سے ،اسلام سے قرآن  سے آنحضور  ص  کی تعلیمات سے محبت کرتے ہیں.جب ہی ہم اپنے حصے کی شمع جلاکر رب کے حضور  سرخروی حاصل کرسکتے ہیں.ہمیں حضرت ابراہیم  علیہ  السلام  کی  اس چڑیا کا کردار نبها کرمسلم  امت کی یگانگی و محبت میں اضافہ کرنا ہے.جسنے اپنی چونچ میں  لیئے ایک قطرے کو وقت کی بڑی سپر پاور کی لگائی ہوئی آگ میں ڈالتے  ہوئے اپنی جان کی بهی پروا نا کی. اللہ ہم سے دین کی خدمت میں وہ کام لے لے جو ہمیں رب کے حضور خدانخواستہ  اسفلا  سافلین  کی بجائے احسن الخالقین میں شمار کرسکے.اور ہمارا رب ہماری گواہی دے دے کہ واقعی  ہم نے بندگی کا حق ادا کردیا..
ایک ہوں مسلم حرم  کی  پاسبانی  کے  لیئے
نیل  کے  ساحل  سے  لے  کر  تابخاک کاشغر

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں