“اللّٰہ جی کے مہمان اور ہم”

شور تو ایسے کر رہے ہو جیسے تمہارے باپ کا گھر ہو، ساتھ ہی چٹاخ کر کے تھپڑ اس کے منہ پر لگا۔ اور انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کرپیچھے ایک صف کے کونے میں لے جا کر بٹھا دیا۔اگر چہ وہ چھوٹا بچہ تھا مگر عزت نفس تو مجروح ہوئی ۔ اس کی آنکھوں میں نمی در آئی ، مگر وہ چپ کر کے بیٹھ گیا۔ ان صاحب نے شلوار اوپر کو کھینچی اور اللہ اکبر کے ساتھ ہی ہاتھ کانوں تک اٹھائے جو اقرار تھا اس بات کا کہ اللہ ! تو ہی سب سے بڑا ہے۔ تیرے سوا کسی کی اجارہ داری یہاں قائم نہیں ، سب تیرے بندے ہیں۔ میں تیرے سامنے تیرے گھر میں کھڑا ہوں، مجھ پررحمت نازل فرما۔ لیکن کیا ایسے اللہ کریم راضی ہوں گے؟ کہ ان کے گھر میں آئے ایک مہمان کی بے اکرامی کی ، صرف ڈانٹا ہی نہیں ،مارا بھی۔اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی۔

 

اُس کے باپ کا گھر اگرچہ نہیں تھا مگر تمہارے باپ کا گھر بھی تو نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کا گھر ہے ۔ یہاں جو بھی آئے وہ اللہ کا مہمان ہے۔ہم کون ہوتے ہیں اسے ڈانٹنے ، مارنے، دھتکارنے والے؟ کیا ہم اپنے گھر آئے مہمان کی ایسے مہمان نوازی کریں گے؟ اگر کوئی مہمان آپ کے گھر آجائے اور کوئی تیسرا شخص اٹھ کر اسے ڈانٹے ، مارے، دھتکارے، برا بھلا کہے، ملامت کرے۔ تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟ اور کیا وہ شخص دوبارہ سے آپ کے ہاں آئے گا؟ نہیں! وہ ڈرے گا، وہ خوف زدہ ہو گا، کہیں ایسا نہ ہو، پھر سے کوئی اس کے گھر ڈانٹ لے، عزت نفس مجروح نہ ہو جائے۔

ہمارے ہاں کوئی مہمان آجائے ، چاہے وہ جیسا بھی ہو، ڈاڑھی پگڑی والا ہو یا سوٹڈ بوٹڈ کلین شیو، پینٹ پتلون میں ملبوس ہو یا کہ قومی لباس میں،سر پر ٹوپی ہو یا پھر ننگے سر ہو، پڑھا لکھا ہو یا جاہل اور ا ن پڑھ، بڑا ہو یا چھوٹا،ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ خیال رکھتے ہیں کہ کسی بھی طرح سے ہمارے مہمان کو تکلیف نہ ہو۔ تو یہ معاملہ اللہ کریم کے گھر میں الٹ کیوں جاتا ہے؟ اللہ کے گھر آئے مہمان کو ہم حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں؟اس کے گھر آئے بچوں کو ہمارا کیا حق بنتا ہے ہم دھتکاریں، ماریں، ڈانٹیں؟

کل بروز قیامت کس بھی بچے نے حضور ﷺ سے شکایت کر لی کہ یارسول اللہ ﷺ تیرے اس امتی نے مجھے اللّٰہ کے گھر میں مارا ، ڈانٹا، جب کہ آپ جب نماز پڑھتے تھے تو حسن و حسینؓ بھی تو آپ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے۔آپ نے تو کبھی نہیں مارا پیٹا، نہ ہی ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، نہ ہی آپ ؐنے حضرت فاطمہؓ سے شکایت کی۔ تو ہم کیا جواب دیں گے؟

ہم چوں کی حضور ﷺ سے انتہا درجے کی محبت کرنے والے ہیں۔ ہم ان کے سامنے شرمند ہ نہیں ہونا چاہتے۔ ہم دین سے محبت میں حد درجے لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت کا پہلا مقصد ہی دنیاکو برگزیدہ اخلاق کی تعلیم دینا ہیں۔مگر ہم تو بداخلاقی پر اتر آتے ہیں۔اور دوسرے کو محبت سے سمجھانے کی بجائے غصہ سے لٹھ لے کر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم ناں! کچھ چیزوں میں بہت سختی کرتے ہیں۔ مسجد میں کوئی بچہ آجائے اور وہ کوئی معصوم سی شرارت کر لے، ہنس لے، باتیں کرے یا شور مچا لے، تو ہم آپے سے باہر نکل آتے ہیں جب کہ ہمیں سختی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ہم بچوں پر سختی کریں گے، ڈانٹ ڈپٹ کریں گے، تو وہ کبھی بھی خوشی سے اس گھر نہیں آئیں گے۔ وہ تو اللہ کے مہمان ہیں ۔ انہیں عزت دینی چاہیے، انہیں رغبت دلانی چاہیے۔ ان کی شرارتوں کو جب اللہ تعالیٰ محسوس نہیں کرتا تو آپ کیوں کرتے ہیں؟

یاد رکھیں!ہمارے اسی رویے کی وجہ سے ہمارے بچے مسجدوں میں نہیں آتے ۔ نوجوان بھی دور ہی رہتے ہیں اور صرف بابے ہی نظر آتے ہیں۔ اپنے بچوں کواپنے ساتھ مسجدوں میں لایا کریں، اپنے رب سے متعارف کروایا کریں ، اللہ تعالیٰ سے محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں۔ جب اللہ کی محبت دلوں میں پیدا ہوگئی توڈر خود بخود پیدا ہوجائے گا۔
ہمیں اللہ کے معاملے میں کچھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ہم اپنے مہمان کا اکرام کرتے ہیں ۔ خوش دلی سے استقبال کرتے ہیں۔ ان کی راہ میں پلکیں بچھاتے ہیں ۔ وہ کچھ آداب نہیں بھی جانتے تب بھی ہم انہیں اعزازو اکرام سے نوازتے ہیں۔مسجدوں میں آئے ہر شخص کا ہم یوں ہی اکرام کریں۔ انہیں اگر کچھ چیزیں نہیں بھی آتی تو بھی کوئی بات نہیں ، انہیں عزت دیں ، محبت دیں۔ یہ جو ہم ڈنڈا لے کر اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں ۔ اس سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ رب سے جوڑنے کی بجائے، توڑنے کا سبب بنتے ہیں ۔

ہماری وجہ سے اگر کوئی اللہ کے گھر سے اللہ کی ذات سے دور ہوگیا تو ہم کیا جواب دیں گے؟ ہم جو کام سختی سے کرتے ہیں وہ ہم نرمی سے ، شا ئستگی سے ، محبتوں سے بھی تو ہو سکتے ہیں۔ دل توڑے بنا، بے عزت کیے بنا۔

کوئی کام اگر غیر شرعی ہے۔ سنت نبویؐ کے خلاف ہے اور آپ بتانا چاہتے ہیں ۔ اور چاہتے ہیں کہ اس کو بھی علم ہو، اس کی اصلاح ہو ، اس کی نماز، وضو کا طریقہ ٹھیک ہو، تو اس پر مسلط کیے بغیرمحبت سے بات کریں۔متکبرانہ انداز سے ، خود کو برتر اور دوسرے کو کمتر محسوس نہ کراتے ہوئے انتہائی عاجزی و انکساری سے پیار سے عرض کر دیں۔ وہ ضرور آپ کی بات سنیں گے۔ کیوں کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے اس کا ہر ہر عمل حضور ﷺ کے طریقہ کے مطابق ہو جائے۔

مجھے یاد ہے ایک بار میں مسجد کے وضو خانے میں بیٹھا وضو کر رہا تھا ۔ وضو میں کوئی غلطی کر لی۔ قریب بیٹھے شخص نے محسوس کیا کہ میں غلط وضو کر رہا ہوں۔ انہوں نے نہ ہی ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، نہ دھتکارا، نہ ہی فتویٰ الاپا، کہ’’ وضو آتا نہیں اور آجاتے ہیں منہ اٹھا کر‘‘،بلکہ انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: بیٹا! وضو کر لیا؟ جی انکل! میں نے جواب دیا۔ اچھا! ذرا میرا وضو دیکھنا آپ ، میں ٹھیک کر رہا ہوں۔ میں شرمندگی چھپاتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا۔ جب وہ مسح کرنے لگے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو میں غلط کرتا ہوں ۔ مگر انہوں نے غیر محسوس طریقے سے مجھے سکھا دیا تھا۔ میں پھر خوشی سے مسجد جانے لگا۔ سوچیں! اگر وہ مجھے ڈانٹتے ، برا بھلا کہتے، تو کیا میں دوبارہ مسجد جاتا؟

میں تہیہ کرتا ہوں کہ اب سے اللہ کے معاملے میں کچھ ایسا بنوں گاکہ اس کے گھر میں آئے ہر مہمان ، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اس کا اکرام کروں گا۔ عزت دوں گا۔بالکل اسی طرح جس طرح میں اپنے گھر آئے مہمان کو دیتا ہوں۔اپنی پلکیں بچھاؤں گا۔تا کہ ہمارے بچے اور نوجوان متنفر ہونے کی بجائے محبتیں کریں ، خوشی سے مسجد وں میں آئیں اور اپنا وقت اللہ کریم کی بارگاہ میں گزاریں۔

آپ بھی تہیہ کیجئے کہ مسجد میں آئے اللہ کے ہر ہر مہمان کا اکرام کریں گے،خیال رکھیں گے۔ کیاخیال ہے؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں