انسانی حقوق کے ستر سال۔۔۔ دس دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن

آج دس دسمبر کو انسانی حقوق کا سترواں عالمی دن منایا جا رہا ہے، آج سے ستر سال قبل اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا ڈیکلریشن منظور کیا تھا جس کے تحت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک اس بات کے پابند ہیں،کہ ان انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک تمام انسانوں کو بلا رنگ و نسل،مذہب و ملت و جنس اظہار رائے کی آزادی، نقل و حرکت کی آزادی، رہن سہن و سفر کی آزادی کو یقینی بنانے کے پابند ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی جنرل کونسل نے جنگ عظیم دوم کے بعد جدید انسانی حقوق کی ضرورت کا تصور ابھرا۔ اس بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کرنے سے حکمران اور ریاست اس بات کے پابند ہوگئے ہیں کہ بلاوجہ کسی انسان کے بنیادی انسانی حقوق پر قدغنیں نہیں لگائی جائیں گی۔
انسان کو اسکی پیدائش کے ساتھ ہی درج ذیل حقوق حاصل ہوجاتے ہیں

(1) زندگی کے حقوق یعنی زندہ رہنے کا حق

( 2 ) آزادی کا حق مطلب آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے حقوق

( 3)پراپرٹی کی خرید و فروخت کے حقوق

( 4) اظہار رائے کی آزادی یعنی تحریر و تقریر کی آزادی

( 5) کاروبار کرنے کے حقوق کا ہونا انسان کا بنیادی حق ہے۔
اسی طرح ہر انسان کے کچھ سیاسی حقوق بھی مقرر کیے گئے ہیں جن میں

( 1) سیاسی پارٹی قائم کرنے کے حقوق

( 2) ووٹ ڈالنے کے حقوق

(3 )پبلک افئیرکے حقوق

(4 ) سیاسی افئیر کے حقوق شامل ہیں۔

انسان کے بنیادی انسانی حقوق اور انسان کے سیاسی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا چارٹر قابل تحسین اور لائق تعریف ہے لیکن اقوام متحدہ بااختیار ہونے کے باوجوداپنے مرتب کردہ انسانی حقوق کے چارٹر پر عملدرآمد کروانے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کلی طور پر ناکام رہا ہے۔ فلسطین سے کشمیر تک ،اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور دن بہ دن مذید بگڑتی جا رہی ہے۔ اسکی وجوہات میں اقوام متحدہ کی سپرپاورز کا اپنے چہیتے رکن ممالک کو تحفظ دینا ہے۔
امریکا اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی کرتا ہے تو روس شام سمیت اپنے حلیف ممالک کی پشت پناہی کرتا ہے۔ چین بھی پاکستان سمیت بہت سے ممالک کے حکمرانوں کو اپنی آنکھ کا تارا سمجھتا ہے۔اقوام متحدہ کے مستقل ویٹو پاور کے حامل ممالک کے روئیے انسانوں کو ان کے کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی راہ میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے مسلہ فلسطین اور مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں کوئی ویٹو پاور انہیں حل کروانے میں سنجیدہ نہیں۔ مسلہ فلسطین اسرائیل اور مسلہ کشمیر بھارت کی صوابدید پر چھوڑ رکھے ہیں۔ ہٹ دھرمی کی حد یہ ہے کہ یہ سپرپاورز اپنے مفادات میں عراق اور افغانستان کے مسائل کے لیے اقوام متحدہ اور اسکی سلامتی کونسل کو اپنے ” گھروں” کی لونڈیوں کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔دھڑا دھڑ قراردادیں منظور بھی کرلی جاتی ہیں اور ان پر عمل بھی گھنٹوں میں کروا لیا جاتا ہے لیکن جب مسلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کی بات کی جاتی ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ” یہ پرانی ہوگئی ہیں” یہ کھلا تضاد دنیا میں دیرپا اور پائیدار امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
دنیا کی سپرپاورز کی دوغلے پن کے باعث اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود تمام متنازعہ مسائل حل ہونے کے قریب ہونے کے باوجود حل نہیں ہورہے بلکہ مذید پچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میانمار کی مثال بھی فلسطین اور کشمیر کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
پاکستان کو بھی انسانی حقوق کمیشن نے ان ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی بہت زیادہ ہو رہی ہے۔اس فہرست میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، سزائے موت کی سزائیں دیکر انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور قیدیوں کو پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ توہین مذہب کے نام پر بھی اکثریتی مسلک کے لوگ اقلیتی مسالک کو رگڑا دے رہے ہیں۔
بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کو بھی ہدف تنقید بناکر پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاریا ہے۔ یہ صورتحال حکمرانوں کو پکار پکار کہہ رہی ہے کہ اٹھو نیند غفلت سے بیدار ہوجاؤ اور عوام کو ان کے بنادی انسان حقوق دیکر ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں ۔ پاکستان کو عدم مساوات کی دلدل سے باہر نکالیں اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کے سہمے ہوئے عوام کو عدم تحفظ کے احساس کے سمندر سے نکال کر انہیں احساس دلائیں کہ وہ محفوظ ہیں۔
ملا گردی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کھیل کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرکے عالمی برادری پر واضح کیا جائے کہ پاکستان میں روشن خیال حکومت ہے۔ اس طرح پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کرنے والے ممالک کی صف میں کھڑے ہوجائے گا۔ہاں انسانی ھقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے ان اقدامات کی تعریف کی ہے اور انہیں سراہا ہے جو خواتین کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں