بلوچ عوام کا دکھ کیا ہے

بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف مزاحمتی گروہ کے راہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے بیوی بچوں سمیت دیگر حراست میں لی گئی خواتین اور بچوں کو رہا کردیا گیا ہے، اور حکومت بلوچستان کے وزیر اعلی نواب ثناء اللہ زہری اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ا ن خواتین اور بچوں کو بلوچ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے رہا کیا گیا ہے، حکومت بلوچستان کی جانب سے ان خواتین کو رہا کرتے ہوئے اس بات کی تکرار جاری رکھی گئی ہے کہ ان خواتین اور بچوں کو افغان بارڈر سے گرفتار کیا گیاتھا، جبکہ ان خواتین کے لواحقین کا موقف حکومتی موقف کے برعکس ہے،ان کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا تھا۔

کراچی سے بھی کچھ بلوچ خواتین اور بچوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات میڈیا میں گردش کررہی ہیں، جن میں نوازعطا بلوچ کے اہل خانہ اور بلوچستان ہیومن رائیٹس آرگنائزیشن سے وابستہ خواتین شامل بتائی جاتی ہیں۔ جن کا دعوی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کیا بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کا واقعی وجود ہے یا محض پروپیگنڈہ ہے، بلوچ عوام کا دکھ کیا ہے ؟ سکیورٹی اداروں کی جانب سے علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں سے متعلق جاری خبریں حقیقت پر مبنی ہیں یا بلوچ عوام کی نسل کشی کے لیے جواز تراشنے کے لیے علیحدگی پسندی کی تحریک کا پرچار کیا جا رہا ہے ؟کیا سکیورٹی فورسز کے جوانوں پر ملکی آئین و قانون اور بین الااقوامی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت کسی کے افعال و اعمال کی سزا اس کے دوسرے عزیزوں رشتہ داروں اور اہل خانہ کو دی جا سکتی ہے؟
یہ سولات اس وقت پیدا ہوئے جب بلوچ قوم پرست راہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ فضیلہ بلوچ اور ان کی دیکر رشتہ دار خواتین اور بچوں کو سکیورٹی اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں اور حکومت کی جانب سے ان کی شناخت بتانے میں حیل و حجت اور گریز کی پالیسی اپنائی گئی ۔
ہمارا قومی میڈیا عوام کو اصل صورتحال سے آگاہی دینے میں مکمل ناکام ہے ،ناکام اس لیے کہ وہ آزادانہ خبریں دینے سے پرہیز کرتا ہے اور وہیں خبریں عوام تک پہنچاتا ہے جس کی اسے سکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اجازت ہوتی ہے یا جو انہیں مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ اوپر کے سوالات کی اصل حقیقت کے کھوج میں سوشل میڈیا کو کھنگالا تو ایک مختلف تصویر دیکھنے کو ملی۔ کہیں بی بی سی ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں کے ڈھیر دکھائی دئیے تو کہیں آزاد بلوچستان کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے متعدد ویب سائیٹس کا نیٹ ورک کام کرہا ہے۔
سوشل میڈیا کے ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ کی سائیٹس بلوچستان میں ریاستی اداروں کے خلاف متحرک تنظیموں کی سرگرمیوں ، ان کے جاری کردہ ہینڈ اوٹس سے بھری پڑی ہیں، وہاں سے معلوم ہوا کہ اکیلا ڈاکٹر اللہ نذر نہیں بہت سے بلوچ نوجوان ادھر ادھر ہوئے ہیں، استاد اسلم بلوچ سمیت کئی نام وہاں موجود ہیں، ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ سمیت تین خواتین بچوں کے علاوہ مذید کئی بلوچ قوم پرست راہنماؤں اور ورکروں کے اہل خانہ کو زیر حراست رکھا گیا ہے۔ عطانواز بلوچ کی بیوی کو دیگر خواتین کے ساتھ کراچی کے علاقے ۔۔۔۔۔۔ سے ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لی گئی خواتین نے سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے دوران جب گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت نامے دکھانے کے مطالبات کیے تو اس قانونی مطالبات کو ہوا میں اڑا دیا دیا گیا۔
منتخب حکومت اور ریاستی اداروں کو وطن عزیز کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حق ہے کیونکہ حکومتیں منتخب ہی اس لیے کی جاتی ہیں اور ریاستی اداروں پر قومی خزانے سے اربوں ڈالرز اس لیے خرچ کیے جاتے ہیں کہ وہ وطن عزیز کی حفاظت پر مامور ہیں، لیکن حکومت اور اداروں کو ایسی وجوہات کو ختم کرنا چاہیے جو نوجوانوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیبات دیتے ہیں ،جو ( بقول حکومت و ریاستی اداروں کے )دشمن کے آلہ کار بننے پر مجبور کرتے ہیں، جیسے کہتے ہیں کہ چور کو نہ مارو بلکہ چور کی ماں کو مارو۔
حکومت اور ریاستی ادارے اگر صدق دل سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ بلوچستان کے باغی گروہوں یا ریاست کے خلاف لڑنے والوں کو راہ راست پر لایا جائے تو فوری طور پر بلوچستان سمیت دوسرے صوبوں کو انہیں آئین کے مطابق حقوق دئیے جائیں، این ایف سی ایوارڈ ، ملازمتوں میں حصہ دینے میں حق تلفی ختم کی جائے، سوئی گیس سمیت دیگر معدنیات کا مکمل معاوضہ دیاجائے، حب الوطنی کے معیار تبدیل کیے جائیں ریاستی اداروں کو آئین و قانون کا پابند بنایا جائے۔
مشرقی پاکستان کے عوام کو یہی شکایت تھی کہ اسلام آباد اور پنجاب( اس وقت ون یونٹ کے تحت دو ہی صوبے تھے مشرقی پاکستان اور سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور پنجاب پر مشتمل مغربی پاکستان) سے انہیں کبھی تعاون نہیں ملا ،کبھی پیار سے نہیں دیکھا گیا، بنگالی عوام کو یہ بھی شکوہ تھا کہ ان کی اکثریت کو مغربی پاکستان کے برابر قرار دیکر ظلم کیا اور ان کے حقوق غضب کیے گئے، جس کا نتیجہ سولہ دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں برآمد ہوا، اگر غور کیا جائے تو مشرقی پاکستان جیسی شکایات ہی بلوچستان کے مختلف حلقوں سے بلند ہو رہی ہیں اور اسلام آباد ان آوازوں کو بزور طاقت دبانے پر مصر ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے بلوچ طلباء کے خلاف ایکشن عصرحاضر کی تازہ مثال ہے اس ایکشن کو ختم کیا جائے اور بلوچ طلباء کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ قائد اعظم یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ممکن ہو سکے۔ اس ایکشن کے نتینہ میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں ان میں اسلام آباد کی بلوچستان کے عوام سے نفرت کی بو آرہی ہے۔بلوچ طلباء چیخ چیخ کر بلوچستان کے سیاستدانوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں بھوک ہڑتال کے باعث ہسپتال پہنچنے والے طلباء کی نگاہیں اپنے ہم وطن لیڈروں کی راہیں دیکھ رہی ہیں لیکن سوا مایوسی کے انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا جو بلوچستان کے سیاستدانوں کی بدقسمتی ہے۔
بلوچستان میں اب تک خواتین اور بچوں کو حراست میں لینے کے واقعات ڈاکٹر اللہ نذر کے اہل خانہ کے اٹھائے جانے سے قبل کوئی نظیر نہیں ملتی البتہ بچوں کے متعلق اک دکا واقعات سامنے آئے ہیں جوکہ غلط نظیر قائم ہوگی، وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں کو مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور بلوچ نوجوانوں کے غائب کیے جانے کے واقعات کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں ورنہ تاریخ میں انہیں میر جعفر اور میر صادق سے ابتر الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔
ڈاکٹر اللہ نذر اور استاد اسلم کے اہل خانہ کو افغان بارڈر سے حراست میں لیے جانے کی خبروں میں صداقت ہے اوراگر ڈاکٹر اللہ نذر کے اہل کانہ اور ان کی حامی تں طیموں کے موقف کہ انہیں گھروں سے اٹھا یا گیا تھا تو حکومت بلوچستان کوئی آزاد انکوائری کمیشن تشکیل دے جو اس بات کا تعین کرے کہ ان خواتین کو گھروں سے اٹھایا گیا ہے یا واقعی افغان بارڈر سے انہیں حراست میں لیا گیا ۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اہل خانہ کی گرفتاری اور رہائی کی خبروں کو جس انداز سے میڈیا پر پیش کیا گیا وہ بھی درست نہیں ، پھر بھی وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی تحسین کے لائق ہیں جنہوں نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان معزز کواتین کو باعزت گھروں میں پہنچایا۔
وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر داخلہ سے التماس ہے کہ وہ اس رواداری کے جذبے اور بلوچ روایات کو قائم رکھتے ہوئے آئندہ کے لیے بھی اس طرح کا بندوبست کیا جائے کہ خواتین اور بچوں کو حراست (جسے مزاحمتی گروہ اغواء کہتے ہیں) میں نہ لیا جائے اگر آپ اس میں کامیاب ہوگئے تو اختلافات کے باوجود بلوچ عوام کے دلوں میں آپ ”گھر”بنا لیں گے اور تاریخ میں بھی اچھے پیرائے میں یاد کیا جائے گا وگرنہ جو ہوگا اس سے آپ بھی بخوبی آگاہ ہیں اور بلوچ عوام بھی

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں