بیت المقدس (یروشلم) !!

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرتے ہوئے اپنی ایمبیسی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی منظوری دے دی جسے لیکر دنیا بھر کے مسلمانوں میں سخت غم و غصّہ پایا جاتا ہے .
بہت سے دوست احباب ایسے ہیں جنہیں اس ” غصّہ ” کی وجہ سمجھ نہیں آرہی لہٰذا کوشش کرتا ہوں کہ مختصر اور آسان الفاظ میں اس ” غصّہ ” کی وجہ سمجھا سکوں .
بیت المقدس پر مسلمانوں نے حضرت عمر رض کے دور میں پہلی بار فتح حاصل کی جہاں انکے مدمقابل عیسائی تھے ، اس کے بعد وہ دور آیا جو مسلمانوں کی خوشحالی کا دور تھا جب کہ اسکے مقابل یورپ معاشی لحاظ سے بدترین حالات سے گزر رہا تھا . عیسائی اس وقت دو حصوں میں تقسیم تھے ۔ ایک حصے کا تعلق یورپ کے مغربی کلیسا سے تھا جس کا مرکز روم تھا۔ دوسرا مشرقی یا یونانی کلیسا جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ دونوں چرچ کے ماننے والے ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ روم کے پوپ کی ایک عرصہ یہ خواہش تھی کہ مشرقی بازنطینی کلیسا کی سربراہی بھی اگر اسے حاصل ہوجائے اور اس طرح وہ ساری عیسائی دنیا کا روحانی پیشوا بن جائے گا۔ لہٰذا عیسائیوں کی دگرگوں معاشی حالت دیکھتے ہوئے اس نے اعلان کردیا کہ ساری دنیا کے عیسائی بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ، اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ جو اس جنگ میں مارا گیا وہ جنت کا حقدار ہوگا جب کہ زندہ بچنے والوں پر بیت المقدس کا مال تقسیم کیا جاۓ گا ( سلطان محمود غزنوی کو ” لٹیرا ” کہنے والا طبقہ عیسائیوں کی صلیبی جنگ کے مقاصد پر لب سی لیتا ہے جبکہ یہ علی الاعلان مال کے حصول کی جنگیں تھیں )
بہرحال سینکڑوں سالوں کی حکمرانی کے بعد پہلی صلیبی جنگ میں بیت المقدس مسلمانوں سے نکل کر عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا جنھوں نے یہاں مسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا ، یہاں تک کہ بیت المقدس میں کوئی اسلام کا نام لیوا نا رہا ، اس دوران سلجوقی مسلمانوں کا سورج طلوع ہونا شروع ہوا جنھوں نے عسائیوں سے جنگیں کی اور عرب و افریقی علاقے دوبارہ حاصل کئے اور پھر بالاخر سلطان صلاح الدین کی قیادت میں مسلمانوں نے دوبارہ بیت المقدس پر اسلام کا جھنڈہ لہرا دیا ، عیسائیوں کے برعکس مسلمانوں نے بیت المقدس کی سرزمین پر غیر مسلموں کا خون نہیں بہایا ، جو عیسائی جزیہ دینے کی سکت نہیں رکھتا تھا سلطان صلاح الدین نے اسے اپنا غلام بنا کر بعد ازاں آزاد کردیا .
تاریخ شاہد ہے جب جب بیت المقدس کی حکمرانی مسلمانوں کے پاس رہی یہاں امن رہا ، عیسائی اور یہودی یہاں آزادی سے زندگیاں گزارتے اور اپنی مذھبی رسومات ادا کرتے تھے جب کہ عیسائیوں کی حکمرانی میں یہاں پہلے یہودی اور پھر مسلمانوں کا بدترین قتل عام ہوتا رہا ہے .
اٹھارویں صدی کے اختتام پر یہودیوں کی ایک تحریک وجود میں آئی جس کا نام ” زایو نزم ” رکھا گیا ، “zion” دراصل یروشلم ( بیت المقدس) میں واقعی ایک پہاڑی کا نام ہے ، اس تنظیم کے بانی نے یہودیت کو ایک مذہب کے ساتھ ساتھ بطور قوم متعارف کروایا یعنی اس تحریک کے رو سے دنیا بھر کے یہودی چاہے جس بھی ملک کے شہری ہوں انکے مفادات یکساں ہوں گے ، جو ایک کا دشمن وہ سب کا دشمن اور جو ایک کا مقصد وہی سب کا مقصد . یورپ میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے فلسطین میں قبضہ کے خواب دیکھنا شروع کئے اور پھر تاج برطانیہ میں موجود یہودی لابی کے ذریعہ برطانوی افواج کے زیر سایہ فلسطین میں آبادکاری شروع کی .
جنگ عظیم دوم کے بعد جب برطانیہ اس خطہ سے رخصت ہونے لگا تو اقوام متحدہ کے تعاون سے فلسطین کے تقسیم کار کا فارمولہ بنایا جس کی رو سے فلسطین کو آزاد کردیا گیا جب کہ یہودیوں کو فلسطین میں ہی ایک آزاد ریاست ” اسرائیل” بنا کر دے دی گئی جبکہ بیت المقدس (یروشلم) جوکہ مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے مذہبی حیثیت رکھتا تھا اسے اسپیشل بین الاقوامی زون قرار دیا گیا یعنی اس پر کسی کی حکمرانی نہیں ہوگی .

پر جلد ہی اسرائیل نے معاہدہ سے روگردانی کرتے ہوئے پہلے مصر اور پر لبنان کی سرزمین پر نظریں گاڑنا شروع کی ساتھ ہی فلسطین کی سرزمین پر بزور فوجی طاقت اپنی آبادیاں بڑھانا شروع کردی . لہٰذا حالات یہاں تک آ پہنچے کے فلسطین کے مسلمان محض غزہ اور مغربی کنارے تک محدود ہوکر رہ گئے . جس میں سے مغربی کنارے میں موجود فلسطینی آبادی میں یہدودی آبادیاں جس طرح بنائی گئیں اسکی نہایت سادہ مثال یہی سمجھ لیں کہ جیسے ” بحریہ ٹاؤن ” ہر شہر کے اندر ایک الگ شہر بنا رہا ہے جسکی سیکورٹی سے لیکر اسکول ہسپتال تک الگ ہیں ٹھیک اسی طرح کی آبادیاں اسرائیل کے یہودی فلسطینی سرزمین پر بزور طاقت اور زور و زبردستی پچاس سالوں سے بنائے جارہے ہیں اور اب حالات یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ اکثریتی زمین کے نام پر فلسطینی مسلمانوں کے پاس محض غزہ شہر کا ایک ٹکڑا ہی بچا ہے . اسرائیل کی دیکھا دیکھی بھارت بھی کشمیر کی سرزمین پر ہندو آبادکاری بڑھانے لگا ہے تا کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو بتدریج ختم کیا جاسکے .
اور اب یروشلم جو تمام دنیا کے نزدیک انٹرنیشنل سٹیٹس رکھتا تھا اسے نیم پاگل امریکی صدر نے اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دیکر تمام انسانیت کے منہ پر کرارہ تھپڑ مارا ہے ، پچھلے تین ہزار سالوں سے بیت المقدس جنگ کا شکار رہا ہے .
ہیکل سلیمانی (مسجد اقصیٰ) کی تعمیر سے لیکر بابل کے شہشاہ بخت نصر کے
اسے مسمار کرنے تک اور پھر شہنشاہ فارس روش کبیر کے اسے یہودی حکمران ہیروز اعظم کے ذریعہ دوبارہ تعمیر کروانے سے رومی جرنیل ٹائٹس کے اسے پھر سے مسمار کرنے اور پھر رومیوں کا عیسائی مذہب قبول کر کے اسے کلیسا میں تبدیل کرنے تک ، حضرت عمر رض کی فتح سے صلیبی جنگوں کی آمد اور پھر سلطان صلاح الدین کی حکمرانی تک ، جنگ عظیم اول سے لیکر جنگ عظیم دوم تک اس خطہ میں ہونے والی ہر بڑی جنگ کا مرکز بیت المقدس رہا ہے ، تاریخ شاہد ہے جب جب کسی ایک قوت کے پاس اس مقدس شہر کا اختیار رہا ہے دنیا میں فساد رہا ہے ، کچھ وقت قبل مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں پر بند کردئے گئے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی اور اب پھر ایک شیطان الصفت امریکی صدر اور سازشی و فسادی ذہن کے مالک یہودیوں نے اس پر اپنا قبضہ جمایا ہے ، دیکھتے ہیں دنیا پھر کب آگ کا ایندھن بنتی ہے .
پاکستان میں موجود کچھ لوگ اسے خالص ” وراثت ” کا جھگڑا قرار دے رہے ہیں ، ان سے محض اتنا ہی کہوں گا کہ اگر یہ وراثت کا جھگڑا تسلیم کرلیا جاۓ تو برصغیر کے دو تہائی شہری روس بدر کردئے جایئں ، امریکہ اور آسٹریلیا تمام شہری انگلستان بدر کر کے وہاں کے مقامی قبیلوں کے حوالے کردیا جاۓ یہ وراثت کی بات صرف مسلمانوں کے لئے ہی کیوں یاد آتی ہے ؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں