جشن ولادت مصطفی(ص)پر سوچنے کا مقام !!!

فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھی کافی پی رہی تھی کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا
میں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھی اور
میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟
اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں۔
میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘
میں نے پوچھا ’’آپ اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘
وہ چُپ ہو گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘
میں مسکرائی اور اس سے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘
اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘
اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں۔
یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘
یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘ میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں۔ آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کےساتھ احتجاج کریں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘
میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتی رہی،وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔
چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘
اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘ سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا
لیکن میں اس دن ہکا بکا بیٹھی رہی اور اس دن سے یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتی ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھی لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘
میں جان گئ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔۔
جب یہ بات طے ہے تو آج مسلم اُمّہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حضور صلى الله عليه و سلم نے اسلام کو ایک ایسے دین کی صورت میں پیش کیا، جس کے دائرہ رحمت میں پوری کائنات سمٹی ہوئی ہے تمام مخلوقات آپ صلى الله عليه و سلم کے سایہ رحمت میں پناہ گرین تھیبلاشبہ آپ صلى الله عليه و سلم ناقابل تسخیرجرنیل اورایک مدبرحکمران تھے۔
آپ صلى الله عليه و سلم کی رحمت کی جھلک نرم خوئی اور رحم دلی سے ظاہر ہوتی ہے ۔ضد اور اشتعال جیسے جذبات کا آپ صلى الله عليه و سلم سے کچھ تعلق نہ تھا۔
مگر آج تمام عاشقان رسول میں سے کتنے ایسےعاشق ہیں جو نبی پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ؟فرقوں میں بٹّے ہم بارہ ربیع الااول میں برقی قمقمے اور محافل میلاد سےآنکھوں اور کانوں کی تسکین تو حاصل کر لیتے ۂیں مگر سچے عاشقوں کے دل کو سکون تو سیرت نبوی پر عمل کرکے ہی آتا ہے کیونکہ آقا ئےدوجہاں سرور کو نین ساقی کوثر محسن انسانیت اور رحمت العالمین ہی مکمل دین اسلام ۂیں۔
اللہ پاک ہمیں حشر میںاُس عظیم پاک ہستی کےسامنے سُرخرو فرمائے۔جو تمام امتیوں کےلئیےباعث بخشش ہو نگے۔
“صلی اللہ علیہ وسلم”۔

آپ (ص) کی ایک اُمتی۔

شیئرکریں
mm
شاذیہ خان سینئیر صحافی اور اینکر پرسن ہیں۔ کئی قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ آج کل ایک بڑے چینل پر حالات حاضرہ پر پروگرام کرتی ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نگاہ ہونے کی وجہ سے ان کے کالمز اور بلاگز انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں