دیوالی” مبارک”

کسی بھی مذہب کا کوئی بھی تہوار ہو ، اس کا مقصد خوشیوں کو بانٹنا ہوتا ہے ۔اسلام تمام مذاہب کا احترام کرنا سکھاتا ہے ۔ قرآن کریم سادہ اسلوب میں احترام معاشرت کا سبق دیتا ہے ۔ گزشتہ دِنوں ہندو برادری کا مذہبی تہوار دیوالی منایا گیا ۔ حسب عادت اور خاص طور پر پاکستان میں مذہبی اقلیتوں میں ہندو برادری کی زیادہ تعداد ہونے کے سبب پیروکاران ہندومت کو ان کے مذہبی تہواروں پر مبارکباد دینا ایک روایت بن چکی ہے۔یہاں ہندو برداری کو بھارت کے انتہا پسند شہری کے بجائے ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ حسنِ سلوک کے زمرے میں یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم بھارت کی انتہا پسند حکومت ، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اب ہندی زبان میں عربی الفاظ کے وارد ہونے پر بھی خطرات محسوس کرنے لگے ہیں۔

کینڈا کے وزیر اعظم نے ایک دیوالی کی تقریب میں شرکت کی تصویر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کرتے ہوئے دیوالی “مبارک”بھی لکھ دیا ، جس کے بعد ان پر انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے سخت تنقید کی جانے لگی یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی جانب سے جب اپنے ہندو دوستوں کو مبارک کا تہنیتی پیغام دیا گیا تو ان پر بھی تنقید کے دروازے کھول دیئے گئے ۔ ایک عجیب فضا پیدا کردی گئی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اسلامی ایٹم بم کا حملہ کردیا گیا ہو ۔ بعد ازاں علم ہوا کہ بقول تنقید نگاران ، انہیں دیوالی کی” شبھ کامناؤں” کی جگہ لفظ مبارک پر اعتراض ہے۔ کیونکہ یہ عربی کا لفظ ہے اس طرح انہیں خدشہ ہے کہ عربی کلچر ان میں خاموشی سے داخل جائیگا ۔
بھارت کے انتہا پسندوں کو ہمیشہ بڑی دُور کی سوجتی ہے ۔ قریب کی نظریں ہمیشہ ان کی کمزور ہیں اسی لئے انہیں محبت کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی بلکہ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں۔اب انکے اسلام فوبیا کا کیا علاج کیا جائے ، یہ سمجھنے سے تو ہم قاصر ہیں ، کیونکہ اب بھارت میں ، سینکڑوں سال تک حکمران رہنے والے مسلم حکمرانوں کی اُن تاریخی نشانیوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے جن کی وجہ سے لاکھوں غیر ملکی سیاح بھارت جاتے ہیں۔ یہ تاریخی عمارتیں دنیا میں بھارت کی پہچان بنی۔ تاج محل کو لیکر بھارت میں ایک نیا تنازعہ جنم لے چکا ہے کہ یہ دور غلامی کی نشانی ہے لہذا اسے ختم کردینا چاہیے ۔ بھارت کی ریاستی حکومت نے اپنے سیاحتی پروگرام سے تاج محل کے نام کو خارج کرکے مندروں کے تعارف پر مبنی کتابچہ شائع کیا ہے۔

اب ہندو انتہا پسندی کے نئے رجحان کی جانب آتے ہیں جس میں مسلم حکمرانوں کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی عمارتوں کو بھارتی انتہا پسند ہندو بوجھ سمجھنے لگے ہیں ۔ ویسے تو بھارتی ناگراتوں نے خود ہی اس کا مناسب جواب دینا شروع کردیا ہے کہ تاج محل پر اگر اعتراض ہے تو راشپتی راج بھون ، لال قلعہ جیسے تاریخی عمارتوں سے بھی بھارتی جھنڈا اُتارکر انہیں مہندم کردیا جائے۔دراصل مغلیہ طرز تعمیر سے مراد وہ طرز تعمیرہے جسے مغلوں نے سولہویں، سترہویں اور اٹھارویں صدی میں اپنے زیر اقتدار علاقوں خاص کر برصغیر پاک و ہند میں تعمیر کرایا۔ مغلیہ فن تعمیر بنیادی طور پر اسلامی فن تعمیر، ایرانی، ترکی، بازنطینی اور ہندوستانی فن تعمیر کا ملغوبہ ہے۔ مغلیہ فن تعمیر کی مثالیں اس وقت ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں دیکھی جا سکتی ہے۔شاہجہاں نے اپنے دور حکومت میں دہلی، آگرہ، اجمیر اور لاہور میں بڑی مساجد تعمیر کرائیں۔ دراصل تاج محل کی آڑ میں بھارتی ہندو انتہا پسندوں کا ناپاک منصوبہ یہی ہے بھارت میں موجود  اُن مساجد کو بابری مسجد کی طرح شہید کرکے ہندو انتہا پسند مندر قائم کرسکیں۔کیا تاج محل کے بعد ان تاریخ کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اگر غلامی کی نشانیوں کو مٹانا ہے تو صرف ’تاج محل ہی کیوں، راشٹر پتی بھون، پارلیمنٹ، لال قلعہ، قطب مینار، آگرے کا قلعہ سبھی کو گرائیے۔اسی طرح اگر” مبارک ” لفظ پر اعتراض ہے تو مودی جی ، بھارت کے آئین میں مکمل تبدیلی کرکے ہندی کے بجائے سنسکرت کا نفاذ کیجئے۔

بلا شبہ ہندی بھارت میں بولی جانی والی ایک زبان ہے جس کے ماخذ وہی ہیں جو اردو کے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی اُردو سے نکلی۔ فرق یہ ہے کہ ہندی کا جھکاؤ سنسکرت کی طرف بہت زیادہ ہے۔ اس کا رسم الخط دیوناگری یا دیو نگری کہلاتا ہے۔لفظِ ہندی اُردو زبان کے پُرانے ناموں میں سے ایک ہے۔ اس لفظ کا معنیٰ بھارتی یا بھارت سے متعلّق ہے۔ہندی زبان 19 ویں صدی کے اوائل میں اُردو سے بنائی گئی۔ انگریزوں کی نفسیاتی پالیسی ‘بانٹ کر حکومت کرنا’ کے تحت اُردو زبان سے اُردو۔فارسی الفاظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھنے سے ہندی زبان وجود میں آئی۔اہل ہنود کی اصل زبان سنسکرت ہے۔کالی داس ، سورس داس سنسکرت کے بڑے شاعراور عالم گذرے ہیں۔لیکن کیا بھارت کی انتہا پسند ہندو سرکار اور ان کے چیلے چپاٹے ، گرو گھنٹال سلیس ہندی کی جگہ سنسکرت کولا سکیں گے ، جو اہل ہنود کے اُوپر سے گزر جاتی ہے۔
دراصل بھارت کی انتہا پسند حکومت اور ان کے پیروکار ان شدت پسندی اتنی انتہا پسند ہوگئی ہے کہ خوشیوں کے لئے دلی جذبات کے پیغامات میں بھی انتہا پسندی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرنے لگے ہیں۔ دنیا کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک میں رہنے والے افرادجب اپنے وطن ،عزیز رشتے داروں ، دوستوں سے دور ہوتے ہیں تو اِن کے خوشیوں کے تہواروں میں اپنوں سے دوری کی کسک بہت تڑپاتی ہے۔ لیکن بھارتی ہندو انتہا پسند’ لو جہاد ، بیٹی واپس لاؤ ، مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے ، انتہا پسند غفرانی مہمات سمیت کئی انتہا پسند رجحانات کے حامل تحریکوں کو بڑھاؤا دے رہے ہیں۔جس سے بھارتی معاشرے میں انارکی اور انتشار عروج پر ہے ۔ ہندو دھرم میں نچلی ذات قرار دیئے جانے والے خاندانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے ۔ اس سے تمام دنیا واقف ہے ، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جس قسم کا معتصبابہ رویہ ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارا اسلام رواداری ، حسن سلوک اور دیگر مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے ، اسلام کے معنی ہی امن و سلامتی کے ہیں۔ اس لئے دیوالی مبارک کہتے رہیں گے۔

شیئرکریں
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں