شدت پسند ی کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’

شدت پسندی دراصل جذبات کی انتہائی بلند سطح کو چھو لینے کا نام ہے۔ شدت پسندی کی تشریح میں صرف مذہب سے منسلک کرنا مناسب نہیں ہے۔ یقیناً شدت پسندی کے کئی اجزا میں ایک جُز مذہب سے تعلق بھی بنتا ہے جہاں فریقین اپنے موقف کی حمایت کیلئے ہر حربہ ، یہاں تک کہ تشدد کا سہارا بھی لے لیتے ہیں’ لیکن ایسے صرف اسلام سے جوڑے جانا بھی درست نہیں ہے۔پُر تشدد کاروائیوں میں انسانی جان و املاک کو نقصان پہنچا کر شدت پسند اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔جیسے براہ راست دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن شدت پسندی کے دوسرے اجزا کے حوالے سے ہماری توجہ مبذول نہیں ہوتی کہ جذبات کی شدت کے اظہار کو متوازن بنانے اور برداشت کا مادہ پیدا کرنے کیلئے کونسے عملی اقدامات اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں شدت پسندی کی مختلف اقسام نے ایک عام انسان کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ گھریلو تشدد اور زوجین کے درمیان تلخیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ہمیں آئے روز ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں زوجین کے درمیان تعلقات کی شدت سے ان کے بچے شدید متاثر ہوتے ہیں ۔گزشتہ دنوں فیملی کورٹ کے حوالے سے افسوس ناک خبر سامنے آئی کہ خلع کے مقدمات کی تعداد حیرت انگیز حد تک بڑھ چکی ہے۔ خاص طور اس خبر نے سوالیہ نشان کھڑا کردیا کہ برسوں برس ساتھ رہنے والوں کی اکثریت نے بھی علیحدگی کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ ان کے ایسے فیصلوں سے ان کے بچوں پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہو رہے ہیں لیکن جذبات کی شدت پسندی نے مفاہمت کے تمام راستے مفقود کرکے جیون بھر ساتھ نبھانے والوں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کردیا
۔شدت پسندی کے دوسرے رجحان میں سیاسی اختلاف رائے نے آہستہ آہستہ جہاں اخلاقی انحطاط پذیری اختیار کرلی ہے تو دوسری جانب سیاسی کارکنان کے درمیان آئے روز مسلح تصادموں نے سیاست کو خدمت کے بجائے جنگ کا اکھاڑہ بنا دیا ہے۔کراچی میں تو سیاسی جماعت کا جھنڈا لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے ۔ کراچی میں علاقوں کی پہچان کسی بھی سیاسی جماعت کی وال چاکنگ اور پارٹی کے جھنڈوں کی تعداد سے با آسانی کی جا سکتی تھی ۔ سیاسی کارکنان اپنی سیاسی جماعت کا جھنڈا من پسند جگہ پر لگانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں ۔ کراچی آپریشن سے قبل بارود کے ڈھیر پر بیٹھے کراچی کی حالت اس قدر تشویش ناک ہوچکی تھی کہ خوف کے مارے کراچی کے حساس لوگوں میں جانے سے لسانی قومیتیں اپنا شناختی کارڈ چھپا لیا کرتی تھی۔شدت پسندی کی اس بھیانک روش کو قانون نافذ کرنے اداروں کے آپریشن نے وقتی طور پر دبا دیا ہے لیکن سیاسی شدت پسندی کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے متبادل سوچ کی فراہمی کا مستقل علاج نہیں کیا گیا ہے۔
اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے ، تاہم عوام آئے روز کی ہڑتالوں اور یوم سیاہ کے نام، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست میں املاک کے نقصانات سے عارضی طور پر محفوظ تو ہوچکے ہیں لیکن کراچی کی عوام میں احساس محرومی کا لا ؤا شدت کے ساتھ اُبھارا جارہا ہے۔ حکومتی اقدامات کی تمام تر توجہ اقتدار کے دوائم اور سیاسی جماعتوں کی توجہ آنے والے انتخابات میں ان سیاسی مخالف جذبات کو اپنا ووٹ بنک بڑھانے کیلئے عزائم آشکارہ ہیں ۔
تعلیمی اداروں میں طلبا کی سرگرمیاں تعلیم کی فروغ کے بجائے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال ہورہی ہیں ۔ مہنگی تعلیم حاصل کرنا ایک متوسط طبقے کے نوجوان کے لئے ممکن نہیں ہے جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت و معیار تعلیم انتہائی افسوس ناک حد تک نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو مسمار کررہی ہیں۔مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان شدت پسندی کے حوالے تفریق کا عمل اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہونے کے سبب نئے تنازعات کو جنم لے چکا ہے۔ شلوار قمیض یا جینز کی تخصیص ختم ہوچکی ہے ۔ عوام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مذہبی شدت پسندی کے نئے رجحان نے انجانا خوف پیدا کردیا ہے ۔بیشتر اساتذہ کی شدت پسندی کے جانب رجحان نے ان گنت اپنے شاگردوں کے ناپختہ اذہان کی برین واشنگ کی ہوگی جو مستقبل میں خطرناک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔مختلف مسالک کے پیروکاروں کا دوسرے مسالک کے خلاف دلیل و برہان سے قائل کرنے کی روش تبدیل ہوکر شدت پسندی میں داخل ہوچکی ہے ۔ متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جن کا ماضی میں تذکرہ نہیں ملتا تھا لیکن تشدد کے رجحان کی ترویج نے شدت پسندی کو عفریت میں تبدیل کردیا ہے۔
سوشل میڈیا میں ان گنت صفحات میں بیٹھے دانشوار ٹائپ احباب نے اپنا ایک اجتہادی مسلک اپنالیا ہے ، ان کاکسی کے لئے حسن ظن سے کام لیناطبعیتِ نازک پر ناگوار گذرتاہے ۔ تنقید برداشت کرنے کے لئے بہت بڑا دل گردہ رکھنا پڑتا ہے ۔ تعریف کے پل باندھنے پر باچھیں کھل جاتی ہیں لیکن تنقید کا حرف غلط لکھے جانا ایسا بن جاتا ہے کہ جیسے کسی نے جلتی آگ میں گھی ڈال ہو۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے میڈیا سیل کی فورسز اپنے مخالفین پر یوں حملہ آور ہوتی ہیں جیسے دین و دنیا کے سب سے بڑے دشمن کے خلاف علَم حسین بلند کردیا ہو ۔ ہر فریق کو مخالف” یزیدکا لشکر” اور خود کو “حسین کے قافلے کا داعی” تو کبھی اپنے لیڈر کو موسیٰ اور مخالف کو فرعون کو تشبیہ دینے لگتے ہیں ۔ شدت پسندی کے اس رجحان میں قومی رہنماؤں کی تصاویر کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جماعتوں نے اپنے کارکنان کی تربیت کرنے کے بجائے انھیں شہ دے رکھی ہے۔ سوشل میڈیا میں اخلاقی گراؤٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی حساس انسان کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ احباب کے انتخاب میں جس قدر پر احتیاط برتی جائے لیکن جہاں کسی موقف پر اظہاریہ دوسرے فریق پر گراں گزرتا ہے تو شدت پسندی کی آگ انسانیت کو بھی جھلسا دیتی ہے۔
شدت پسندی کے خلاف حکومت چاہتی ہے کہ زیرو ٹالرینس ہو۔ لیکن ہمارے معاشرتی اقدار کی دیواریں اس قدر ناپختہ ہوچکی ہیں کہ زندگی کے تمام شعبے جات میں شدت پسندی کا زہر مختلف اقسام سے سریت کرچکا ہے۔ شدت پسندی کی اس دیوارِ چین کوختم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات نا ہونے کے برابر ہیں ،شدت پسندی صرف عسکری دہشت گردی تک محدود نہیں رہی ہے ۔ یہ تو شدت پسندی کا آخری پڑاؤ ہوتا ہے ۔پہلے شدت پسندی کی نرسریاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ شدت پسندی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا شکار ہیں۔ مغرب میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں فرسٹریشن کے شکار نوجوان شدت پسند کاروائیوں کے لئے عام استعمال کے اشیا ء استعمال کرنے لگے ہیں ، ٹرانسپورٹ ، گھریلو استعمال میں آنے والی چھریوں اور آپریشن بلیڈ سمیت جلاؤ گھیراؤ کے لئے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم میں تربیت حاصل کئے بغیر صرف معاشرتی ناہمواریوں کی وجوہ سے شدت پسندی اختیار کرکے ایٹمی طاقت کے حامل ترقی یافتہ ممالک میں ایک بھی واقعہ خوف و ہراس پھیلا دیتا ہے۔ شدت پسندی اسلام یا پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اقوام عالم کا مسئلہ بن چکی ہے ۔ شدت پسندی نے ایک صنعت کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔جیسے ناعاقبت اندیشن نادان دوست مسلسل فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔ شدت پسندی کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ کیلئے سطحی اقدامات کے بجائے اجتماعی نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو اس مسئلے سے نبر آزما ہونے کیلئے ایک صفحے پر آنا ہوگا ۔
شیئرکریں
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں