عاصمہ جہانگیر بہادر لبرل

آج ہم عاصمہ جہانگیر صاحبہ جیسی بہادرلبرل عورت کے حوالے سے بات کریں گے مگرتھوڑی بات پہلے ملکی صورتحال پر۔ملک میں اب حالات روزانہ کی بنیاد پر بدل رہے ہیں ۔کیا ہوجائے گا کوئی دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتا مگر آثارخطرناک دکھائی دیتے ہیں۔ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہترہوتی ہے ۔اگرآج اندرا گاندھی زندہ ہوتی تو ضرور کہتی کہ پاکستان میں جتنی تیزی سے حالات تبدیل ہورہے ہیں اتنی جلدی توم یں ساڑھی نہیں بدلتی۔

ہمارے ملک میں بہت سے لبرل ہیں ان لبرلز  کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہ بہت معصوم ہوتے ہیں۔ یہ تنقید تحمل سے سنتے ہیں اوردلیل سے جواب دیتے ہیں۔ یہ کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، مخالف کا موقف سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ ہرنقطہ نظر سننے کا کمال حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ نقطے، اوراس طرح کے دیگردعوے اکثرنیم لبرل لوگ لبرل لوگوں کے دفاع کے لیے کرتے ہیں۔مگرحقیقت میں ایسا ہے نہیں۔ اقلیت کسی بھی ملک کی ہو جب تک اپنی اوقات میں رہے اسی میں اس کی خیرہوتی ہے ۔جمہوریت میں جتنی اقلیت غیرمحفوظ ہوتی ہے اتنی تاریخ میں کسی اور نظام میں نہیں ہوئی تھی ۔ پاکستان میں لبرل ایک اقلیت ہیں،اوریہاں لبرل کا اصل چہرہ ہمارے سامنے نہیں آتا البتہ دنیا کے جن ممالک میں لبرل کو مکمل اختیارحاصل ہے وہاں وہ کتنے وسیع القلب اورکتنا برداشت کرنے کا مادہ رکھتے ہیں یہ کوئی راز نہیں ہے ۔امریکہ اوریورپ میں آئے روز کے واقعات کھلی مثال ہیں۔ مگرلبرلزکی ان تمام خامیوں کے باوجود ان میں بھی چند ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی بہادری ،دلیری ثابت قدمی کی وجہ سے اکثرمتاثرکرجاتے ہیں۔

ویسے لبرلزاسلام سے الرجک ہوتے ہیں یہ بھی سچ ہے ۔پاکستان کی تاریخ کے لبرل چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ہمیشہ ایک نڈرلبرل کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ۔انہوں نے پہلی مرتبہ وہ جرت کی ،جوآج سے قبل کسی جج کو کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا تھا۔ تصدق حسین جیلانی صاحب کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہوئے پشاورچرچ حملہ کیس کا تاریخی فیصلہ تحریرکیا۔ جس میں انہوں نے پہلی بارانسانی حقوق کے عالمی منشورکی تشریح اس کی روح کے مطابق کی ۔اپنے فیصلے میں تصدق جیلانی صاحب نے فرمایا کہ ہر پاکستان کا آئینی اورقانونی بلکہ بنیادی حق ہے کہ وہ کوئی بھی مذہب اختیارکرے ،کسی مذہب کا انکار کرے یا کوئی نیا مذہب ایجاد کرے ۔ریاست کا انسان حقوق کے عالمی منشورکی روشنی میں فرض ہے کہ وہ ایسے شخص کے ایجاد کیئے گئے مذہب کی ترویج ،تدوین اورتبلیغ کا بھرپورموقع فراہم کرے ،اوراس کی حفاظت بھی کرے۔ تصدق حسین جیلانی صاحب لبرل ہیں اورآج کل پاکستان نے ان کا نام بھارتی جاسوس کلبھوشن کے عالمی عدالت کے تحت چلنے والے مقدمے میں بطورجج دیا ہے ۔پاکستان کے کسی جید عالم نے تصدق جیلانی کے اس قول پراحتجاج نہیں کیا تھا۔شاید کسی نے یہ فیصلہ پڑھا ہی نہیں ہوگا۔ حالانکہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پردستیاب ہے ۔

پاکستان میں ایک بہادرلبرل خاتون بھی ہیں۔ہماری ملک کی ممتازقانون دان محترمہ عاصمہ جہانگیرصاحبہ بھی ان بہادرلبرلزمیں سے ایک ہیں جو اکثرصحیح موقعوں پروہ باتیں کرجاتے ہیں جو کوئی اور نہیں کرتا۔اوراپنی خوبیوں کی وجہ سے وہ معاشرے میں ایک اعلی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اورشائد یہ مقام تاریخی نوعیت کا بھی ہو۔ چندروزقبل عاصمہ جہانگیرصاحبہ نے ایک ٹی ۔وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے موجودہ حالات پرجس دلیری سے اظہارخیال کیا، وہ سراہے جانے کے لائق ہے ۔ان کی گفتگوکے اہم نکات درجہ ذیل تھے ۔
1۔پاکستانی عوام کو ملٹری  ڈکٹیٹرشپ یا جوڈیشل ڈیکٹیٹرشپ دونوں نہیں چاہیے ۔
2۔اسلام آباد کواسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیرکوئی بند نہیں کرسکتا، یہ جو آج کل اسلام آباد میں جاری ہے اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد شامل ہے ۔
3۔میں 3ہزاربندے لے کراسلام آباد جاتی ہوں دیکھتی ہوں مجھے اسلام آباد بند کرنے دینگے یہ؟ مار مار کرمیراحشربگاڑ دینگے ۔
4۔اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کو اس لیے نکلوایا کیونکہ نوزشریف ان کی بات نہیں مان رہا تھا۔
5۔یہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے ہم دنیا میں اکیلے رہ جائیں۔غالبا ان کا اشارہ خارجہ پالیسی کی طرف تھا اورپڑسیوں سے معاملات کی طرف تھا۔
6۔ کل تک جن کے سڑکوں پرپوسٹرلگتے تھے کہ ’’خدا کے لیے نہ جاؤ‘‘ان کے جانے پرکتنے لوگ سڑکوں پرنکلے ؟کتنے لوگ روئے ؟
7۔اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے مارچ میں سینٹ کے الیکشن نہ ہوں تاکہ (ن) لیگ سینٹ میں اکثریت حاصل نہ کرسکے ۔
8۔یہ چاہتے ہیں ہم ان کے پیروں کے نیچے رہیں۔
عاصمہ جہانگیراوردیگر بہت سے لبرلزاس وقت ملک میں قائم نظام کے تحفظ کے لیے اپنا کردارادا کررہے ہیں۔جبکہ اس حقیقت سے بھی انکارممکن نہیں کہ اگریہ نظام قائم رہے یا آمریت آجائے دونوں صورتوں میں لبرلزکے مفادات کی تکمیل ابھی اس پاکستانی معاشرے میں بہت دورتو نہیں مگر دورضرورہے۔ ایسے میں بھی لبرلزکا درست صورتحال کا اندازہ لگانا اوراس نظام کو لپیٹے جانے کے سامنے کھڑے رہنا تاریخ میں ان کا نام زندہ رکھے گا۔

وہ لوگ جو مسلسل اس امید پراپنی صلاحیتیں نظام لپیٹے جانے کے لیے صرف کررہے ہیں کہ نئے سیٹ اپ میں ان کو کچھ ملے گا انہیں میاں اظہرصاحب کو یاد کرنا چاہیے مشرف دورمیں میاں اظہرصاحب وزیراعظم بننے والے تھے مگروہ لاہورسے اپنی ہی سیٹ ہارگئے اوریوں چوہدری صاحبان سامنے آگئے ۔یہ جوشیروانی سلوائے بیٹھے ہیں،ان کومعلوم نہیں کہ آخری موقع پربھی اکثر یہاں دولہن تبدیل کردی جاتی ہے ۔اس لیے لالچ بری بلا ہے ۔جن کوایڈونچرکرنے کا شوق ہے وہ کریں ایڈونچر، آخرانہوں نے مال پکڑا ہے مگرلازمی نہیں جس دلہن کی تصویردکھا کران سے کام لیا جارہا ہے وہ اقتدارکی دلہن ان کو ملے بھی ۔اس لیے ماضی سے کچھ سیکھ لیں حال میں زندہ رہنے سے اچھا ہے آدمی تاریخ میں زندہ رہ لے ۔کسی زمانے میں ایجنٹ کئی سالوں بعد بے نقاب ہوتے تھے مگرایسا قحط الرجال کا دور ہے کہ دو لوگوں کوآج کل ایجنٹ بنایا گیا اوردونوں نے اپنے ہی’’ ڈی‘‘ میں گول کردیا۔ایک کبھی، روزکہتا تھا ’’امپائرکی انگلی کھڑی ہونے والی ہے‘‘ ۔مگرپلان اے کی ناکامی کے بعدب ھی وہ کچھ نہیں سیکھا۔آج کل آئے روزپارلیمنٹ کے ختم کئے جانے کا وقت بتاتا ہے ۔دوسرا،ایجنٹ بھی کمال کا آدمی ہے ۔خود ہی اسٹمپ آؤٹ ہوگیا کہ جی، ہماری ملاقات اسٹیبلشمنٹ نے کروائی تھی ۔ دونوں ایجنٹ ایسے نشانہ باز ہیں جو کندھے پربندوق رکھ کرآگے کے بجائے پیچھے گولی چلاتے ہیں۔

سیانے کہہ کرمرگئے تھے جس کا کام اسی کوساجے۔ میں سمجھتا ہوں ضیاء الحق پیپلزپارٹی اوربھٹوخاندان کے اصل محسن تھے ۔ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے کا ایسا کام کیا کہ بدترین حکومت کرنے کے باوجود آج بھی بھٹوزندہ ہے ،اگربھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی تو کب تک بھٹو حکمرانی کرتے؟ ایک روزلوگ خود ان کو مسترد کردیتے۔ ابھی بھٹو کا غم کم ہوا ہی تھا کہ، پنجاب سے بے نظیرکی لاش سندھ کو دے دی گئی۔ اب اگلے 50سال ’’ست خیراں نے‘‘ ۔ آج وہ لوگ جو اپنے آپ کوعقل کل سمجھتے ہیں وہ بھٹو کی تاریخ نوازشریف کے ساتھ دھرانے کی غلطی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اگرنوازشریف کے ساتھ ایسا کیا گیا جیسا  کئے جانے کے آثارہیں،تواس صورت میں پاکستان کے غریب ،مظلوم محکوم عوام کو مزید ایک خاندان کئی سالوں تک حکمرانی کے لیے دے دیاجائے گا۔کل تک حسن نوازحسین نوازاورمریم نوازکا کیا سیاسی قد تھا؟مگرآپ یقین کریں آج ان تینوں کوآپ پنجاب کے کسی حلقے سے الیکشن لڑوالیں یہ جیت جائینگے ۔لہذا ہم توبس دعا ہی کرسکتے ہیں کہ وہ لوگ جو دن رات پاکستان کے لیے سوچتے رہتے ہیں اللہ پاک ان کودرست سوچنے کی نعمت سے سرفرازکرے (آمین) اوروہ ہم غریبوں پررحم کریں کہ بس، وہ اپناکام کریں۔ جس کام کے لیے ان کو ہرمہینے تنخواہ دی جاتی ہے ۔وہ ،وہ کام نہ کریں جو ان کا نہیں ہے ۔

ایک دلچسپ مگرحیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ آصف زرداری اورنوزشریف نے نگران وزیراعظم کے لیے عاصمہ جہانگیرکا نام تجویزکیا تھا مگرحیران کن طورپراس نام کی مخالفت عمران خان جیسے لبرل شخص نے کی تھی ۔لوگوں کو اسی روزشک ہوگیا تھاکہ عمران خان کا کنٹرول کسی اورکے ہاتھ میں ہے کیوں کہ عاصمہ جہانگیرکے ہوتے ہوئے صاف،شفاف انتخابات توضرورہوسکتے تھے مگر’’کسی‘‘کی مرضی کے مطابق انتخابات نہیں ہوسکتے تھے ۔اس لیے لبرل عمران خان نے لبرل عاصمہ جہانگیرکی مخالفت کی تھی۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں