عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم، اور جماعت اسلامی کا کردار کمیٹی سے سینٹ و قومی اسمبلی تک کیا ہوا؟

جماعت اسلامی کی قومی اسمبلی میں کل چار سیٹیں ہیں، الحمدللہ ان ارکان کی کارکردگی کے سب معترف ہیں۔ گیلپ، پلڈاٹ اور فافین جیسے اداروں نے انھیں کارکردگی کی بنیاد پر بہترین پارلیمنٹیرین قرار دیا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے معاملے پر انھوں نے پھر ثابت کیا کہ وہ بیدار ہیں، اور ہیں تو چار مگر باقی سب پر بھاری ہیں۔ ثم الحمدللہ

بعض احباب سوال اٹھا رہے ہیں کہ کمیٹی میں اس پر کیوں بات نہ کی گئی۔ تو گزارش ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں اس حوالے سے بات ہوئی، نہ وہاں پر ڈسکس ہوا کہ یہ ختم ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے 8 مختلف قوانین تھے، کہا گیا کہ نامی نیشن پیپرز کو سادہ و آسان بنانے کے لیے انھیں ایک جگہ یکجا کر دیا گیا ہے، اس میں یہ ڈسکس ہی نہیں ہوا کہ حلف نامے میں کوئی تبدیلی کی جا رہی ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ اسی وقت اس پر بات ہوتی، احتجاج ہوتا۔ اگر احباب کو یاد ہو کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت اپوزیشن کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی تھی، اس میں صاحبزادہ طارق اللہ صاحب نے بعض امور کے حوالے سے اپنا اختلافی نوٹ پیش کیا تھا، پریس کانفرنس میں بھی اس پر بات کی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت اس انداز میں سامنے ہوتا تو ضرور اس پر بات ہوتی۔

انتخابی اصلاحات کا ابتدائی مسودہ قومی اسمبلی میں اور سینٹ میں پیش کیا گیا تو اس پر جماعت اسلامی نے 19 ترامیم پیش کیں۔ اس معاملے پر پھر کمیٹی میں ڈسکشن ہوئی، اور مسودہ دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، اس پر پھر جماعت اسلامی کی طرف سے 11 ترامیم پیش کی گئیں۔ یاد رہے کہ اس وقت حلف اور قادیانیوں کی مسلم ووٹرلسٹ میں شمولیت والی شقیں (7بی اور 7 سی) شامل نہیں تھیں۔ اس وقت تک یہی پیش نظر تھا کہ 8 مختلف شقوں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد فائنل مسودہ سینٹ میں پیش ہوا تو معلوم ہوا کہ نہ صرف اس میں حلف نامہ تبدیل کر دیا گیا ہے، بلکہ 7 بی اور 7 کو بھی چالاکی دکھا کر اڑا دیا گیا ہے۔ سراج الحق صاحب کو ان کے پارلیمانی مشیران نے اس حوالے سے بریف کیا، اور بتایا کہ یہ واردات ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس پر ترمیم تجویز کی اور پارلیمانی شعبے کو مسودے کی تیاری کا کہا۔ دو دن وہ اس انتظار میں رہے کہ بل پیش ہو تو اس پر ترمیم پیش کی جائے، مگر بل پیش نہ ہوا۔ اگلے دن انھوں نے لاہور جماعت کی شوری کو خود طلب کیا ہوا تھا، این اے 120 ضمنی الیکشن میں شکست پر غور و فکر کےلیے، چنانچہ وہ لاہور آگئے۔ مگر آتے ہوئے جے یو آئی کے سینیٹر حافظ حمداللہ صاحب سے بات کی، اپنے پارلیمانی شعبے کے سیف اللہ گوندل صاحب کو انھیں بریف کرنے کو کہا، اور ہدایت کی کہ اگر بل پیش ہو تو یہ ترمیم پیش کر دی جائے۔ ہوا یہ کہ اس رات کو 12 بجے کے بعد ایجنڈا پیش کیا گیا، اور اگلے دن جلد بازی میں اسے منظور کروا لیا گیا۔ مگر اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ سراج الحق صاحب کی مجوزہ ترمیم حافظ حمداللہ صاحب کی طرف سے سینٹ میں جمع کروا دی گئی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا، اور اس میں بھی قابل ذکر بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کے کہنے پر اس ترمیم کی حمایت کی۔

اس پس منظر میں جماعت اسلامی کے ارکان نے قومی اسمبلی میں ترامیم پیش کیں، اور اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ نہ صرف حلف نامے میں قادیانیوں کو راستہ فراہم کیا گیا ہے بلکہ 7 بی اور 7 سی کو بھی ختم کیا گیا ہے جس سے قادیانیوں کے مسلم ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف جماعت کے ارکان نے مقررہ وقت میں ترامیم جمع کروائیں۔ کسی اور پارٹی کو کوئی اعتراض کسی حوالے سے تھا بھی تو وہ بروقت جمع نہیں کروایا گیا لہذا پیش ہونے سے پہلے ہی انھیں مسترد کر دیا گیا۔ بعض احباب نے اس حوالے سے بجا سوال اٹھایا کہ اس حوالے سے پریس کو کیوں مطلع نہ کیا گیا تو اطلاعا عرض ہے کہ ان ترامیم کے حوالے سے تفصیلی خبر پریس کو جاری کی گئی جو کہ قومی اسمبلی میں بل کی منظوری سے دو روز قبل اخبارات میں شائع ہوئی۔ سوشل میڈیا پر اسی کے سکرین شاٹ شیئر ہو رہے ہیں۔ اس مرحلے پر بھی یہ امید تھی کہ چونکہ ترامیم پیش کی گئی ہیں، اور یہ نہایت حساس معاملہ ہے، اور حکومت اور ن لیگ سیاسی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہے، اس لیے یہ حماقت نہیں کی جائے گی اور یہ ترامیم منظور کر لی جائیں گی۔ لیکن انھوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کی روش برقرار رکھی۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ صاحب نے اسی دن قومی اسمبلی کے فلور پر نہ صرف اس کی شدید مخالفت کی، بلکہ ترمیم پر زور دیا۔ جب اکثریت کے زور پر بل منظور کر لیا گیا، تو طارق اللہ صاحب نے اسی دن پریس میں شدید احتجاج ریکارڈ کروایا، ٹاک شوز میں اس کی سنگینی پر بات کی۔ سینیٹر سراج الحق صاحب نے اسلامی آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا، اور فوری طور پر مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری کےلیے دینی و سیاسی جماعتوں کی قومی کانفرنس منصورہ میں طلب کر لی۔

اگر کوئی کسی تعصب کا شکار نہیں ہے، اور اس معاملے پر عقل سلیم کو استعمال کرتے درست بات کا ساتھ دے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ اکیلی جماعت اسلامی تھی جس نے شروع سے آخر تک معاملے کی حساسیت کو محسوس کیا، اور اس ایشو پر بروقت آواز اٹھائی۔ اب جبکہ حکومت نے اس کو واپس لے لیا ہے تو جماعت اسلامی کا ہر کارکن اس پر اللہ کے حضور شکر بجا لاتا ہے، وہ جس سے چاہے اپنے دین کی خدمت لے لے۔ اپنی قیادت اور ارکان اسمبلی پر بجا طور پر فخر کرتا ہے، کہ وہ اللہ کے حضور اور عوام اور کارکنان کی عدالت میں سرخرو ہیں۔ باقی جماعتوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا جا سکتا، کہ وہ منظور اور اس کی حمایت کر رہی تھیں، اور کسی اور جماعت کی طرف سے کسی بھی مرحلے پر اس پر بات نہیں ہوئی، بلکہ بعض نے اسمبلی فلور سے سوشل میڈیا تک شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کیا۔ اور ان میں سے بعض ایسے ”ثابت قدم” ہیں جو اپنی روش پر قائم ہیں۔ اللہ ہدایت دے۔

یہاں شیخ رشید کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جنھوں نے اسمبلی فلور پر زوردار آواز میں اس پر بات کی۔ انصارعباسی صاحب نے بھی اس ایشو پر رپورٹنگ، اور ذاتی حیثیت میں بھی رابطے کرکے اپنے طور پر اس ترمیم کی واپسی کے حوالے سے بھرپور کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر آصف محمود صاحب اور عامر خاکوانی صاحب جیسے سینئر احباب نے نہایت شرح صدر کے ساتھ اس پر بات کی۔ اللہ تعالی ان سب کو بھی جزائے خیر دے، اور اس کاوش کو ہم سب کے لیے نجات کا ذریعہ بنا دے۔ آمین

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں