علامہ خادم رضوی ؒ بیوقوف نہیں ہوسکتے

چند روزقبل ہم نے لبیک یارسول اللہ ﷺ والوں کو اپنا سمجھتے ہوئے سورہ عصرکے تناضرمیں چند مشورے دیئے تھے ۔سورہ عصرمیں ہے کہ مومنین ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اس کی اشاعت کے بعد چند اہم نکات ہمارے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کے عظیم فلسفی بزرگ ہستی اور مارکس ازم پر حجت تسلیم کئے جاچکے ڈاکٹر جاوید اکبرانصاری صاحب کے حلقے میں تحریک لبیک یا رسول ﷺ کی جد و جہد پر گفتگو ہوئی ۔ اس حاصل کلام گفتگو کو میں نکات کی شکل میں پیش کرتا ہوں۔
1۔لبیک یارسول ﷺوالے جذباتی بنیادوں پرکام کررہے ہیں۔

2۔یہ منظم نہیں ہیں ۔

3۔اگران کے مطالبات مان بھی لیے جائیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

4۔دیگرتنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کریں۔

5۔دیگرلوگ علمی موشگافیاں بند کریں اوران کی مدد کریں۔

6۔جواس نظام کو جانتے ہیں دراصل وہ تنقید کے حقدار ہیں،تنقید لبیک والے بے چاروں پرنہیں ہونی چاہیے ۔

7۔ان میں خامیاں ضرورہیں ان کوسمجھ نہیں ہے۔

علامہ خام رضوی ؒ کے حلقے کے ایک نوجوان عالم دین علامہ عبیدالرحمن ؒ نے ہمیں اپنا دوست تسلیم کرتے ہوئے ،ہماری چند خامیوں سے آگاہی فراہم کی وہ خامیاں یہ ہیں۔

1۔علماء حق پرتنقید گناہ ہے ۔مسلمانوں کوزیب نہیں دیتا کہ وہ علماء حق پرتنقید کھلے عام کریں۔

2۔علماء حق پرتنقید سے اللہ تعالی ناراض ہوجاتا ہے۔

3۔اسلامی علمیت میں مستحب کوگالی نہ دینا بڑاگناہ ہے ۔مستحب کوگالی دینا درست عمل ہے ۔

4۔علماء حق کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے یہ ایمان کا مسئلہ ہے ۔

جب ہمارے سامنے یہ مسائل آئے تو ہمیں اپنے ایمان کی سلامتی کی فکرلاحق ہوگئی ۔ہم نے سچے دل سے توبہ کی کیوں کہ ہمیں آج سے قبل کسی نے یہ باتیں نہیں بتائیں تھیں۔ ہم نے دوبارہ کلمہ پڑھا اوراب جو اس وقت تحریرلکھ رہا ہوں یہ با وضو ہو کر بیٹھا ہوں۔ اور واحد مقصد اپنے اکابرین امت کے سامنے چند گزارشات پیش کرناہے ۔

ڈاکٹرانصاری صاحب کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ ’’سنگل ایشوموومنٹ ‘‘ نظام حاضرکومضبوط کرتی ہے ۔اب حضرت انصاری کا اپنے موقف سے رجوع ،سمجھ نہیں آیا۔ ڈاکٹرانصاری فرماتے ہیں کہ اس وقت لبیک والوں کی مدد کرنی چاہیے ۔اول تو تمام لبیک یارسول اللہ ﷺتحریک میں شامل لوگ دراصل پاک روحیں ہیں۔ وہ عظیم لوگ ہیں ہمیں ان تمام لوگوں سے خدا جانتا ہے محبت ہے ۔یہ لوگ نظام کفرمیں ایمان کا مینارہ نور ہیں۔ ہم نے کفر کا علم حاصل کیا اور یہ تمام لوگ نظام کفر کے خلاف ہیں، لہذا ہمارا ان کو نظام کفرکھول کھول کربتانا، ان کی مدد نہیں تو اورکیا ہے؟

دوسری بات ڈاکٹرانصاری صاحب نے اپنی رائے کا اظہارکراچی میں  بیٹھ کرکیا اوراللہ جانتا ہے ڈاکٹرانصاری صاحب امت کا درد رکھنے والے بزرگ ہیں۔وہ جس طرح یہاں بیٹھ کران دھرنے والوں کی مدد علم الکلام سے کررہے ہیں اسی طرح سے تو ہم نے بھی ان کی رہنمائی کی تھی ۔ پھرہماری مدد علمی موشگافیاں کیسے ہوگئی ؟ ڈاکٹرصاحب نے حکم دیا کہ لبیک یارسول ﷺ والوں کی مدد کریں ۔سوال یہ ہے کہ اگرہردوسرا مذہبی رہنماء بھرپوراخلاص کے ساتھ 2ہزارآدمی جمع کرکے ریڈ زون میں بیٹھ جائے توکیا باقی تمام مسلمانوں پرفرض ہوجاتا ہے کہ وہ ان کا ساتھ دینے ریڈزون جا پہنچیں؟ تیسری بات اگرمستحب کوگالی دینا ضروری ہے ۔مگرکیا ہرحدیث ہرجگہ سنانا درست ہے ؟ شادی کے مسائل کنواروں کوبتانا درست ہے ؟بلوغت کے مسائل بچوں کوبتانا درست ہے ؟گ فتگواگرریکارڈ ہو کرکروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہو۔اورکروڑوں لوگوں میں سب اہل علم نہ ہوں،توکیا تب بھی گفتگو میں احتیاط نہ کرنا درست عمل ہے ؟ حدیث اس معاملے میں کیا فرماتی ہے ؟

اب آتے ہیں دوسری طرف ہمارے ہمارے باعمل عالم دوست علامہ عبیدالرحمن ؒ فرماتے ہیں۔علمائے حق پرتنقید سے ایمان کی سلامتی کو خطرہ ہوتا ہے۔پہلی بات ہم نے تنقید حکمت عملی پرکی تھی علماء کے کردار یا عقیدے پرنہیں۔ کیا علماء کی حکمت عملی پر تنقید ان کے کردارپرتنقید یا عقیدے پر تنقید بنا کرپیش کرنا اسلامی علمیت ہے ؟ کیا حکمت عملی پرتنقید سے ایمان ضائع ہوجاتا ہے ؟رسول ﷺ نے صلح حدیبیہ کیا،اس پرصحابہ کرامؓ میں سے کچھ دل میں پریشان تھے یا ناراض تھے ۔اس موقع پ رقرآن کی آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے۔اس سے یہ اصول واضح ہوگیا کہ رسول ﷺ کی حکمت عملی پرایمان لانا بھی ضروری ہے ۔اورپیغمبرکی حکمت عملی کوماننا بھی ایمان کا حصہ ہے ۔ایک موقع پرحضرت ابوبکرصدیقؓ نے مسلمہ کذاب اورمنکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ اس موقع پرحضرت عمرؓسمیت دیگرصحابہ نے حضرت صدیقؓ سے حکمت عملی پراختلاف کیا۔م گراس اختلاف سے کسی صحابی کے ایمان کا مسئلہ کھڑا نہیں ہوا۔حضرت ابوبکرصدیقؓ وہ مبارک ہستی تھے ،کہ جن کی امامت میں رسول ﷺ نے نماز پڑھی اس جلیل القدرصحابی کی حکمت عملی سے اختلاف بھی جائز تھا۔ تو پھرآج لبیک یارسول ﷺ کے بزرگ علمائے کرام کی حکمت عملی سے اختلاف ایمان کا مسئلہ کیسے بن گیا؟ کسی کی حکمت عملی پرکی جانے والے تنقید کوعقیدے پرتنقید بناکر پیش کرنا سنگین غلطی ہے اورایسا کرنے والے کو سو بارسوچنا چاہیے کہ وہ کتنا خطرناک موقف اختیار کررہا ہے ۔ یہ طریقہ توخوارج اورمعتزلہ کاتھا۔اگروہ حکمت عملی پرتنقید کرے،علمائے کرام اورمسلمانوں کو بڑے نقصان سے بچانا چاہے کے میرے مسلمان بھائی نظام کفرکی باریکیاں نہیں جانتے ان کو بچانا میرافرض ہے ۔ایسے شخص کوکہنا کہ ،آپ خاموشی اختیار کریں ۔کچھ نہ لکھیں۔حکمت عملی پرتنقید بھی مت کریں۔لوگ جذباتی ہیں۔آپ کے لیے مسائل پیدا ہوجائیں گے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسلامی استدلال ہے ؟

ہمارے فلفسی دوست ڈاکٹرفصیح صاحب جو کہ پولیٹیکل فلاسفی پرخاص ملکہ رکھتے ہیں وہ فرماتے ہیں پاکستان میں جو لوگ بھی سرمایہ دارانہ نظام پرتنقید کرتے آئے ہیں۔وہ یا تو پارلیمنٹ کے حق میں ہیں یا اس کے خلاف ۔مگرحقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے کمزورادارہ پارلیمنٹ ہوتاہے ۔اصل طاقت کامرکزعدلیہ ۔بیروکریسی اورمیڈیا ہوتا ہے ۔میڈیا رائے عامہ بناتی ہے ۔عدلیہ فیصلہ دیتی ہے اوربیروکریسی عمل کرتی ہے ۔یہی بات تو ہم نے گزشتہ کالم میں سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔کہ بیچارے زاہد حامد کے استعفی سے کیا ہوگا؟ اور زاہدحامدکااستعفی توایک نیادروازہ کھولے گا۔مثال کے طورپراگرآج زاہد حامد استعفی دے دیتا ہے تواس سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ دھرنے کے نتیجے میں زاہد حامد نے استعفی دیا۔اوردھرنا رسول ﷺ کی ختم نبوت پرپہرہ دینے کے لیے تھا۔اس کے بعد ملک میں وہ تماشہ لگے گا جس کا کسی کواندازہ نہیں ہے ۔جب کراچی میں پہلی مرتبہ توہین رسالت ﷺ پرہڑتال کی کال دی گئی تواگلے روزشہرمیں کوئی ریڑی اورکوئی کھوکہ بھی نہیں کھلا تھا۔ اب مذہبی جماعتوں نے دیکھا کہ شہرگستاخی رسول ﷺ کے خلاف احتجاج کی کال پربند ہوجاتا ہے ۔تواگلی مرتبہ اسپین ،اٹلی ،ناروے اورفرانس جہاں جہاں گستاخی ہوئی ہرمذہبی جماعت دوسری جماعت سے پہلے ہڑتال کی کال دے دیتی اورالگ الگ جلوس نکالتی ۔توہین رسالت ﷺ پراحتجاج کو پاورشو کے لیے اتنی مرتبہ استعمال کیا گیا کہ پھروہ وقت بھی آیا جب ہم نے دیکھا کہ بریلوی حضرات کی آبادیوں میں ہڑتال کے روزدکانیں بند نہ ہوسکیں۔عوام آئے روزکی ہڑتال سے تنگ آگئے ۔آج اگردھرنا زاہدحامد کے استعفی پرختم ہوا تو کل لبیک یارسول ﷺ سے پہلے کوئی دوسری جماعت یا کسی دربار کے گدی نشین ہزاربندے لیکرریڈزون میں بیٹھ جائیں گے ہم تو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ختم نبوت ﷺ اورحرمت رسول ﷺ توآخری مورچہ تھا۔اس کوپہلے مورچے میں بدلنے کی حکمت عملی درست نہیں۔اوراگربدل بھی لیا تھا تو پہلے تمام مذہبی جماعتوں سے گفتگوکرتے ان کواعتماد میں لیتے ڈاکٹرانصاری صاحب سے مشورہ لیتے ڈاکٹرصاحب مارکس ازم کے ماہر ہیں اورمارکس ازم میں بڑے بڑے ہجوم جمع کرنا معمولی بات تھی ۔

لہذا ڈاکٹرصاحب درست سمت کی نشاندہی کرتے ۔المیہ یہ ہے کہ جو اصل طاقت کے مرکز ہیں۔یعنی میڈیا،عدلیہ اوربیروکریسی ان کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی جرت نہیں کرتا۔اورابھی تومرکزمیں ایک کمزورحکومت ہے جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سینگ پھسائے بیٹھی ہے ۔اس وقت ٹی وی چینل دوحصوں میں تقسیم ہیں۔ایک نوازشریف کے حامی دوسرے مخالف جو نوازشریف کے مخالف ہیں وہ دھرنے کو تشہیرفراہم کررہے ہیں اگرتشہیرفراہم نہ کرنے والے چینلوں کومسلمان نہ دیکھیں،توجوچینل تشہیرفراہم کررہے ہیں ان کو دیکھنے سے گناہ تو نہیں ہوگا؟شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہےَ ؟رسول ﷺ کے غلام تشہیرفراہم کرنے والے چینلوں پرچلنے والے تمام پروگرامات دیکھ سکتے ہیں؟ یاصرف دھرنا دیکھیں ،باقی وقت ٹی وی پرلعنت بھیجا کریں؟تصویرکے بارے میں کیا روایتی حکم تبدیل ہوچکا ہے ؟خدا کا شکر ہے ٹی وی چینل وہ کردارادا نہیں کررہا جو اس نے لال مسجد کے وقت کیا تھا،کہ تمام چینل ؒ ٓلال مسجد کے خلاف تھے ۔اس کے باوجود سولہ روز سے زائد دن گزرگئے مطالبات تسلیم نہیں ہوسکے یہ کیا ہے؟علامہ خادم ؒ کے تو اپنے شاگرد پچاس ہزارسے زیادہ ہیں اورمجھے یقین ہے کہ علامہ خادم ؒ نے ابھی ان کوزحمت نہ دینے کا سوچا ہوگا،ورنہ علامہ ؒ کے لیے پانچ لاکھ بندہ جمع کرنا کیا مشکل تھا اگرصرف زاہد حامد کا استعفی لینا مقصود تھا تواس کے لیے بھی بہت سے دیگرحکمت عملیاں تھیں جوضروربتاتے،اگرکوئی پوچھتا۔اصل میں مخلص اورصاحب ایمان مذہبی لوگوں نے کفرکے علم کو حاصل نہیں کیا، توکوئی بات نہیں جن لوگوں نے کفرکے علم کوپڑھ رکھا ہے ان سے معلومات لیکرحکمت عملی مرتب کی جاسکتی تھی۔

آخرمیں ہم پھرعرض کریں کہ ،ہمارے لیے تمام مسلمان اورخاص کرمذہبی حضرات ،علماء کرام سرکا تاج ہیں۔علامہ  خادم حسین رضوی ؒ کے تقوی ،ایمان ،ان کے عمل،ان کی شخصیت،ان کے کرداران کی قربانیاں،ان کی عظمت،ان کی دلیری،بہادری پرشک کرنے کا سوال ہی پید انہیں ہوسکتا۔علامہ ؒ جلیل القدربزرگ ہیں ہم نے توصرف حکمت عملی کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی تھی۔اوروہ بھی اس لیے کیوں کہ یہ نظام بہت ظالم ہے اب اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ آج کی تاریخ تک اخبارات میں علامہ ؒ کی تنظیم کا نام تحریک لبیک یارسول ﷺ چھپ رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن میں ان کی پارٹی کا رجسٹرڈ نام تحریک لبیک پاکستان ہے ۔لیکن علامہ صاحب ؒ لبیک یارسول ﷺ کا نعرہ لیکر،سرپرکفن باندھ کرنکلے ہیں۔اس لیے ایک مطالبہ فورایہ ہونا چاہیے کہ الیکشن کمیشن درست نام کا اندراج کرے ۔ہم نے جوعلم حاصل کیا ہے کہ اس علم کا ہم پریہ قرض ہے کہ ہم اپنے علماء کرام اوراکابرین امت کونظام کفرکا درست چہرہ دیکھائیں۔البتہ اگرکوئی کہے کہ علامہ ؒ سمجھ دارنہیں ہیں،جذباتی ہیں۔توہم اس قول سے ضروراختلاف کریں گے کیونکہ مومن کبھی بیوقوف نہیں ہوسکتا ہے اورعلامہ خادم رضوی ؒ مومن ہیں اس لیے وہ بیوقوف نہیں ہوسکتے ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں