علمائے ہند اور علمائے سلف

ہندوستان وہ سرزمین ہے جہاں پر دین اسلام کو بدلا گیا ہے بقول حالی
وہ دیں جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ گر حق زمین و زماں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں
وہ بدلا گیا آ کے ہندوستاں میں
رسول اللہ کی حدیث مبارکہ کے مطابق علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔ لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ جب ہم یہ پاتے ہیں ہندوستان کے علماء بھی اس امر میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں اور آج ہندوستان کے طول و عرض میں “اسلام” کے نام سے جو دین پایا جاتا ہے وہ اسکے اصل ورژن یعنی “عربی اسلام” سے اس قدر دور ہے کہ ان میں مشرق و مغرب کا بعد محسوس ہوتا ہے جس کو پاٹنے کی کوئی سبیل موجود نہیں ! یہاں تک کے ایک کے ہیرو دوسرے کی ہاں کفار و مشرکین یا گمراہ تک کا درجہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ یا شیخ احمد سرہندی کو سمجھنے والا اور ان کی تعلیم کو شعوری طور پر ماننے والا بندا کبھی بھی امام ابن تیمیہؒ اور محمد بن عبدالوہابؒ کو مجدد تو دور کی بات عالم اسلام کا رتبہ دینے پر بھی تیار نہیں ہے
جہاد و توحید کے اس دور میں دشمن کے ہاں دشمن مسلمہ ہیں اسکے تھنک ٹینک بڑی مہارت کیساتھ اپنے دشمنوں اور انکے پیچھے چھپے فکری انقلابات کو سمجھتے ہیں آج مغرب ہو یا صفوی متکبر یا امریکہ کے پالیسی ساز انکے فکری اداروں میں امام ابن تیمیہؒ اور محمد بن عبدالوہابؒ ، سید مودودیؒ ، سید قطبؒ جیسے لوگوں کا نام ایک فکری مخالف کے طور پر طے ہے لیکن وہ کسی بھی ہندوستانی مجدد کو یہ رتبہ دینے پر تیار نہیں ہیں ، وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اسکے پہلی 3 صدیوں کے فہم میں پوشیدہ ہے اور یہی بزرگان ہیں جو کے اس مسلم قوم کو ان پہلی تین صدیوں سے جوڑ رہے ہیں
اس پر مستزاد یہ کے کفار اس بات پر مجتمع ہیں کہ ہندوستان و پاکستان کے مسلمین کا ربط دوبارا انہی ہندی علماء سے جوڑ دیا جائے ، جس سے یہ سوال ابھرنا ضروری ہے کہ وہ کیا عناصر ہیں جو کے انکو اس حد تک بے ضرر بناتے ہیں کہ کفر بھی انکا وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے مثلا
ہندوستان کا مشہور صحافی ، تاریخ نگار اور کالمسٹ امریش مشرہ لکھتا ہے کہ
“شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز جیسی اہل علم، باشعور اور متحرک شخصیات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستان پاک و ہند کا مشترکہ اور بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ دا‏ئیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور اور جماعتیں سینکڑوں مبہم اور غیر مستند روایتیں پیش کرتے ہیں (جن میں سے زیادہ تر کا تعلق زمانہء وسطہ سے ہے) جن میں مسلم علماء کی طرف سے ہندوؤں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن وہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی تعلیمات کو دانستہ طور پر نظر انداز کر جاتے ہیں حالانکہ ولی اللہ ازم طالبان اور القاعدہ جیسے انتہاء پسند اور متشدد انداز فکر کا بہترین جواب ہے:
برطانوی استعمار نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ ولی اللہ ازم کو وہابیت کے طور پر پیش کر کے بدنام کیا جاسکے حالانکہ تاریخ کا ایک ادنی طالبعلم بھی دونوں کے درمیان فرق بتلا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اور عبد الوہاب نجدی کے نظریات ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔ نجد سے تعلق رکھنے والے عبد الوہاب حنبلی فقہ کے پیروکار تھے۔ یہی عبدالوہاب اٹھارہوں صدی میں ایک متشدد اور آمرانہ نظریاتی تحریک کے رہنما بنے۔ سعودی عرب کی ریاست 20ویں صدی میں اسی تحریک کے حتمی نتیجے کے طور پر معرض وجود میں آئی۔ اس کے برعکس شاہ ولی اللہ حنفی فقہ کے پیروکار تھے۔ بر صغیر میں مسلمانوں کی اکثریت اسی فقہ پر عمل پیرا ہے۔ آپ تصوف کے نقشبندیہ سلسلے اور امام ‏غزالی کے پیروکار تھے۔ جب کہ عبدالوہاب ایک کٹر صوفی مخالف اور تیرہویں چودہویں صدی کے عالم ابن تیمیہ سے متاثر تھے۔ ابن تیمیہ امام غزالی کے شدید نقاد تھے۔ عبدالوہاب نے کبھی بھی مروجہ استحصالی نظام کے خلاف انقلابی جدوجہد کی بات نہیں کی۔ مزید یہ کہ عبدالوہاب نجدی سماجی اور معاشی معاملات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کوئی واضح رہنمائی دینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں”۔
بحوالہ :فرقہ پرستی اور نفرتوں کے موسم میں شاہ ولی الله کے افکار کی ضرورت ۔ بشکریہ ویب سائٹ ہم سب

اور یہ تبدئیلی کسی غیر نے نہیں بلکہ یہاں کے علماء و فضلاء کی پیدا کردہ ہے اور یوں وہ علماء سلف سے ہر لحاظ سے مختلف ہیں اور انکو ایک دوسرے ملانا پانی و آگ کا ملاپ ہے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو کفایت بھی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک دوسرے کی سراسر ضد ہیں یہاں جو کچھ بھی ہے وہ ایسا ہے کہ کیچڑ سے ہیرے جواہرات کے چھوٹے چھوٹے زروں کی تلاش جسکو تلاش کرتے کرتے اپنے ہاتھ گندے ہوجانا یقینی ہے اور علماء سلف انکے بالمقابل ایسے ہیں جہاں ہیرے و جوہرات سے مرصع ایک دیوار پر کہیں کہیں کوئی ہیرا اپنے درست مقام پر نہ جڑا ہو ۔
قاری حیران رہ جاتا ہے جب کے وہ دیکھتا ہے کہ علمائے سلف اور انکی اٹھان تک مختلف ہے انکی پیدائش انکی تعلیم و تربیت انکا رحجان سب کچھ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں شرک و کفرو بدعت چھٹانک دو چھٹانک کی مقدار میں ان میں نہیں درآیا بلکہ توحید سیروں میں چھٹانک دو چھٹانک ہے جب کے علماء سلف کے ہاں معاملہ یکسر الٹ ملے گا ،

علماء سلف و علماء ہند میں ویسے تو بعد المشرقین ہے لیکن ان میں سے ایک فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے جس نے ان دونوں کی دینی تعبیرات کو یکسرالگ الگ کردیا ہے اور وہ فرق تصوف کا فرق ہے ، علماء سلف کی ہر دینی تعبیر ، تشریح ، تفسیر ایک خالص علمی سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے اور اسکے برعکس علماء ہند کی زیادہ تر دینی تعبیر کسی نہ کسی طرح تصوف سے آلودہ ہے
یہ وہ امر ہے جسکا ادراک سید مودودیؒ جیسے عبقری کو بھی ہوگیا تھا چنانچہ وہ تجدید احیائے دین میں قلمطراز ہیں کہ
پہلی چیز جو مجھ کو مجدد الف ثانی کے وقت سے شاہ صاحب اور انکے خلفاء تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا  اندازہ نہیں لگایا اور نادانستہ ان کو پھر وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرنے کی ضرورت تھی۔ حاشا کہ مجھے فی نفسہ اس تصوف پر اعتراض نہیں ہے جو ان حضرات نے پیش کیا وہ بجائے خود اپنی روح کے اعتبار سے اسلام کا اصلی تصوف ہے اور اس کی نوعیت احسان سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کو میں لائق پرہیز کہہ رہا ہوں وہ متصوفانہ رموز و اشارات اور متصوفانہ طریقہ سے مشابہت رکھنے والے طریقوں کو جاری رکھنا یہ ظاہر ہے کہ حقیقی اسلامی تصوف اس خاص قالب کو محتاج نہیں ہے اس کے لیے دوسرا قالب بھی ممکن ہے اس کے لیے زبان بھی دوسری اختیار کی جاسکتی ہے۔ رموز و اشارات سے بھی اجتناب کیا جاسکتا ہے۔ پیری مریدی اور اس سلسلے کی تمام عملی شکلوں کو بھی چھوڑ کر دوسری شکلیں اختیار کی جاسکتی ہیں پھر کیا ضرورت ہے اس پرانے قالب کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائے جس میں مدتہائے دراز سے جاہلی تصوف کی گرم بازاری ہورہی ہے اسکی کثرت اشاعت نے مسلمانوں کو جن سخت اعتقادی و اخلاقی بیماریوں میں مبتلا کیا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اب حال یہ ہوچکا ہے کہ ایک شخص خواہ کتنی بھی تعلیم دے بہرحال یہ قالب استعمال کرتے ہی وہ تمام بیماریاں پھر عود کر آتی ہیں جو صدیوں کے رواج عام سے اسکے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔
پس جس طرح پانی جیسی حلال چیز بھی اس وقت ممنوع ہوجاتی ہے جب وہ مریض کے لیے نقصان دہ ہو اسی طرح یہ قالب بھی مباح ہونے کے باوجود اس بناء پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہوگیا ہے اس کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکا لگا گیا ہے اور اس کے قریب جاتے ہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چینا بیگم یاد آجاتی ہے جو صدیوں ان کو تھپک تھپک سلاتی رہی ہیں بیعت کا معاملہ پیش آنے کے بعد کچھ دیر نہیں لگتی کہ مریدوں میں وہ ذہنیت پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے جو مریدی کے ساتھ مختص ہوچکی ہے یعنی سجادہ رنگین کن گرتے پیر مغاں کوید۔ والی ذہنیت جس کے بعد پیر صاحب میں اور اربان من دون اللہ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ فکرونظر مفلوج قوت تنقید ماوف علم وعقل کا استعمال موقوف اور دل و دماغ پر بندی شیخ کا ایسا مکمل تسلط کہ گویا شیخ ان کا رب ہے اور یہ اس کے مربوب پھر جہاں کشف و الہام کی بات شروع ہوئی معتقدین کی ذہنی غلامی کے بند اور زیادہ مضبوط ہونے شروع ہوجاتے ہیں اس کے بعد صوفیانہ رموز و اشارات کی باری آتی ہے جس سے مریدوں کی قوت واہمہ کو گو تازیانہ لگ جاتا ہے اور وہ انہیں لے کر ایسی اڑتی ہے کے بے چارے ہر وقت عجائبات و طلسمات ہی کے عالم میں سیر کرتے رہتے ہیں واقعات کی دنیا ٹہرنے کا موقع غریبوں کو کم ملتا ہے۔ مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد ناواقف تھے نہ شاہ صاحب دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے مگر غالبا اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہ تھا یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دے دی جو اس میں مہلک ثابت ہوچکی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا اگرچہ مولانا اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر وہی روش اختیار کی جو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کی تھی لیکن شاہ ولی اللہ کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی نہ تھا جس کا اشارہ شاہ اسماعیل شہید کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی سید صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا اس لیے مرض صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی حتی کہ سید صاحب کی شہادت کے بعد ہی ایک گروہ وہ ان کے حلقہ میں ایسا پیدا ہو گیا جو شیعوں کی طرح ان کی غیبوبیت کا قائل ہوا اور اب تک ان کے ظہور ثانی کا منتظر ہے۔
اب جس کسی کو تجدید دین کے لیے کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ متصوفین کی زبان و اصطلاحات سے رموز و اشارات سے لباس و اطوار سے پیری مریدی سے اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو مسلمانوں کو اس طرح پرہیز کرئے جیسے ذیابطیس کے مریض کو شکر سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔
سید مودودیؒ
(تجدید و احیائے دین ص 114-122 ملخص)
وہ عوامل جس نے علمائے ہند کو اس جانب مبذول کیا اور وہ دین کو متصوفانہ رنگ دینے پر شعوری یا لاشعوری طور پر مجبور ہوئے وہ تین ہیں ، ہمیں یہاں ان علماء کی دینی مساعی سے مکمل انکار نہیں ہے لیکن یہ کہنے میں بھی کوئی حرج مانع نہیں ہے کہ علماء ہند کا کسی بھی قسم کا تعلق سلف کے اس چشمہ صافی سے نہیں ہیں جہاں سے دین کی پہلی 3 صدیوں کے علماء سیراب ہوئے ہیں بلکہ یہاں پر دین کا تصور ہر قسم کے ظلم یعنی شرک و کفر سے آلودہ ہے اور اگر دین کی تطہیرمقصود نہ ہوتی تو بالیقین اس تفریق کی ضرورت نہ تھی لیکن لارڈ میکالے کا وہ نظام تعلیم جو کے زیادہ تر دینی حضرات کی تنقید کا نشانہ بنتا رہتا ہے 2 صدیوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انکے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے کہ اسکا تذکرہ گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں تو کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ ہم توحید و جہاد کے اس دورمیں ایک بار پھر کوشش کردیکھیں کہ برصغیر پاک و ہند جمود کے اس دور سے باہر آجائے اور ان علماء سے تعلق توڑ کر اپنا تعلق اسلاف کے چشمہ صافی سے جوڑ لے کیونکہ یہ وہ جھاڑ جھنکاڑ ہے جو کے حقیقت دین کو داغدار کرتا رہے گا کیونکہ یہی وہ منحوس فکر ہے جو کے انکو کسی نہ کسی طور پر تصوف کی تاریکیوں میں اترنے پر مجبور کرتی ہے اور یہی وہ فساد ہے جو کے عرب خطے میں مسلمانوں کی تلوار سے بچ کر ہندوستان میں پناہ گزین ہوگیا اسی لیے ابن عربی کا شاگرد ابن سبعین بھی محض اس لیے ہندوستان کی طرف ہجرت کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہاں اسکو کھلی فضا دستیاب تھی
جہاد سے وابستہ نوجوان بھی یہ نہیں جانتے کہ انکی فکری راہ میں مزاحمت بن کر کون کھڑا ہے اسی لیے بالمجموع وہ کسی غیر ملکی تسلط سے تو لڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن توحید کی بناء پر ایک جاندار تحریک کھڑا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں گوکے جہاد کی برکت سے انکی رسائی دین کے اصلی لٹریچر تک ہوچکی ہے اورکیا یہ بات اس تاثر کو پایہ تقویت تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں کہ جہاد سے متعلقہ مباحث میں درست جوابات انہیں محض علماء سلف سے ملے ہیں اور یہاں کی علمی و کلامی بحاث اور فلسفیانہ موشگافیاں انکی روحانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں ، اسکے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ وہ دین کی نقل سے اپنا رابطہ توڑ کر دین کی اصل سے اپنا رابطہ جوڑ لیں اور اس بات کو لکھ لیں کہ جیسے توحید کی غالی فکر داعش کی صورت میں اسلحہ پکڑ کر انکے مد مقابل ہوگئی ہے ویسے ہی یہ صوفی فکر ایک دن انکے مد مقابل ہوگی بلکہ یہ فکر انکے مد مقابل حکومتوں کی صورت میں موجود ہے اور یہ محض بریلوی یا روافض ہی نہیں ہیں بلکہ وہ فکر بھی ہے جو کے عدم تشدد کے فسلفے کی بنیاد پر ان مدارس اور ان علماء کے پیروکاروں میں سے پھوٹ رہی ہے اسکی ہلکی سے جھلک ہم لال مسجد کے سانحے میں دیکھ چکے ہیں
برصغیر میں ایک سے بڑھ کر ایک مصبیت کھڑی ہے لیکن ہم بطور مثال دو شخصیات کا ہی تذکرہ کریں گئے کیونکہ برصغیر پاک وہند میں دین کی ہر تعبیر پر انہی دو شخصیات کا اثر نمایاں ہے اور انکے اثر سے یہاں کے اہلحدیث میں بھی محفوظ نہیں انکے مشہور مناظر مولانا ثنا اللہ امرتسری سے جب ایک مسئلہ دریافت کیا گیا تو وہ بھی کہنے لگا کہ یہ مسئلہ شاہ ولی اللہ کے قائم کردہ تیسرے عالم یعنی عالم امثال سے ہے
انمیں سے ایک ہستی شاہ ولی اللہ اور دوسرے شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی ہیں،
کسی بھی شخصیت کی تربیت اسکے گھر سے ہی شروع ہوجاتی ہے آج سے 3 یا 4 صدیاں قبل پلے گروپ کا کوئی رواج نہ تھا اور نہ گھروں اور مدارس کی تعلیم میں کوئی جوہری فرق تھا بچے جو کے کچھ مدارس میں پڑھتے وہی گھروں میں دیکھتے اور اسکی وجہ سے کسی اختلاف کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا جو کے عمرکی کی پختہ حد میں بندے میں کسی قسم کی تبدئیلی کا باعث بن جائے
شخصیت کی تعمیر میں سب سے پہلا کردار اسکے والدین ادا کرتے ہیں اور ہم یہ دیکھ آئے ہیں کہ برصغیر کے ممتاز علماء کا تعلق جس خانوادوں سے تھا وہ سب کے سب اول نمبر کے صوفی تھے اور یہ تصوف بھی محض تزکیہ یا احسان یا زھد نہ تھا بلکہ یہ ابن عربی کی تعلیمات کے باقاعدہ ترجمان تھے اور تصوف انمیں ایک روایت کی طرح جاگزیں تھا اس لیے اس امر کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں تھی کہ بچہ جسکا ذہن ایک صاف تختی کی مانند ہوتا اس پر تصوف کی سیاہی پھیل جانے کے بعد اسکو کبھی دھویا بھی جاسکے اور یہ سیاہی گھر سے ہی اس تختی پر انڈیل دی جاتی تھی
شخصیت کی کردار سازی میں دوسرا کردار اساتذہ اور اسکے مدرسے کا ماحول کرتا ہے اسکو بھی ہم نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ ان مشاہیر کے اساتذہ اولا و آخر صوفی تھے اور وہ تصوف کی تشریح قرآن و سنت سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تشریح تصوف سے کرتے تھے فہم صحابہ یا فہم سلف کا تصور بھی ان میں نہ پایا جاتا تھا
اسکے بعد کسی علمی شخصیت کی تعمیر میں سب سے اہم کردار کتابوں کا ہوتا ہے اور برصغیر پاک و ہند میں گھر ، مدرسے و نصاب میں کسی بھی قسم کا اختلاف نہ پایا جاتا تھا جو کے درست اجتہاد کے رستوں کو کھول دے ، اختلاف کے جو علمی مراکز تھے وہ سارے کے سارے تصوف زدہ تھے جو کے دراصل علم شریعت کی مختلف مفاہیم پر نہیں بلکہ تصوف کی اصطلاحات کے مختلف مفاہیم پر آپس میں الجھتے تھے جیسے فقہ حنفی کے ہی دو عالم کسی ایک معاملے میں دو مختلف آرا پر قائم ہوجائیںدی المقلب مجدد الف ثانی ہیں
اب ہم ان تین عوامل کا زکر کریں گئے جسکی وجہ سے ہندی علماء اور علماء سلف میں بعد المشرقین پیدا ہوئی ہے
فرق نمبر 1 -ہندی علماء کے آباواجداد
ان لوگوں نے آنکھ ہی تصوف کی تاریک گھاٹیوں میں کھولی ہے جسکی وجہ سے تصوف ان کے خون میں رچا بسا ہوا ہے اور یہ کبھی اسکی شناعت سے آگاہ ہی نہیں ہوسکے ، مثلا شاہ ولی اللہ کے والد عبدالرحیم شاہ ایک بلند پایہ صوفی تھے اور اگر وہ اپنے والد کے خرق حالات شائع نہ کرتے تو آدھا تصوف انمیں سے رخصت ہوجاتا لیکن انکی مشہور زمانہ کتاب انفاس العارفین ساری کی ساری اپنے والد کی کرامات ، خوابوں اور متصوفانہ اقوال سے معمور ہے جس میں جا بجا شرک پایا جاتا ہے یہی حال آپ کے دادا کا تھا اور یہی حال آپ کے چچا کا تھا یعنی کے پورے کا پورا خاندان اس میں لت پت تھا ، اور یہی حال شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی کا تھا ۔ شیخ احمد سرہندی کے والد شیخ واحد صابریہ چشتیہ سلسلہ کے خلیفہ تھے اور وہ شیخ اکبّر کے نظریہ وحدت الوجود کے سب سے بڑے مبلغ اور پرچارک تھے ،
اسی خاندانی اثر کیوجہ سے بعد میں جتنے بھی علماء انکی پیڑھی میں آئے وہ کسی نہ کسی طور پر تصوف جیسی لعنت کا شکار ہوکر رہے اور یہ محض خاندانی عصبیت تھی جس نے حق پر آگاہ ہونے کے باوجود انکو باطل کی تاویل کرنے پر مجبور کیا ۔
شیخ احمد سرہندی خود کہتے ہیں کہ
میں اللہ تعالی کا مرید بھی ہوں اور اللہ تعالی کی مراد بھی (یعنی میں مراد الہی بھی ہوں اعوذ بااللہ) ،میری ارادت کا سلسلہ بلاواسطہ اللہ تعالی سے متصل ہے “اور میرا ہاتھ اللہ کے ہاتھ کے قائم مقام ہے “۔ (لیکن ) رسول اللہ ﷺ سے میری ارادت بہت سے واسطوں سے ہے ، طریقہ نقشبندیہ میں اکیس واسطے ہیں اور طریقہ قادریہ میں 25 اور طریقہ چشتیہ میں 27 اور میری اللہ تعالی سے جو ارادت ہے وہ واسطے کو قبول نہیں کرتی جیسا کے پہلے گزر چکا ۔ میں رسول اللہ کا مرید بھی ہوں اور انکا متبع ہم پیر بھی۔ (یہ متبع کا لفظ مترجم نے خود ڈال دیا ہے وگرنہ یہ مجدد صاحب خود فرما رہے ہیں کہ ہم دونوں یعنی مجدد صاحب اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی پیر یعنی اللہ کے پیر بھائی ہیں ) اس دولت کے دسٹرخوان پر اگرچہ میں طفیلی ہوں لیکن بن بلائے نہیں آیا اور اگرچہ میں تابع ہوں لیکن اصل میں بے نصیب نہیں ہوں اور اگرچہ میں امتی ہوں لیکن دولت میں شریک ہوں لیکن یہ وہ شرکت نہیں ہے جس سے ہمسری کا دعوی پیدا ہو کہ وہ کفر ہے (جناب آپ جو فرمارہے ہیں وہ بھی کفر ہی ہے ) بلکہ یہ شرکت خادم کی اپنے مخدوم کے ساتھ شرکت ہے مجھے جب تک بلایا نہیں گیا میں اس دسترخوان پر حاضر نہیں ہوا اور جب تک انہوں نے خود نہیں چاہا میں نے اس دولت کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا (یعنی رسول اللہ ﷺ نے خود شریک بنایا اعوذ بااللہ) اگرچہ میں اویسی ہوں لیکن میں اپنا حاضر و ناظر مربی رکھتا ہوں اگرچہ طریقہ نقشبندیہ میں میں میرا پیر عبدالباقی ہے لیکن میری تربیت کا کفیل خود اللہ الباقی ہے اور میری تربیت کے فضل سے ہوئی ہے اور میں اجتباء (چنیدہ شدہ ، چنے ہوئے ، جنکو منتخب کیا جائے یعنی انبیاء ) کی راہ چلا ہوں میرا سلسلہ ، سلسلہ رحمانی ہے کہ میں عبدالرحمان ہوں کیونکہ میرا رب رحمان ہے اور میرا مربی ارحم الرحمین ، اور میرا طریقہ سبحانی ہے کہ میں تنزیہ کی راہ چلا ہوں اور اللہ تعالی ذات کے سوا کسی اور اسم اور صفت کو نہیں چاہا (توحید اسماء و صفات کا انکار ) یہ میرا سبحانی کہنا وہ سبحانی نہیں ہے جسکا بسطامی قائل ہوا ہے کہ اسکو اس سے کوئی ربط نہیں ہے کہ وہ انفس (روح) کی چوٹی سے باہر نہیں آیا ہے اور یہ انفس (یعنی میرے والا ) و آفاق سے ماورا ہے اور وہ تشبیہ ہے جس نے تنزیہ کا لباس پہنا ہے اور یہ وہ تنزیہ ہے کہ جس کو تشبیہ کی بو بھی نہیں ہے اور اس نے سکر کے چشمہ سے جوش مارا ہے اور یہ عین صحو سے برآمد ہوا ہے ارحم الرحمین نے میرے حق میں تربیت کے اسباب کو موقوف علیہ نہیں رکھا ہے اور میری تربیت میں اپنے فضل کے سوا کسی کو علت فاعلی نہیں بنایا اور اپنے کمال کرم اور اس غیرت کی وجہ سے جو اللہ تعالی میرے حق میں رکھتا ہے جائز نہیں رکھا ہے کہ میری تربیت میں کسی دوسرے کے فعل کا کوئی دخل ہو یا میں اس معنی میں دوسروں کی طرف متوجہ ہوں میں اللہ تعالی کا پروردہ (مبرا الہی ، مقدس پیامبر ) ہوں اور اللہ تعالی کے فضل و کرم نامتناہی کا مجتبا (چنیدہ ) ہوں
مکتوبات حصہ سوئم ۔ صالح کوبلائی کے نام خط ، مترجم مولانا سعید احمد نقشبندی سابق امام و خطیب جامع مسجد داتا دربار لاہورطبع اول 1971

انکے برعکس علماء سلف مشہور و مقبول توحیدی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں پر دور دور تک تصوف کا گزر بھی نہ تھا آئمہ اربعہ کے حالات زندگی اٹھا کر کوئی بھی دیکھ سکتا ہے
فرق نمبر 2 – ہندی علماء کے اساتذہ
ان لوگوں نے جن اساتذہ سے تربیت پائی ہے وہ اصلا تصوف زدہ تھے یوں یہ بدعت انکی تعلیم کی تفسیر میں بھی شامل رہی ہے کیونکہ استاد کا اصل کام علم کو واضح کرکے شاگرد کو سمجھانا ہے اور انکے پاس کوئی بھی چشمہ صافی ایسا موجود نہ تھا جو کے علم کی تفسیر کو متصوفانہ رنگ سے بچاتا شاہ ولی اللہ کے تو ابتدائی استاد انکے والد ہی ہیں جو کے غالی صوفی تھے اور یہی حال شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی کا ہے جنکے والد ہی انکے ابتدائی استاد تھے اور وہ وحدہ الوجود کے پرجوش مبلغ تھے ، شیخ احمد سرہندی تو بعد میں کچھ اس اثر سے بچ گئے
لیکن شاہ ولی اللہ کا حال وہی رہا !
شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی نے اپنی زندگی کے کم و بیش ابتدائی 33 سال کی تعلیم اپنے والد محترم شیخ عبدالاحد سے حاصل کی ہے انکے والد محترم ایک عظیم صوفی تھے اور اپنے زمانے میں ابن عربی پر ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے یہ فلسفے اور تصوف میں ابن عربی کو ایک سند کا درجہ دیتے تھے اور انکی کتاب فصوص الحکم اور تصوف کی ایک دوسری کتاب عارف المعوارف پر درس بھی دیتے تھے ، یہ اپنے وقت کے بڑے صوفیا شیخ عبدالاحد مخدوم ، شیخ اللہ داد اور شیخ علی القوام سے فیض یافتہ تھے طوالت کے خوف سے میں ان حضرات کے عقائد اور تعلیم کی بحث میں نہیں جانا چاہتا بس ان کے متعلق اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے کہ وہ وہ صوفی تھے جن کے متعلق لفظ صوفی بطور تنفر بولا جاتا ہے یہ بخارا کے مشہور صوفی خواجہ بہاالدین نقشبند کے بھی معتقد تھے اور یہیں سے شیخ احمد سرہندی بھی نقشبندیہ ہوئے اور تصوف خون کے ساتھ ساتھ انکی تعلیمات میں بھی چلا آیا یوں ان سے کل تصوف کی تو نفی نہیں کی جاسکتی اور انکی تجدید بھی دین اسلام کی تجدید نہیں ہے بلکہ دین تصوف کی تجدید ہے انکے دوسرے اساتذہ بالترتیب کمال کشمیری اور یعقوب کشمیری ہیں جن میں سے یعقوب کشمیری بڑے عالم تھے اور شائد یہی بادشاہ اکبر کے لیے دین اکبری ایجاد کرنے والے تھے ۔ شیخ احمد سرہندی بعد ازاں خواجہ باقی بااللہ کے مرید ہوگئے جو کے نقشبندیہ سلسلے کے عظیم صوفی ہیں اور انہی کی رہنمائی میں انہوں نے طریقت کے مراحل طے کیے
گو کے تصوف شیخ احمد سرہندی کی رگ و پے میں اترا ہوا تھا لیکن انکے اندر قرآن و سنت کی ایک شمع بھی روشن تھی جس نے انہیں وحدہ الوجود کے انکار یا اسکی تاویل پر مجبور کیا انہوں نے فلسفہ وحدہ الوجود کو اس حد تک قرآن و سنت کے خلاف پایا کہ یہ اسکے مد مقابل ایک نیا فلسفہ وحدہ الشہود تشکیل دینے پر مجبور ہوگئے لیکن یہ فلسفہ وحدہ الوجود کا رد نہ تھا بلکہ انہون نے اسکو وحدہ الوجود سے اگلام قدم قرار دیا اور یہ فرمایا کہ وحدہ الوجود کی سطح پر آکر سالک رک جاتا ہے اور مدہوش ہوجاتا ہے لیکن اس سے اگلا بھی ایک مرحلہ ہے اسی لیے ان کے بعض نظریات پر عبدالحق محدث دہلوی جیسے مشہور صوفی نے گرفت کی کیونکہ عبدالحق اکبر کو صوفی و مخلص مسلمان سمجھتے تھے ، تزک جہانگیری میں جہانگیر نے خود انکا تذکرہ لکھا ہے اور وہ جیل جانے کی یہ وجہ بیان نہیں کرتا کہ انہوں نے جہانگیر کو سجدہ تعظیمی کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ اسکی تحریر کے مطابق
” وہ ایک بیوقوف مبلغ تھا جو کے سلطنت کے مختلف حصوں میں اپنے شاگردوں کو لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے بھیج رہا تھا اسکی کتاب مکتوبات ایسی غلطیوں کا مجموعہ ہے جس سے لوگ گمراہ ہوسکتے ہیں ” تزک جہانگیری
جہانگیر کا انکو رہا کرنے کا فیصلہ بھی دینی سے زیادہ سیاسی تھا شائد کے اسکو علم ہوگیا تھا کہ یہ اسکے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں ۔ لیکن محض جہانگیر کا کلام انکے ضمن میں قبول نہیں کیا جاسکتا گوکے انکی وجہ شہرت سے متعلقہ اکثر واقعات بھی درست نہیں ہیں اور انکے زمانے میں نہ پائے جاتے تھے بعد میں انکے معتقدین نے ان واقعات کو مشہور کیا ہے
انکے برعکس اگر ہم علماء سلف کو دیکھیں تو تصوف کا سایہ بھی دور دور تک نظر نہیں آتا کیا کوئی شخص یہ دعوی کرسکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ جو کے ابراہیم نخعیؒ جیسے اصحاب پر مشتمل ہے تصوف یا فلسفے کا کہیں دور دور تک بھی اثر پایا جاتا ہے !!
پچھلے مضامین میں ہم علمائے ہند کی ذہنی و علمی تربیت کے دو درجات پر نظر ڈال آئے ہیں گوکے انمیں سے ہر ایک مزید مفصل گفتگو کا مستحق ہے
علمائے ہند کا نصاب!
اس مقام پر تاریخی حوالوں سے اس نصاب پر روشنی ڈالتے ہیں جو کے ان علماء نے پڑھا اور اس نے انکی شخصیت و علم کو شعوری و لاشعوری طور پر تصوف کے رنگ میں ہی رنگ دیا ، نصاب میں سے ہم محض ان کتابوں کو زیر بحث لائیں گئے جو کے بلاواسطہ تصوف سے متعلقہ ہیں ہندوستانی نصاب میں اصول الدین سے زیادہ منطق و فلسفہ پر زور ہے اور حدیث کی طرف توجہ نہیں ہے علاالدین خلجی کے دور میں حدیث کے ایک عالم شمس الدین ترک ملتان میں آکر آباد ہوئے کہ ہندوستان میں علم الحدیث کو پھیلائیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ جمعہ تک پڑھنے مسجد میں نہیں آتا اور لوگوں کی توجہ علم الحدیث کی طرف ہرگز نہیں ہے تو وہ دلبرداشتہ ہوکر واپس چلے گئے اور واپس جاتے ہوئے بادشاہ کو ایک دلگیر خط لکھا جو کے شاہی ملاوں نے بادشاہ تک نہ پہنچنے دیا یہ خط تاریخ فیروز شاہی میں موجود ہے جسمیں بادشاہ کو حدیث کے علم کے نہ ہونے پر بہت غیرت دلائی گئی ، ہندوستان میں محض مشارق الانوار پڑھ لینا کافی سمجھا جاتا اور جسکے ہاتھ مصابیح آجاتی اسے بہت بڑا محدث خیال کیا جاتا ، ہندوستان میں پہلا علمی نصاب محمود غزنوی کی فتوحات کیساتھ شروع ہوا اسمیں جو کے 12 صدی عیسوی سے 15 صدی عیسوی تک 200 سال تک ہندوستان میں رائج رہا
اسمیں تصوف پر 4 کتابیں شامل تھیں
عوارف المعارف ، فصوص الحکم ، نقد النصوص ، لمعات ، آخری دو کتابیں ان مدارس میں بعد میں رائج ہوئیں جنکے ساتھ خانقاہیں تھیں
ادب کے نام پر جو کچھ پڑھایا جاتا تھا وہ بھی دراصل تصوف ہی تھا “مقامات حریری” نامی کتاب زبانی یاد کی جاتی تھی اور یہ تصوف کی کتاب ہی تھی اس پر مستزاد یہ کہ نصاب کی بقیہ کتابیں بھی صوفیا کی ہی تحریر کردہ تھیں یا بڑی کتابوں کی تشریح و تفسیر جو پڑھائی جاتی تھی وہ تصوف زدہ تھی
دور دوم کا نصاب سکندر لودھی کی جانشینی 1489 عیسوی سے ہوتا ہے گمان غالب ہے کہ یہی وہ نصاب ہے جو کہ شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی نے پڑھا ہوگا کیونکہ اس نصاب کے زمانے کے آخری قابل ذکر عالم عبدالحق محدث دہلوی ہیں جو کے احمد سرہندی کے ہم عصر تھے وہ جب حجاز تشریف لے گئے تو وہاں سے حدیث کا تحفہ بھی ساتھ لائے لیکن ہندوستان میں انکا چراغ جل نہیں سکا یہ سعادت شاہ ولی اللہ کے نصیب میں لکھی تھی ، یوں ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مجدد الف ثانی اور ان علماء کو کس قسم کے نصاب سے پالا پڑا جس میں فصوص الحکم جیسی کتاب ایک نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی تھی جو کے کفر و شرک کا پلندہ تھی جس کے بارے میں امام ذھبیؒ کے تاریخ ساز الفاظ یوں ہیں کہ
ابن عربی نے وحدۃ الوجود والوں کے تصوف کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور اس کی تصانیف میں سے سب سے گھٹیا تصنیف الفصوص ہے اگر اس میں کفر نہیں تو پھر دنیا میں کہیں کفر ہے ہی نہیں۔‘‘ (سیرا علام النبلاء ۲۳/۴۸)
دوسرے دور کے کتابوں کی یہ گندگی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہی شیخ احمد سرہندی المقلب مجدد الف ثانی نے اپنی دانست میں تجدید کا کام سرانجام دیا جو کے دراصل دین کی تجدید ہرگز نہ تھی بلکہ تصوف کی تجدید تھی برسہا برس سے ابن عربی اور دیگر سلاسل ہائے تصوف کی تقلید نے تصوف کو اسکی آخری حد یعنی غلو تک پہنچا دیا تھا یہاں تک کے دین اکبری کی ایجاد میں ایک بڑا کردار اس تصوف کو ماننے والوں نے ادا کیا تھا اس بات نے علمی و سیاسی دونوں طرح سے سرہندی صاحب کو مجبور کیا کہ وہ اسمیں اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں ابن عربی کے فلسفے میں انکو کوئی رعایت نہ ملتی تھی اور انمیں شرعی طور پر اتنی علمی قابلیت موجود نہ تھی کہ وہ اس فلسفے کو شرعی علوم کی روشنی میں رد کرسکیں خاص طور پر جب کے یہ خود انکے رگ و پے میں اتر چکا تھا وہ جو کچھ کرسکتے تھے وہ محض یہ تھا کہ وہ ابن عربی کے فلسفے اور شریعت میں ایک اتصال سا پیدا کردیں جو کے ممکن نہ تھا اس لیے انہوں نے وحدت الشہود کے فلسفے کو جنم دیکر ایک گمراہی کو دوسری گمراہی سے بدلنے کی کوشش کی جسکی تفصیل کا یہ مضمون متحمل نہیں ہوسکتا
درسی نصاب کا تیسرا دور بادشاہ اکبر کے دور میں فتح محمد شیرازی سے چلا ہے جو کے 1583 عیسوی سے شروع ہوا یہ شخص ایرانی تھا اور یہی ایرانی فلسفے و منطق و عقلیات کو ہندی نصاب میں گھسیٹ لایا اور یہی وہ گمراہی کی شیرازی شراب ہے جو کے لارڈ میکالے کے نصاب تعلیم سے بھی زیادہ خطرناک تھی اسی کے دور کی کتابیں شاہ ولی اللہ نے پڑھی ہیں اور خوش قسمتی سے انہوں نے خود ہی اپنے نصاب کی کتابوں کی فہرست دی ہے انکے مطابق تصوف کی مندرجہ ذیل کتب انکے نصاب میں شامل تھیں
عوارف المعارف ، رسائل نقشبندیہ ، شرح جامی ، مقدمہ شرح لمعات ، مقدمہ نقد النصوص
ںحو ، منطق یا عقائد کے نام پر جو کتابیں پڑھائی جاتی تھیں وہ تصوف زدہ تھیں ، ابن عربی کی کتاب فصوص اس دور میں ایرانی اثر یعنی فتح اللہ شیرازی کیوجہ سے نصاب سے خارج کردی گئی لیکن اسکی جگہ اور کتابوں نے لے لی جو کے گمراہی وشرک میں اس سے بڑھ کر تھیں ۔ یہ وہ کتابیں تھیں جو کے اس زمانے کے بزرگوں کی علمی تشیکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہیں اور تصوف کو انکے رگ و پے میں اتار دیا شاہ ولی اللہ جیسا بندا تو ساری عمر ابن عربی کے اثر سے باہر نہیں آسکا اور انہوں نے سرہندی صاحب اور ابن عربی کے فلسفے میں بھی ایک نکتہ اتصال پیدا کرنے کی کوشش کی ، یہ مجدد کے فلسفے کا مخالف تھے لیکن بطور ادب انکا انکار نہ کرتا تھے ، بادی النظر میں دیکھا جائے تو احمد سرہندی کی بدعت چھوٹی تھی اور انکی بڑی ، کیونکہ احمد سرہندی بہرحال ابن عربی کے فلسفے کی کمال گمراہی کو سمجھ گئے تھے اور اسکو شریعت کے تابع رکھنے کے لیے وحدہ الشہود کے فلسفے کی طرف مائل ہوئے لیکن شاہ ولی اللہ نے کبھی بھی ابن عربی کے فلسفے کی مخالفت نہیں کی اور اسکو بدرجہ اتم میں مانا ہے
اسکے بالمقابل جب ہم علمائے سلف کی اٹھان کا جائزہ لیتے ہیں تو انکے خانوادے انکے اساتذہ انکے کتب تمام کی تمام محض قرآن وسنت کے چشمہ صافی سے فیض یافتہ ہیں وہ بچپن سے ہی گھروں میں قرآن پڑھتے تھے حدیث کا دور دورہ دیکھتے تھے اور اپنے والدین کو ان پر عامل ۔ باہر کے مدارس کا پہلا سرچشمہ ہی حدیث کے مدارس ہوتے تھے اور کتب احادیث و اصول الدین ہی وہاں پر پڑھائے جاتے تھے ۔ گمراہی کے علمبرداروں کی پسندیدہ زمین ہندوستان تھی اور وہ عربی تلوار و علم کی کاٹ سے بچنے کے لیے ہندوستان کا رخ کرتے تھے ، یوں علماء سلف کی تعلیم و تربیت جس ماحول میں سرانجام پاتی تھی وہاں پر ہدایت کا حصہ کثیر انکے ساتھ چلا آتا تھا اور علمائے ہند چاہنے کے باوجود بھی گمراہی کی زد سے بچ نہ سکتے تھے
جہاد و تجدید و ایمان و عقیدے کے اس دور میں ضروری ہے کہ ہم رستے کا جھاڑ جھنکاڑ ہٹا کر محض چشمہ صافی سے اپنا تعلق جوڑیں ہمیں تشریح و تفسیر کے لیے بھی ان علماء کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تصوف وہ سانپ ہے جسکا کاٹا پانی نہیں مانگتا
نوٹ : نصاب کی تفصیل “برصغیر پاک و ہند کے قدیم عربی مدارس کا نظام تعلیم” از پروفیسر بختیار حسین صدیقی سے لی گئی ہے اور انہوں نے یہ تفصیل مولانا سید عبدالحئی سابقہ ناظم ندوہ العلماء اور ابو الحسنات ندوی سے لی ہیں ۔ یہ کتاب نیٹ پر موجود ہے اور پڑھی جاسکتی ہے )

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں