علم ہی تو عمل پر اکساتا ہے

دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو نامعلوم افراد سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ درحقیقت دہشت گرد بھی ہماری ہی طرح کے  ہوتے ہیں اور اپنی کاروائی کر کے ہم میں ہی گھل مل جاتے ہیں شائد امدادی کاروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہوں۔

کسی بھی ذی روح کی پیدائش سے لے کر ابتک ہونے والی آخری ایجاد تک ہر شے اپنے کسی خاص مقصد کیلئے دنیا کی زینت بنتی ہے یا بنائی جاتی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ہر شے بشمول ابن آدم کے اس حقیقت کو نہیں پہچان پاتی کہ اسکے وجود کی کیا اہمیت ہے اور وہ کہاں اور کس طرح دنیا کے لئے باعث کارامد ہے ۔ دنیا میں موجود انسانوں کو ہی لے لیجئے کتنے لوگ جو قدرت کی  کی گئی تخلیقات پر سے تحقیق کر کے پردہ اٹھا رہے ہیں جو ایجادات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کائنات میں قدرت نے کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں رکھی بلکہ ہماری عقل پر پردہ ڈال رکھا ہے جو صرف اور صرف علم کی بدولت ہی اٹھتا ہے۔ شائد یہی وجہ رہی ہوگی کہ جتنے بھی اللہ کے مقرب بندے گزرے ہیں بلا تفریقِ مذہب سب کے سب علم کی روشن دلیلیں تھے۔

یہ علم ہی تو ہے جو عمل کیلئے اکساتا ہے ۔علم کسی کی جاگیر نہیں اور نا ہی کوئی اس سے باز رکھ سکتا ہے اور نا ہی علم کو قید کرسکتا ہے ۔ علم کا مطلب ہے جاننا اور جو جانے گا وہ طلب بھی کرے گا یعنی دنیا میں پیدا ہونے والے بچے کو فطری     طور پر یہ سکھایا ہواہوتا ہے کہ روگے نہیں تو ماں تمھاری طرف دھیان نہیں دے گی،اور دھیان نہیں دیگی تو غذا کا انتظام کیسے ہوگا اور غذا نا ملی تو پھر کیا ہوگا۔
غذا نا ملی تو کیا ہوگا یہ بات ہم سب جانتے ہیں بندہ مرجائے گا۔

جی نہیں ! ایسا نہیں ہوگا کہ بندہ مر جائے گا بلکہ بندہ چھیننے اور مارنے کیلئے نکل کھڑا ہوجائیگا اور اپنی بھوک مٹانے کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو بھوکا کرنے کی ٹھان لے گا وہ یہ ٹھیکا اٹھا لے گا کہ ساری دنیا کو بھوک کا احساس دلا دے ،جس سے اسکی بھوک تو مر جائے گی مگر کتنے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائینگی۔ پھر اس بھوکے کا علم صرف اور صرف اپنی بھوک مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہو جائیگا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے ایک علم سے آراستہ شخص نے ایٹم بم بنایا جوکہ دنیا کی ابتک کی ایجادات میں سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک چیز ہے۔ یہ کیسا علم تھا جس پر عمل کرنے سے اس بم کی ایجاد ہوئی اور اس کی بربادی اور ہولناکی کا مظاہرہ دیکھنے کے شوق میں اسکا استعمال بھی کرڈالاجس کے نتیجے میں انسانیت افسردہ ہوکر رہ گئی۔

کسی بھی تحریک یا تنظیم کے پیچھے کچھ نا کچھ محرکات ہوتے ہیں یا پھر زیادتیاں ہوتی ہیں جو انسانوں کے ایک گروہ کو ایسا کرنے پر اکساتی ہیں۔ اگر کوئی دہشت گردی کیلئے نکل رہا ہے تو کیا وہ یونہی منہ اٹھا کر نہیں نکل پڑتا ہے ؟ وہ ساری جانکاری جمع کرتا ہے وہ جگہ کا بارہا تجزیہ کرتا ہے ہجوم دیکھتا ہے حفاظتی انتظامات دیکھتا ہے ۔
کسی زمانے میں علم میں روح ہوتی تھی یعنی علم حاصل کرنے والا روحانیت سے بھی شناسائی کرلیتا تھا اور قدرت کی بنائی ہوئی کائنات پر قدرت کا مشکور ہوا جاتا تھا۔ وقت بدلتا چلا گیا انسان علم کی بدولت تقسیم ہوتا چلا گیا ۔ علم نے انسان کو طاقت عطاء کی انسان طاقتور ہوگیا اور اپنے سے کمزور پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگا اور پھر حکومت شروع کردی طاقتور نے کمزور پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کردئیے اور اسے علم سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آگیا اب وہ یہ بھی بھول چکا ہے کہ اسکا ظلم صرف علم سے دور رکھنا تھا مگر علم پر قید نہیں لگائی جاسکتی علم بھی ہوا اور پانی کیطرح پھیلتا ہے کسی بھی طرح اپنے چاہنے والے تک پہنچ جاتا ہے یا پھر چاہنے والا علم تک رسائی پاہی لیتا ہے۔ علم نے تہذیب یافتہ بنایا تو علم والوں نے ہی بد تہذیبی کی حدیں پار کرکے دیکھائیں۔
دنیا میں آج علم کے سمندر بہہ رہے ہیں دنیا علم کی معراج کو چھو رہی ہے اور جب سے دنیا ایک گلوبل ویلیج بنی ہے تو سماجی میڈیا پر تو علم والوں کے کیا کہنے ہر زبان ، ہر مذہب اور ہر خظے سے علم رکھنے والے ایک جگہ پر آگئے ہیں۔ مگر علم صرف ع ل م ہی رہ گیا ہے ۔ آج علم بے عمل ہوچکا ہے ہر چیز کی فقط مادی حیثیت ہے مگر روحانیت کا تصور آہستہ آہستہ کرہ عرض سے غائب ہونا شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے علم کسی جسم کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اچھے کپڑے ، بڑے بڑے محل نما گھر اور بڑی بڑی گاڑیاں علم والوں کی نشانیاں بن گئیں ہیں۔ جبکہ علم والے تو خاک نشینی کو ترجیح دیا کرتے تھے وہ فرش سے زیادہ عرش پر دھیان دیا کرتے تھے۔
جن لوگوں کی باتیں آج صدیاں گزرجانے کے بعد بھی جوں کی توں زندہ ہیں اور ہمارے معمولات میں ایسے دہرائی جاتی ہیں جیسے کہ کوئی آج کی بات ہو۔ یہ باتیں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے علم کتابوں سے نہیں قدرت کی بچھائی کائنات سے سیکھا تھا انکے لئے کسی پھول کا کھلنا بھی علم تھا کسی پرندے کا چہجہانا بھی علم تھا غرض یہ کہ کسی فرد کا ناراض ہونا بھی علم تھا اور خوش ہونا بھی علم تھا انکے علم کا ہر راستہ انہیں قدرت سے ملتا تھا اور انہیں قدرت کے قریب تر لے جاتا تھا۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی باتیں آج کی ہزار باتوں کا مجموعہ ہوا کرتی تھیں۔
لوگوں نے جہاں علم کو حاصل کرکے اس سے دولت کمانے کے نئے نئے ذرائع دریافت کئے بلکہ آج تو علم کو بھی بطور کاروبار پیش کیا جا رہا ہے۔ علم کو نظاموں میں تقسیم کردیا گیا ہے کیمبرج نظام ہے تو امریکی نظام ہے ، اسلامی نظام ہے اور معلوم نہیں کون کون سے نام رکھ کر بلکل کسی بیچنے والی شے کی طرح ۔ آج علم حیثیت کے مطابق بھی دستیاب ہے سرکاری اسکولوں میں وہ بچے علم حاصل کرنے جاتے ہیں جنہیں علم کے حصول کا کوئی خاص شوق نہیں ہے بس اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا کچھ وقت نکل جاتاہے مگر ایک وقت کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے جس کی بنیاد پر اساتذہ کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہاں یعنی سرکاری اسکولوں میں آنے والے بچوں میں کتنے واقعی علم حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں اور کتنے وقت گزارنے یہاں آتے ہیں۔ ہمیں سنبھلنا ہوگا احتیاط سے قدم آگے بڑھانے ہونگے آج یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں اس بے ہنگم دنیا کا حصہ بنے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ سب کچھ آگے بڑھ رہا ہے جو نہیں بڑھ رہا اسے گھسیٹ کر آگے بڑھایا جارہا ہے۔ پڑھے لکھے جاہلوں سے دنیا اٹی پڑی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ کتابیں بڑھ رہی ہیں اور ان کتابوں سے علم چھلک رہے مگر اب جب کے دنیا اپنے انجام کی جانب بہت تیزی سے دوڑ رہی ہے تو علم سے لبریز کتابوں سے الفاظ چھلک رہے ہیں اور بے توقیر ہوئے جا رہے ہیں۔ اب کچھ بھی کر لو لفظوں کو پڑھنا تو سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے مگر وہ علم جو عمل پر اکساتا تھا اب نہیں لایا جاسکتا کیونکہ وہ تو جس کی دین تھا اس نے اٹھا لیا ہے۔

شیئرکریں
mm
خالد زاہد نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے، شعر و شاعری کا شغف رکھتے ہیں اور آرٹیکل / بلاگز تحریر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں