لاپتہ افراد قانون نافذ کرنے والے ادارے اور آئینی تقاضے

لاپتہ افراد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں عرصہ سے زیر سماعت ہے، ہر پیشی پر لاپتہ افراد کے لواحقین یہ آس لیکر عدالت میں آتے ہیں کہ شائد اس پیشی پر ان کے پیاروں کو رہائی مل جائے یا ان کے زندہ یا مردہ ہونے کا سراغ مل جائے ،لیکن ہر سماعت پر مایوس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
مورخہ 5 دسمبر کو بھی سماعت ہوئی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حسب معمول سماعت کی، دوران سماعت بنچ کے معزز رکن جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ” حراستی مراکز میں موجود افراد کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جاتا ،کسی شہری کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔”بنچ کے دوسرے فاضل رکن جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ” خفیہ حراست غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، سالہا سال سے لوگ خفیہ حراست میں ہیں،بدقسمتی سے خفیہ اداروں نے عدالت کو سچ نہیں بتایا،کسی نے جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق سزا دیں، آئین کہتا ہے کہ چوبیس گھنٹے میں زیر حراست شخص کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہری تاصف ملک کی حراستی مرکز میں اہل خانہ سے ملاقات کرادی گئی ہے،جس پر تاصف ملک کے سسر نے کہا کہ صرف تین منٹ کی ملاقات کرائی گئی ہے ،جس میں بھی چار گارڈز کھڑے تھے۔لاپتا افراد کے کیس کی درخواست گزار آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ سات سال ہوگئے ہیں ،لاپتہ افراد کے ورثا قطار میں لگے ہوئے ہیں،ایک لاپتہ کے مقدے کی باری سات ماہ بعد آتی ہے۔
لاپتہ افراد کا معاملہ برسوں سے چلا آرہا ہے، ان افراد کی بازیابی کے لیے کوشاں آمنہ جنجوعہ کے دفتر کے مطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، سمجھ نہیں آرہا کہ لاپتہ افراد کو حراستی مرکز میں رکھنے والے ان پر ان کے جرم کے مطابق مقدمات کیوں درج نہیں کرواتے؟ جیسا کہ سپریم کورٹ کے معزز بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ آئین کے مطابق زیر حراست شخص کو چوبیس گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوتا ہے۔عدالت عظمی کے معزز جسٹس کی جانب سے یہ کہنا کہ خفیہ ادارے عدالت سے سچ نہیں بول رہے، بڑی تشویش ناک صورتحال ہے، اگرحراستی مراکز قائم کرنے والے اپنے تحفظات اور خدشات کے باعث زیرحراست افراد کو سول عدالتوں کے روبرو پیش نہیں کرنا چاہتے تو انہیں ملٹری کورٹس میں ہی پیش کرکے ان پر مقدمات چلائیں تاکہ ان کے ورثا لامتناہی گمشدگی کے عذاب سے باہر نکل آئیں اور انہیں اطمینان قلب ہو کہ ان کے پیارے زندہ ہیں اور اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔
غیر معینہ مدت کی گمشدگی تو بہت بڑی بات ہے چندگھنٹوں کی گمشدگی کتنا بڑا عذاب ہوتی ہے اس کربناک درد سے آشناہمارے ارد گرد میں بسنے والے بہت سے افراد موجود ہیں اور حراستی مراکز والے ادارے بھی اس عذاب سے شنائی سے مانوس ہیں، خصوصا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سے غیر مانوس نہیں کیونکہ ہماری اداروں کے کئی لوگ دہشتگروں کے ہاتھوں محبوس رہ چکے ہیں۔ اس لیے گمشدہ یا لاپتہ افراد جو حراستی مراکز میں موجود ہیں ان کو منظر عام پر لے آنا چاہیے اور اگر مقدمات درج کروانے کی راہ میں کچھ مجبوریاں اور مشکلات حائل ہیں تو انہیں حافظ محمد سعید کیطرح حفاظتی نظربندی میں رکھا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کو صاف شفاف انداز میں سچ سچ بتا دینا اچھی بات ہوگی۔
عدالتیں بھی ہماری اپنی ہیں اور ان میں تشریف فرما معزز جسٹس صاحبان بھی کوئی غیر نہیں وہ بھی اس وطن عزیز سے اسی قدر پیار اور محبت کرتے ہیں جتنا ہم کرتے ہیں۔عدالتیں بھی مادر وطن کو امن کا گہوارہ دیکھنے کی آرزو مند ہیں اور ہم سب بھی یہی چاہتے ہیں کہ مادروطن سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔
سن رکھا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے اس کا کوئی رشتہ دار اور عزیز نہیں ہوتا، اسے محض انصاف عزیز ہوتا ہے، انصاف سے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ انصاف ہوتا بھی نظر آنا چاہیے۔ غیر معینہ مدت کیلیے اپنے ہم وطنوں کو حراستی مراکز میں رکھنا اور ان تک رسائی نہ ہونا ہماری جنگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے، دشمن بھارت کشمیر میں جو کچھ ظلم کررہا ہے اس پر اٹھائی جانے والی احتجاجی صداؤں کے جواب میں وہ ہماری اور عالمی ضمیر کی توجہ لاپتہ افراد یا گمشدہ افراد کی جانب دلاتا ہے، حالانکہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور لاپتہ افراد کا معاملہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
سپریم کورٹ میں سات سال سے زیر سماعت معاملہ کو بھی جلد نبٹائے جانے کی کوشش ہونی چاہیے، سات ماہ بعد لاپتہ فرد کی باری آنا بھی تشویش ناک پہلو ہے، فریقین کے وکلاء ،معزز جج صاحبان اور خفیہ اداروں کو لاپتہ افراد کے کیس کو جلد نبٹانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان اور اس کی سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈہ کو ختم کیا جائے، تجویز ہے کہ زیر حراست یا لاپتہ افراد کی موجودگی سے عدالت اور اہل خانہ کو مطلع کردیا جائے اور ان پر لگے چارجز سے بھی عدالت اور اہل خانہ کو آگاہ کردیا جائے تاکہ معاملہ اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ سکے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آئین پر عملدرآمد ہر پاکستانی شہری اور ادارے پر لازم ہے، آئین ہی کے تحت ریاستی ادارے تشکیل پاتے ہیں اور آئین ہی کے تحویض کردہ فرائض و اختیار کے تحت کام کرتے ہیں، آئین کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل ضیا ء اور جنرل پرویز مشرف اقتدار پر قابض ہونے، مارشل لا نافذ کرنے کے باوجود آئین پاکستان کو منسوخ نہیں کرپائے تھے۔
سید ناصر عباس شیرازی کی رہائی مستحسن اقدام کے زمرے میں آئے گا، سید ناصر عباس شیرازی جن لوگوں یا اداروں کی بھی تحویل میں تھا انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں کسی ہزمیت سے بچنے کی سعی کرکے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ناصر عباس شیرازی کی گھر واپسی کسی کی جیت نہیں اور نہ ہی کسی کی ہار ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ ایسے ہی دیگر حراستی مرکز میں موجود افراد کو گھر بھیج دینا چاہیے اس سے لاپتہ افراد کو زیر حراست رکھنے والوں کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا۔

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں