مسئلہ پیرا شوٹرز ہیں

جو کچھ ملک میں ہورہا ہے وہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ آسانی سے سمجھ آجائے۔ بات صرف نوازشریف کی کرپشن کی نہیں ہے۔ بات آصف علی زرداری کو اقتدار کا خواب دکھانے کی بھی نہیں ہے۔ بات عمران کو لارے میں لگا رکھنے کی بھی نہیں ہے۔ بات ہے ،اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے کی۔ ملک میں گامے تیلی کی حکومت چل سکتی ہے۔ بلے نائی کی چل سکتی ہے۔ پھتے موچی کی حکومت چل سکتی ہے مگر اس کی حکومت نہیں چل سکتی جو خود اپنی مرضی ،اپنی پسند سے حکومت چلانا چاہے۔

کسی نے کہا کہ اگر نوازشریف چور ہے تو آصف علی زرداری صاحب بھی تو چور ہیں اورعمران کے ساتھ شامل ہونے والے اکثرلوگ ماضی میں مشرف کے اورآصف زرداری کے ساتھی رہے ہیں۔ پھر آصف زرداری کی شامت ایسے کیوں نہیں آرہی جیسے نوازشریف صاحب کی آئی ہوئی ہے؟ حقیقت حال یہ ہے کہ جب جنرل پرویز مشرف کا شو ختم ہوا، اس کے بعد آصف زرداری صاحب کے سہانے دور کا آغاز ہوگیا اور بین الاقوامی اخبارات نے شہ سرخیاں لگائیں کے مسٹر 10 پرسنٹ مسٹر 100 پرسنٹ بن گئے ہیں۔ موصوف نے نا صرف پورے 5 سال مکمل کئے بلکہ راوری بھی چین ہی چین ،سکھ ہی سکھ لکھتا رہا۔ یا یوں کہہ لیں کہ راوری سے چین ہی چین لکھوایا جاتا رہا۔ بعض ناقدین کا خیال ہے اور خود یوسف رضا گیلانی بھی فرماتے ہیں کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کو مدت ملازمت میں توسیع مل جاتی تو گیلانی شاید ناجاتے۔ مگر ماڑا مٹا سول وزیراعظم بھی اکثر وہ کام کرجاتا ہے جو سول بالادستی کے لئے بطور نظیر پیش کیا جاسکتا ہے۔

ابھی چندروزقبل ہی سینئرسیاستدان جاوید ہاشمی صاحب کسی ٹی وی پروگرام میں فرمارہے تھے کہ ملک کی تاریخ کے تمام بڑے سیاسی لیڈر ایک ہی فیکٹری کی پیداوار ہیں اور جو ،ان کو فیکٹری سے پیدا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو ان کو لیڈر بنایاہے،اب یہ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں؟ اس موقع پر اینکر پرسن نے کہا کہ یہ کہاں ہوتا ہے کہ فیکٹری کا مال فیکٹری کے مالک کے سامنے کھڑا ہوجائے؟جاوید ہاشمی صاحب نے کہا یہی تو مسئلہ ہے اسی لئے تو فیکٹری والے ہر دو سال بعد نیا مال مارکیٹ میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پرانا مال زہر ہے اس کے قریب بھی مت جانا۔ یہ بین الاقوامی اصول ہے کہ وہ ایجنٹ زیادہ برا لگتا ہے جو توبہ کرے اور صحیح راہ پر چلنا شروع کردے۔

بات کررہے تھے جنرل پرویز کے جانے کے بعد کی ،تو جب جنرل پرویز ملک سے رخصت ہوا، اس کے بعد آصف زرداری صاحب کا اقتدار شروع ہوگیا۔ اس 5 سال میں کرپشن کی کالی ماتا نے جتنے ڈالروں کی بلی لینی تھی وہ لیتی رہی۔ آصف صاحب وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے زیادہ وزارت خزانہ کی دیکھ بھال کرتے رہے لہٰذا سب موجا ں ہی موجاں چلتا رہا۔ جن کے مزے پچھلے 9 سال سے لگے تھے ان کو 5 سال اور مل گئے۔ اندھے کو کیا چاہئے؟ دو آنکھیں ،وہ مل گئیں۔ آصف صاحب ٹرانسفر پوسٹنگ پکڑتے رہے اور باقی سارا ملک سکون آرام شانتی سے چلتا رہا۔ تین سال کی مدت ملازمت میں توسیع بھی دے دی گئی۔ آصف صاحب کو مزید 5 سال ملتے تو وہ مزید 6 سال توسیع دینے میں 1 منٹ آسراہ نہ کرتے اور ملک میں کچھ بھی نہ ہوتا۔

دیکھا جائے تو اصولی طور پر ملک کو آصف زرداری کے دور حکومت نے بہت دکھ دیئے۔ میں جان بوجھ کر آصف زرداری کا دور حکومت لکھ رہا ہوں، پیپلزپارٹی کا دور حکومت نہیں۔ کیونکہ پیپلزپارٹی میں بے شمار مخلص، صاف،قوم کے ہمدرد اور غریب لوگ موجود ہیں۔ زرداری دور حکومت میں کراچی میں روز لوگ مرتے تھے مگر حرام ہے جو کسی کو جوش یا ہوش آیا ہو؟ یا کسی نے مارے شرم کے بیلٹ، ٹوپی اتار پھینکی ہو،کہ میں نہیں کرتا نوکری ۔میں ایسی نوکری کیسے گوارہ کروں جس میں میری سربراہی میں شہر میں لوگ مارے جاتے رہیں ؟ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ مان لیا سول حکومت گندی تھی چور تھی، اور سول حکومت آڈر نہیں دیتی تھی کہ الطاف کو لگام ڈالو، تو پھر اب کراچی کے امن کا سہرا نوازشریف اور چوہدری نثار کے سرجانا چاہئے نا؟ اب پھر کراچی کے امن کا سہرا راحیل شریف صاحب کے سر کس کھاتے میں؟ چلو لے لو، راحیل شریف صاحب کو دیتے ہیں کریڈٹ، کے کراچی کا امن ان کہ مرہون منت ہوا ،تو پھر ماضی میں جو بدامنی تھی وہ جنرل اشفاق کیانی کی وجہ سے تھی؟ غیب سے آواز آتی ہے نہیں نہیں وہ سول حکومت کی وجہ سے تھی۔ واہ بھائی واہ۔ کسی پرانے زمانے میں باپ نے بچے سے پوچھا بیٹا ایک روپے کا نوٹ لو گے یا آٹھ آنے کا سکہ۔ بچہ ہوشیار تھا کہنے لگا ابا روپے کے نوٹ میں آٹھ آنے لپیٹ کے دے دو۔

عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ جب آصف زرداری صاحب نے بری حکومت کی اور ان کے دورِ حکومت کا اختتام ہوا، اس وقت پیرا شوٹر عمران خان کو سندھ کو ٹارگٹ کرنا چاہئے تھا۔ مگر عمران خان نے پنجاب کا انتخاب کیا۔ پنجاب میں آصف زرداری صاحب کے دور میں بھی میاں شہباز شریف صاحب کی حکمرانی تھی ایسے میں عمران خان کا پنجاب کو ٹارگٹ کرنا سمجھ سے بالاتر تھا۔ مگر اکثر فرشتوں کے فیصلے عقل سے ماوراء ہی ہوتے ہیں لہٰذا غیبی فرشتوں نے عمران کو پنجاب دیا۔ عمران خان بھی سادہ آدمی تھا لگ گیا پنجاب کے پیچھے ۔پچھلے پورے 4 سالوں میں عمران خان کے پنجاب اور سندھ کے دوروں کا ریکارڈ دیکھ لیں۔ آپ کے سامنے حقیقت آجاے گی۔ اگر عمران 2013 کے انتخاب سے قبل سندھ کو ہدف بناتے تو سندھ سے عمران کو خاص کر، کراچی سے خاصی کامیابی ملنی تھی مگر جنہوں نے عمران کو جہاز سے دھکا دیا تھا انہیں اس زمانے میں نہ الطاف سے کوئی شکایت تھی نہ آصف زرداری سے لہٰذا عمران نے وہی کیا جو اسے کرنا تھا۔

رہی بات نوازشریف صاحب کی تو وہ ہر دور میں وزارت خارجہ کی وجہ سے مشکل کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے جانے کے بعد وزارت خارجہ خواجہ آصف کو دی۔ اگر آپ نے ایشین سوسائٹی میں خواجہ آصف کا مکمل سیشن سنا ہو تو آپ کو فخر ہوگا کہ آپ کا وزیر خارجہ خواجہ آصف جیسا دلیر اور نڈر انسان ہے۔ البتہ اگر آپ نے خواجہ آصف کے پورے خطاب میں سے وہ چند جملے پڑھے ہیں جو اخبارات نے آپ تک پہنچائے ہیں تو الگ بات ہے۔

آج پھرعمران ہنگامی دوروں پرہے ۔عمران اگراس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اگلی حکومت اس کی ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پورے ڈرامے کا ایک کریکٹرہے۔وہ نہ ہی رائیٹرہے نہ ہی ڈائریکٹراورڈرامے کا اختتام ویسا نہیں ہوگا جیسا ڈرامے کے عین بیچ میں نظرآرہا ہے۔ڈرامے میں کچھ رول آصف زرداری کوبھی ملا ہے جوآج کی تاریخ تک وہ خوب نبھارہا ہے۔اداکاری آصف اورعمران دونوں جاندارکررہے ہیں۔ویسے کمال کا اداکارمصطفیٰ کمال بھی ہے ۔صحیح وقت پرروبھی لیتا ہے اورلطیفہ سنانا ہوتووہ بھی سنا لیتا ہے۔ مگراس کے ہاتھ میں بھی وہ لکیرنہیں جس لکیرکی امید میں وہ سفرکررہا ہے

اس وقت نوازشریف وہی کام کررہے ہیں جو کبھی پیپلزپارٹی کرتی تھی۔اورجب تک پی پی یہ کام کرتی رہی پی پی جوان بھی رہی اورعوام میں زندہ بھی۔اگرنوازشریف کا تعلق بلوچستان ،کے پی کے یا سندھ سے ہوتا تو کب کا گول ہوچکا ہوتا،مگراس بارمولے کا مقابلہ مولے سے ہوگیا ہے ۔ مسئلہ صرف سینیٹ کے انتخابات کا ہے۔ ایسی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ یا تو سینیٹ کے انتخابات نہیں ہونگے۔ اگر ہوگئے تو وقت پر الیکشن نہیں ہونگے۔ اگر الیکشن بھی وقت پر ہوگئے، تو ن لیگ کو اکثریت نہیں لینے دینگے۔ اگر ن لیگ نے اکثریت بھی لے لی، تو حکومت بننے نہیں دیں گے۔ اگر حکومت بھی بن گئی، تو حکومت چلنے نہیں دینگے۔ ہاں، اس کے امکانات روشن ہیں ۔کیونکہ جہاز فضاء میں 18 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور کئی پیرا شوٹر دانت نکالے اپنی چڈیوں کو پیرا شوٹ بناکر گودنے کے لئے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ اشارہ ہوا نہیں ،کہ وہ کودے نہیں۔ اس لئے مسئلہ ہیں تو صرف پیراشوٹر۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز