نقل مافیا کے خلاف آگاہی مہم کی ضرورت

عوامی مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ ہماری توجہ اُن کی جانب متوجہ نہیں ہوپاتی جو بیشتر معاشرتی مسائل کی جڑ ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے اورنگی سے فرینڈز آف اورنگی کے ایک اسکول ٹیچر حامد آفریدی نے میٹرک بورڈ کے امتحانات میں نقل کے رجحان کی جانب توجہ مبذول کروائی ۔ میں نے اس سلسلے میں عرض کی کہ ابھی تو میٹرک کے امتحانات میں کچھ وقت ہے ۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم ابھی سے طلبا والدین میں شعور کی آگاہی کیلئے ایک باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں، اس سلسلے میں تعاون درکار ہے ۔ میڑک و انٹر بورڈ کے امتحانات کا آنکھوں دیکھا احوال تو ہرکسی کے سامنے ہی ہے ۔ مجھے اس سلسلے گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن قبل از امتحانات آگاہی مہم کے حوالے سے اسکول ٹیچرز کی جانب سے مثبت اقدام پر دلی خوشی محسوس ہوئی ۔

میٹرک کے امتحانات کے حوالے سے بعض پرائیوٹ اسکولز کا ایک رجحان نہایت خطرناک عمل اختیار کرگیا ہے جس میں اپنے اسکول کے اچھے رزلٹ کی تشہر کیلئے نقل مافیا کے اراکین کے ساتھ ملکر منظم انداز میں مستقبل کے معماروں کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے ۔ اس عمل سے ذہین طلبا کی زبردست حوصلہ شکنی ہوتی ہے جوشب و روز امتحانات کی تیاری میں لگا دیتے ہیں، لیکن جب امتحانات آجاتے ہیں تو رشوت کے عوض زیادہ ترطلبا ء با آسانی پرچے حل کرکے یوں جاتے ہیں جیسے امریکہ نے افغانستان فتح کرلیا ہو۔اس ضمن میں سب سے قابل افسوس رجحان یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کو خود بھی نقل کی جانب رجحان دلانے کے لئے سفارشیں تلاش کرتے ہیں ۔ شنید کے ساتھ دید بھی ہے کہ کئی احباب فون آتے ہیں، بالمشافہ ملاقات بھی کرتے ہیں کہ فلاں اسکول میں بورڈ کے امتحانات ہیں ۔ کسی جاننے والے کو فون کرادیں ۔ اس سلسلے میں میرا موقف دو ٹوک ہوتا ہے کہ اگر آپ کا بچہ نقل کرکے پاس ہونا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ اسے پڑھانا چھوڑ دیں یا پھر بچہ اگر خود پڑھ کر امتحانات میں پرچے حل نہیں کرسکتا تو اچھے گریڈ لانے سے بہتر ہے کہ وہ “فیل”ہوجائے۔

امتحانات سے کچھ ہفتوں قبل طلبا اور ان کے والدین سمیت تعلیمی مراکز میں نقل رجحان و مافیا کے خلاف آگاہی مہم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔تمام والدین اپنے بچے کو معاشرے میں اچھا مقام دلانے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اچھے سے اچھے اسکول میں بھاری فیسوں کے ساتھ مالی بوجھ و سختیاں برداشت کرتے ہیں ۔ان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ ان کا بچہ ایک کامیاب انسان بن سکے ۔بد قسمتی سے سرکاری اسکولوں میں نظام تعلیم اس قدر حوصلہ افزا نہیں رہا کہ ہم اسے قابل مثال قرار دیں سکیں ۔ اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے ایک تجویز ضرور سامنے آئی تھی کہ سرکاری ملازمین پر لازماََ قرار دیا جائیگا کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کرائیں گے۔بظاہر تو ایسا قانون بننا اور پھر اس عمل درآمد ہونا ناقابل یقین سا لگتا ہے ، تاہم ایسا قانون اگر سندھ اسمبلی پاس کرکے لاگو بھی کردیتی ہے تو یقینی طور پر سرکاری اسکولز کی حالتِ زار میں تبدیلی واقع ہونا بھی شروع ہوسکتی ہے۔
والدین اگر آج سے یہ فیصلہ کرلیں کہ ان کے بچے اپنی ذہانت و محنت کے بدولت ہی امتحانات میں کامیابی حاصل کریں گے تو اس کے لئے انہیں آج ہی سے اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کا شیڈول ترتیب دے لینا چاہیے ۔ بچوں کو ٹیوشن سے زیادہ اپنے والدین کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔امتحانات کی تیاری کے لئے اسکولز میں ماہانہ، سہ ماہی ٹیسٹ اس کے علاوہ ہوتے ہیں جس سے طالب علم غیر نصابی سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ والدین اچھے ومہنگے اسکولز میں اپنے تمام بچوں کو یکساں تعلیم دینے سے قاصر بھی ہوتے ہیں کیونکہ کم آمدنی رکھنے والے والدین کے لئے بیک وقت کئی بچوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم دلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بعض علاقوں میں چند کمروں پر مشتمل تاریک مکان کو اسکول کا نام دیکر بھی بچوں کے مستقبل سے کھیلوار کیا جاتا ہے ۔ بھاری بھرکم انگریزی ناموں کے ساتھ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ انکا بچہ دوسرے دن ہی انگریزی بولنا شروع کردے گا ، لیکن اس عمل سے بچہ ذہنی افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ گھر میں بولی جانے والی زبان( مادری زبان) اور اسکول میں پڑھائی جانے والی زبان( دوہرا نظام تعلیم) میں واضح فرق ہوتا ہے ۔ معاشرے میں مختلف لسانی تفریق و دوہرے تعلیمی نظام کی وجہ سے بعض والدین بچوں کی ذہنی نشوونما سمجھنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیتے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے تعلیمی سرگرمی کا جائزہ لیں تو صبح سویرے بچوں کا اسکول بھیجنا والدین کے لئے بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے ۔ موسمی تغیرات سے بالاتر اسکول منجمنٹ سسٹم اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔ اسکول میں کم ازکم پانچ گھنٹے گذار کر والدین کے اکثریت اپنے بچوں کو مدارس میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے بھیج دیتی ہے ۔جہاں کم ازکم تین گھنٹے بچہ گزار کر آتا ہے تو اسکول کے ہوم ورک کے نام پر آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد بھاری بھرکم بستہ پھر اس کے سامنے ہوتا ہے اور مزید دو گھنٹے بچے کی تعلیمی جنگ میں خرچ ہوجاتے ہیں ،سہ پہر گذرتے ہی بچوں کو ٹیوشن سنیٹر بھیج دیا جاتا ہے قطعِ نظر اس بات سے کہ انہیں ٹیوشن سنیٹر کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ تین گھنٹے مزید گزار کر جب بچہ گھر آتا ہے تو ٹیوشن سینیٹر کے دیئے گئے ہوم ورک کو لکھنے میں مزید دو گھنٹے گذر جاتے ہیں۔ نصابی سرگرمیوں کا یہ بوجھ بچوں میں کئی نفسیاتی الجھنوں کا شکار کردیتاہے اور جب اس بچے کی عمر عملی میدان میں اترنے کے قابل ہوتی ہے تو وہ نصابی سرگرمیوں سے بچاؤ کے کئی طریقے اختیار کرچکا ہوتا ہے ۔جس میں سب سے پہلے والدین کو بے خبر رکھ کر ثانوی امتحانات کی تیاری میں عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ پڑھائی سے فرار اور آسان راستہ نقل کے راستے پر گامزن ہوجانا شامل ہے۔ سہل پسندی یا کام کی زیادتی و کاروبارکی وجہ سے اکثر والدین اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ پاتے اس لئے کالجز میں میرٹ پالیسی کی وجہ سے اچھے نمبر نہ آنے پر سفارشیں کراتے ہیں اور یہی اصل وجہ ہے کہ بیشتر والدین نقل مافیا کو بھاری رشوت بھی دیتے ہیں تاکہ ان کا بچہ نقل کرکے پاس ہوجائے اور اچھے نمبر حاصل کرسکے ۔
حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی کیا صورتحال ہے یہ تو کسی بھی سرکاری اسکول کو دُور سے دیکھنے پر ہی معلوم ہوجاتا ہے ۔ تعلیمی انقلاب کے پُر فریب نعروں میں کرپشن کی ندیاں بہتی رہتی ہیں ۔ تعلیمی ادارے اوطاق ، بھینسوں کے باڑے بن کر قبضہ مافیا کے ہاتھوں مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھیلوار کی کھلی اجازت دینے کی بھیانک تصویر ہے۔ رہی سہی کسر نقل مافیا کی جانب سے امتحانی مراکز کی جانب سے پوری ہوجاتی ہے جس میں قبل ازوقت امتحانی پرچوں کا آؤٹ ہوجانا، رشوت کے عوض نقل کروانے کے لئے مختلف درجے ترتیب دینا جس میں خصوصی کمرے بھی ہیں جو امتحانی مرکز میں الگ تھلگ بنایا جاتا ہے۔جس میں وی آئی پی طلبا کو بیٹھا کر نقل کرنے کیلئے فون سمیت ہر سہولت با افراط فراہم کی جاتی ہے۔ نیز اثر روسوخ کے حامل ایسے لابیاں بھی ہیں جو گھروں میں امتحانی پرچے و کاپیاں امتحانی مراکز سے خود فراہم کرتے ہیں اور وقت مقررہ پر گھر جا کر حاصل کرلیتے ہیں۔کروڑوں روپے رشوت کی شکل میں نقل مافیا کی جیبوں میں منتقل ہوجاتے ہیں یہ بھیانک عمل برسوں برس سے جاری ہے ۔ حکومت اور بورڈ انتظامیہ کی جانب سے میڈیا کی توجہ دلانے پر بعض مراکز میں چھاپے بھی مارے جاتے ہیں لیکن ہزاروں اسکولوں میں بیک وقت نقل کے رجحان کو روکنا ، اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور والدین کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔یہاں اسی ذمے داری کا احساس طلبا، اساتذہ اور والدین کو کروانا ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کو برباد ہونے سے بچانے کیلئے انہیں ہی میدان عمل میں آگے آنا ہوگا ۔ بورڈز کے تحت امتحانات میں اپنے بچوں کے لئے سفارشیں اور رشوت کی بھاری رقوم کی فراہم کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی ۔ اپنے بچوں پر نصابی سرگرمیوں کا بوجھ حسب استطاعت ڈالیں ۔ غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے اپنے بچوں کو مناسب وقت فراہم کریں،تعلیم کے نام پر ایسے اسکولز میں اپنے بچوں کو داخل نہ کرائیں جہاں داخل ہوتے ہی بچوں کو قید خانے کا احساس ہو۔ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینے کیلئے والدین مناسب وقت مختص کریں ، ضروری نہیں کہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے والدین تعلیم یافتہ ہی ہوں ۔ اگر والدین تعلیم نہیں حاصل کرسکے ہیں تو بھی اپنے بچوں کے تعلیمی سرگرمیوں پر اُسی طرح نظر رکھ سکتے جس طرح والدین بُری صحبت سے بچانے کے لئے اپنے بچوں پر نظر رکھتے ہیں۔ نا پسندیدہ عناصر کے ساتھ میل جول پر منع کرتے ہیں اور اچھی شہرت کے حامل بچوں کے ساتھ کھیل کود و تفریحی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہیں۔نقل کے رجحان کو روکنے کیلئے امتحانات سے قبل ہی اپنے بچوں کو فیل ہونے کے خوف سے نجات دلائیں اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ملکر مہینے میں کم ازکم ایک بار اپنے بچے کے رجحانات کا تعین کریں۔آپ کی معمولی توجہ بچوں کے مستقبل سدھارنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔قوم کا مستقبل اگر کمزور بنیادوں پر استوار ہوگا تو عمارت جتنی بھی خوب صورت ہو اس کے کمزور بنیادیں ہمیشہ نادیدہ و دیدہ خطرات کا سبب بنتے رہیں گے۔ دوہرے نظام تعلیم سے نجات اورتعلیمی اصلاحات کی ضرورت ناگزیر ہے۔

شیئرکریں
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں