پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور اس کی زلفوں کی اسیر سیاسی جماعتیں

قیام پاکستان کے فوری بعد ہی اسٹبلشمنٹ نے پر نکالنے شروع کردئیے تھے اور سیاسی جماعتوں ( اس وقت ایک ہی جماعت تھی جس کانام مسلم لیگ تھا) پھر بھی اسٹبلشمنٹ کے آقاؤں نے اسے اپنا ہوم ورک مکمل کرنے اور اقتدار کے میدان کے لیے اپنے کھلاڑی تیار کرنے اور رکھنے کی تاکید کر رکھی تھی۔ فوج اور سول بیوروکریسی کے مابین روابط استوار ہوچکے تھے، جس کا ثبوت قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت خان لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد کی صورتحال کافی شواہد سمجھے جانے چاہئیں۔
لیاقت علی خان کی شہادت سے پاکستانی سیاست میں وارد ہونے والے خلفشار کا خاتمہ ایوب خان کے مارشل لا پر ختم ہوا دو دو تین تین ما ہ بعد حکومتوں کی تبدیلی محض اتفاق نہیں ہوتا تھا اس اکھاڑ پچھاڑ کے پیچھے اسٹبلشمنٹ کے فوجی سرخیل ایوب خان کی اقتدار پر قابض ہونے کی ہوس کارفرما تھی۔ 1951 سے 1958کے مارشل لاء کے نفاذ تک جو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لیے کھیل کھیلا گیا آج کی سیاسی ابتری اور سیاستدانوں کی ناپختگی اسی کی دین ہے۔
اسٹبلشمنٹ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاسی لیڈروں کے راستے میں چھوٹی موٹی موم بتیوں (جماعتوں یا گروہوں) کی ٹولیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرکے عوام کو پیغام دیتی ہے یا گمراہ کرتی ہے اور یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ پاکستانی قوم اس اتحاد یا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے چوں چوں کے مربہ کے ساتھ ہے ۔ اسٹبلشمنٹ پاکستان کے عوام کوسادہ لوح تصور کرتی ہے اور اپنی مخالف سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے متعلق عوام کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کرتی ہے کہ ان کا قائم کردہ اتحاد محب وطن ہے اور باقی غیر محب وطن ہیں۔
اپنی خواہشات ،پالیسی اور آرزؤں کی تکمیل کے لیے قائم کردہ سیاسی اتحاد کی تشکیل کرتے وقت اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ عوام کو باور کرایا جائے کہ یہ اتحاد ہی ان کے مذہبی اور سماجی ضروریات پوری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے وہ اسلام اور قومیت کو اجاگر کرنے والے الفاظ استعمال کرتی ہے جیسے پاکستان قومی اتحاد(نوستارے والا) گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس(گڈا) اسلامی جمہوری اتحاد آئی جے آئی) پاکستان عوامی اتحاد ( مولانا شاہ محمد نورانی اور محمد خانیجو والا اور ٹریکٹر کے نشان والا) قابل ذکر ہیں اور بھی نام گنوائے جا سکتے ہیں۔
جبکہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف سرگرم جماعتیں آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے عوامی قوت کو مجتمع کرنے کے لیے جو اتحاد قائم کرتی ہیں جن کی تشکیل میں جمہوریت، عوامی قوت کے اظہار کو لازم اور مقدم رکھا جاتا ہے جیسے کہ پی ڈی ایف(پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ) جگتو فرنٹ، پیپلزپارٹی، موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی(ایم آرڈی) پیپلزڈیموکریٹک الائینس (پی ڈی ایف) الائینس فا ریسٹوریشن آف ڈیموکرسی ( اے آر ڈی) شامل ہوتے ہیں۔
میری بات کی تصدیق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے حال ہی میں ” پاکستان عوامی اتحاد” کی تشکیل کے اعلان سے ہوجاتی ہے، اس سے قبل ایم کیو ایم کے باغی ارکان پر مشتمل جماعت ”پاک سرزمین پارٹی کے نام میں بھی اسٹبلشمنٹ کی ترجیحات نمایاں ہیں ، اور ابھی چند روز قبل ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں بھی اسٹبلشمنٹ کا کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی جانب سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی ایم آئی ،ڈی جی آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کوتحریر کردہ خط کے مندرجات بھی منظر عام پر آگئے ہیں ان میں بھی فاروق ستار نے اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کا رونا رویا ہے اور لکھا ہے کہ ایک چھوٹے افسر نے انہیں کافی دیر روکے رکھا اور اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔فاروق ستار کا خط اسٹبلشمنٹ کی سیاسی معاملات میں مداخلت کا واضح اشارہ ہے۔
اسٹبلشمنٹ قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنے کے علاوہ صوبائی سطح کی قوم پرست جماعتوں کو بھی متحد کرنے کے منصوبہ پر کام کر رہی ہے پنجاب میں وہ مسلم لیگ نواز کو شکست سے دوچار کرنے کی خواہش مند ہے تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی کامیابی روکنے کے لیے مصروف عمل ہے، جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 جماعتوں کے ” پاکستان عوامی اتحاد” کی نوید سنائی گئی ہے اتحاد ابھی تشکیل پایا نہیں اور جنرل مشرف اسکے سربراہ مقررہوگئے ہیں۔
سندھ میں قوم پرست جماعتیں جن میں ایاز لطیف پلیجو کی پارٹی، پیر پگارا کی فنکشنل مسلم لیگ اور دیگر چھوٹی چھوٹی ٹولیاں ایک پلیٹ فارم پر لائی جارہی ہیں، ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کروادیا گیا ہے ۔سندھ نیشنل فرنٹ اس سے قبل مسلم لیگ نوازسمیت متعدد جماعتوں میں ضم ہونے کے اعلانات کرچکا ہے اسی طرح مرحوم غلام مصطفی جتوئی کی پیپلز نیشنل پارٹی بھی مسلم لیگ نواز سمیت دیگر میں ضم چکی ہے۔
اسٹبلشمنٹ کو بارہا اپنے منصوبوں اور پیش بندیوں کے فیصلوں میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہے اور جمہوریت حکومتوں کے خاتمے اور ملک پر آمریت مسلط کرنے کے پروگراموں میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔ ایوب خان سے لیکر جنرل مشرف کی آشیر باد سے قائم مسلم لیگ قائد اعظم کی حکومت قائم کرنے تک کامیابیوں اور ناکامیوں کی ایک لمبی داستان ہے، لیکن ماننا پڑیگا کہ اسٹبلشمنٹ وقتی ناکامیوں سے دل برداشتہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے سے الگ ہونے پر تیار نہیں۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھی اسٹبلشمنٹ کی سوچ کا عمل دخل ہے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا صدمہ برداشت کرنے، سیاہ چین گلیشئیر سے ہاتھ دھونے اور کارگل میں ہزیمیت اٹھانے کے باوجود اسٹبلشمنٹ اپنی اصلاح کرنے اور سیاسی معاملات سیاست دانوں اور پارلیمنٹ پر چھوڑنے پر تیار و آمادہ نہیں۔۔۔ اس کا سفر کب اور کہاں پہنچ کر ختم ہوگا ؟ اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اگر اسٹبلشمنٹ اپنی اصلاح کرنے کو تیار نہیں تو سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈرز بھی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں لگنے والے زخموں سے سبق سیکھنے کو آمادہ نہیں ہیں۔کہا تو جاتا ہے کہ” مسلمان ایک سوراخ سے ایک بار ڈستا ہے بار بار نہیں” لیکن اسٹبلشمنٹ کے سوراخ سے سیاسی جماعتیں اور لیڈرز بار بار ڈستے ہیں، ہر بار ان کے بچھائے جال مین ہنستے ہنستے پھنس جاتے ہیں بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت میں ان کا بھائی میر مرتضی بھٹو کو ماردیا گیا، نواب اکبر بگٹی کو ٹھکانے لگادیا گیا تو یہ سیاسی جماعتیں اور لیڈر خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں ۔اب مسلم لیگ نواز کی حکومتوں کے ہوتے ہوئے ان کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں لیکن باقی لیڈر اور جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے ناز اور نخرے برداشت کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اسٹبلشمنٹ کی زلفوں کی اسیر ہوچکی ہیں۔

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں