پاکستان میں سودی کاکاروبار اور ہماری حکومت کی پراسرار خاموشی

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر خبر نشر اور شائع ہوئی ہے کہ ایک سود خور نے 40 ہزار روپے کی واپسی میں ناکامی پر سود لینے والے شخص کی 6 سالہ کمسن بچی کو مار ڈالا۔ تفصیل اس سانحہ کی یہ ہے کہ فیصل آباد کے علاقے الہی آباد کے وارث نامی ایک شخص نے اجمل عرف مٹھو نام کے سود خور سے مبلغ 40ہزار روپے سود پر قرض لیے تھے اور قرض کا بڑا حصہ واپس بھی کردیا گیا تھا لیکن کچھ حصہ قابل واپسی ابھی باقی تھا کہ سود خور نے بقیہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا مگر وعدہ پر رقم کا بندوبست نہ کیا جا سکا جس پر سود خور نے وارث کے گھر پہنچ کر فائرنگ کردی جس سے گھر کے صحن میں کھیلتی 6 سالہ معصوم بچی حمیرا جاں بحْق ہوگئی۔حسب معمول پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور سی پی او اطہر اسمعیل نے مفرور ملزم اجمل عرف مٹھو کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کردئیے ہیں۔
پولیس نے جو کچھ کیا ہے یا کچھ ابھی اس کے کرنے کے کام باقی ہیں وہ تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور آئندہ بھی پولیس کرتی رہے گی،سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ کیا سود خور نے اس کاروبار کے لیے باقاعدہ لائسنس حاصل کررکھا تھا یا بلا لائسنس سودی کاروبار کررہا تھا؟ کیا پولیس اس سود خور کے کاروبار سے باخبر تھی اور اگر باخبر تھی تو ماہانہ بھتہ وصول کرکے چشم پوشی کررہی تھی؟کیونکہ بھتہ وصول کرنا اور بھیانک سے بھیانک مکروہ دھندے سے پولیس اور دیگر محکموں کا چشم پوشی کرنا پرانا وطیرہ چلا آرہا ہے۔
پاکستانی آئین کے تحت سودی کاروبار یا لین دین پر پابندی ہے لیکن جیسے ہمارے ملک میں دوسرے ممنوعہ دھندے پولیس اور دیگر محکموں سے مل ملا کر جاری ہیں اسے ہی سودی کاروبار بھی اپنے عروج پر ہے۔
اس مکرہ دھندے کے متعلق اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد ہے کہ” جو سودی کاروبار کرتا ہے وہ اس ( اللہ) سے کھلم کھلا جنگ کرتا ہے۔” لیکن جو شخص ایک بار سودی لین دین کی گرفت میں اجاتا ہے پھر وہ بمشکل ہی اس کے چنگل سے نکل پاتا ہے۔ اور یہ لعنتی  کاروبار پاکستان کے ہر قصبے ،دیہات اور چھوٹے بڑے شہر میں اپنے عروج پر ہو رہا ہے اسے کسی قسم کی رکاوٹ اور دشواری کا سامنا نہیں۔ اس لین دین میں بڑے بڑے شرفاء اور دولت مند وں نے سرمایہ انویسٹ کررکھا ہے اور یہ سود پر قرض لینے والے مجبور و معذور عام شہریوں کو سخت سے سخت شرائط میں جکڑ کر قرض دیتے ہیں کہ قرض لینے والا” اف” بھی نہیں کرسکتا۔
بہت سے واقعات ہمارے گرد و پیش رونما ہوتے رہتے ہیں مگر ہم کچھ نہیں کرپاتے کیونکہ یہ کاروبار دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ہورہا ہوتا ہے۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ اللہ کی دی ہوئی توفیق سے اس کاروبار کے خلاف آواز اٹھاتا بھی ہے تو دونوں فریق مکر جاتے ہیں دینے والا کہتا ہے کہ اس نے کوئی قرض نہیں دیا اور لینے والا بھی انکاری ہوجاتا ہے کہ اس نے کسی قسم کا قرض سود پر لیا ہوا ہے اس صورت میں کوئی کیا کرسکتا ہے،اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کہ حکومت اور حکومتی محکمے اس گھناؤنے کاروبار کے لین دین سے بے خبر ہیں۔
اس کاروبار کے چنگل میں پھنسے کئی مجبور گھرانے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں اور کئی جوان سال بیٹیاں شادی نہ ہونے سے والدین کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی حدود کو چھو رہی ہیں، کیونکہ ان کے والدین سودی قرض اتارتے اتارتے قبروں میں جا پہنچے ہیں اور سود کے قرض کی رقم ابھی تک واجب الااد ہے جو گھر میں کوئی نہ کمانے والا ہونے کے باعث بڑھتا ہی جاتا ہے۔
سود خور یہ قرض دس فیصد ماہانہ پر فراہم کرتے ہیں یعنی ایک لاکھ روپے پر ماہانہ 10 ہزار سود دینا ہوتا ہے مذید تاخیر ہونے پر پانچ سو سے لیکر پندرہ سو روپے مذید یومیہ جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ فیصل آباد کے علاقے الیی آباد میں 6 سالہ بچی کی ہلاکت سے یاد آیا کہ بعض سود خوروں نے شوٹرز بھاری ماہانہ تنخواہ پر رکھے ہوئے ہیں جو قرض یا سودی رقم ادا نہ کرنے والوں پر فائر کھول دیتے ہیں۔
حیرانی اس بات پر ہے کہ حکومت اور حکومتی محکمے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اوراسکی حکومت میں غیرقانونی کاروبار کے ہاتھوں لوگ جان کی بازیا ہار رہے ہیں ۔ حکومت اپنے عوامی منتخب نمائندوں اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے رپورٹس منگوا کر اس غیرقانونی کاروبار اور دھندے میں ملوث سود خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے اور انہیں قانون کے کٹہڑے میں لاکر انہیں کیفرکردار تک پہنچانے کا سامان کرے تاکہ بے گناہ افراد کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا ئے۔
ایک اعلی پولیس افسر کے مطابو صوبائی دارالحکومت میں سود کا کاروبار کرنے والوں کی فہرستیں تیار کرنے کا کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور فہرستیں مرتب ہوتی ہی ان کے خلاف ایکشن شروع کردیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اعلی پولیس افسر کا کہنا درست ہے لیکن سود خوروں کی فہرستیں پہلے سے موجود ہیں اب ان کو اپ ڈیٹ کرنا باقی ہے دیکھتے ہیں کہ پنجاب پولیس اللہ اور اسکے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں سے کیسے نبٹتی ہے۔
یہ سب دھندے اس کے باوجود ہورہے ہیں کہ اللہ پرودگار اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سودی کاروبار کو اپنے خلاف جنگ قرار دیا ہے ۔ بڑی ڈھٹائی سے ہم برے کام بھی کرتے ہیں اور جنت کے بھی خواہاں ہیں۔ کسی خص نے فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ ” اے فرزند رسول مجھے کوئی کسوٹی بتا دیں جس سے مجھے اطمینان قلب ہوجائے کہ اسکی نماز قبول ہوگئی ہے تو فرزند رسول نے فرمایا اے بندہ خدا اگر تو تو نے وہ سب کام چھوڑ دئیے ہیں جن سے نماز روکتی ہے تو یقین رکھ تیری نماز قبول ہوگئی ہے” کس قدر پتے کی بات بتائی ہے حضرت امام جعفر صادق نے، لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ بشمول سرکاری اہلکار و افسر نمازیں بھی پابندی وقت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور رشوت بھی نہیں چھوڑتے۔ حاجی نمازی لوگ سودی کاروبار بھی کرتے ہیں اور معزز کہلوائے جانے کی دل میں تمنا بھی مجزن ہے۔
ہم لوگ روزے بھی رکھتے ہیں اور ساتھ فلمیں اور ڈارمے بھی دیکھتے ہیں تاکہ روزے کا وقت پاس کیا جائے۔، کانوں سے بیہودہ باتیں ،فحش گانے بھی سنتے ہیں اور زبان سے گندی گندی مغلوظات بھی بکتے ہیں اور روزہ دار بھی کہلواتے ہیں حالانکہ حکم ہے کہ روزے تم پر فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ(القران) یہ بھی حکم ہے کہ روزہ کی حالت میں تمہارے کان آنکھیں اور زبانیں بھی روزہ سے ہو۔کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ کیا سودی لین دین کرنے سے ہمارے حج اور ہماری نمازیں اللہ قبول فرمائے گا؟ اللہ تو اپنے نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا۔ حضور نبی کریم کا ارشاد مبارک ہے کہ ”جس نے ملاوت کی وہ ہم میں سے نہیں” کتنا واضح ارشاد رحمت اللہ العالمین ہے وہ تو ایک کھانے پینے کی اشیا ء میں ملاوٹ کرنے والوں کو اپنا تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور کہاں ہم اللہ و رسول سے جنگ کے مترادف کام سرانجام دیں۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ فیصل آباد کے علاقے الیی آباد کے وارث کو سود کے چنگل سے آزاد کروانے کے لیے میدان میں آئے اور اسکی کمسن بچی جو بے گناہ قتل کردی گئی ہے اسکے قاتل کو کیفرکردار تک پہنچائے اور ماضی کی مانند محض جذباتی بیان دیکر لمبی تان کر سو جائے۔ ماضی میں اور حال میں بہت سارے بیانات میڈیا پر موجود ہیں جن میں عوام کو تسلی دینے کے لیے کہا گیا کہ ”وہ اسوقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ظالموں کو عبرتناک انجام سے دوچار نہ کردیں گے۔

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں