پاکستان ٹوتنے کے ذمہ دار کون۔۔۔ بھٹو ،مجیب فوج یا ہمارا رویہ ؟؟؟

آج سولہ دسمبر ہے اس دن متحدہ پاکستان ( مشرقی اور مغربی پاکستان ) کے عوام نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے تعاون سے ہم ( مغربی پاکستان )سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا بلکہ الگ ہوگئے۔اس دن کو پاکستان کی تاریخ میں وہ حثیت و مقام حاصل ہے جو تقسیم ہند دن کے دن کو ہے۔فرق بس اتنا ہے کہ تقسیم ہند تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی اتفاق و رضا سے ہوئی جبکہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میں مغربی پاکستان کے عوام کی( حکمران طبقات اس میں شامل نہیں) مرضی و منشاء شامل نہیں۔
جب سے مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا ہے یا کیا گیا ہے، اس کے ذمہ داروں کے تعین سے متعلق بحث ہمارے میڈیا، اسٹبلشمنٹ اور استبلشمنٹ کے حامی سیاست دانوں کا محبوب مشغلہ ہے،اور سقوط مشرقی پاکستان کے نام پر اسٹبلشمنٹ نواز عناصر مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ان کا سارا زور بس تین کرداروں بھٹو ،مجیب اور اندرا گاندھی پر صرف ہوتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا حامی طبقہ بھٹو ،شیخ مجیب اور اندرا گاندھی کا اس کا ذمہ دار ٹھہرا تا ہے، ذوالفقا ر علی بھٹو نے اس مسلے کے حل کے لیے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات،اسباب اور عوامل کا کھوج لگانے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمودالرحمان کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا، جس میں چیف جسٹس حمودالرحمان کے علاوہ سنیئر جسٹس انوار الحق،سنیئر جسٹس طفیل الررحمان( چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ)دو ایڈیشنل ممبر بلوچستان ہائی کورٹ اورپاک فوج کی نمائندگی کے لیے سابق جنرل الطاف قادر شامل کیے گئے۔
کمیشن نے چھ ماہ میں ابتدائی رپورٹ اس وقت کے صدر ذوالفقا ر علی بھٹو کو جولائی 1972 میں پیش کی، اور ان چھ ماہ میں کمیشن نے 213 افراد سے پوچھ گچھ کی جن میں یحیی خان، ذوالفقا ر علی بھٹو، نورالاامین، فوج کے سربراہ جنرل عبدالحمید،فضایہ کے سربراہ ایئر مارشل عبدالررحیم، نیوی کے سربراہ مظفر حسین اور معروف صحافیوں سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
کمیشن نے تحقیقاتی کو جاری رکھا اور مذید 300 افراد سے رابطہ کرکے حالات و واقعات معلوم کیے اور 1974 میں اپنی رپورٹ حکومت وقت کو پیش کردی، جس پر اس وقت کے وزیر اعظم زوالفقار علی بھٹو نے ”ٹاپ سکرٹ” تحریر کرکے اسے پبلک( شائع)کرنے سے روک دیا، اس وقت سے آج تک یہ رپورٹ ایک راز ہے،البتہ بھارت سے اس کے کچھ حصے مختلف اوقات میں شائع ہوتے رہے ہیں، مگر کسی نے ان حصوں کے حقیقت پر مبنی ہونے کی تصدیق نہیں کی ،ویسے تو یہ بات بھی باعث شرم ہے کہ رپورٹ ہماری حکومتوں کے قبضے میں ہے لیکن شائع یہ بھارت سے ہو تی رہی ہے۔
ذوالفقا ر علی بھٹو کی ایک 14مارچ 1971 کو کراچی کے نشتر پارک میں کی گئی مشہور زمانہ تقریر جسکی بنیاد پر ان پر الزام لگتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ”ادھر تم ادھر ہم” جبکہ روزنامہ آزاد لاہور جس نے اپنی 15مارچ کی اشاعت میں ادھر تم ادھر ہم کی سرخی لگائی تھی،کے متن میں کہیں نہیں لکھا کہ ” ادھرتم ادھر ہم ” بلکہ بھٹو صاحب نے یہ کہا تھا کہ اگر کسی آئینی تصفیے کے بغیر اقتدار منتقل کرنا ہے تومشرقی پاکستان میں اقتدار عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کوسونپاجائے،اخبار آزاد آگے لکھتا ہے کہ مسٹر بھٹو نے ایک پاکستان کی پرزور وکالت کی اور کہا کہ اگر ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تو جمہوری اصولوں پر کیسے عملدرآمدہوسکے گا۔پاکستان میں ایسی صورتحال کے پیش نظر دونوں حصوں کی اکثریتی پارٹیوں کو کسی عمومی تصفیہ پر پہنچنا ضروری ہے ملک پر ایک اکثریتی پارٹی اسی صورت حکومت کرسکتی ہے کہ چھ نکات کو ترک کردیا جائے چونکہ ایسا نہیں ہورہا ہے اس لیے معقول اور منطقی طریقہ یہی ہے کہ دونوں حصوں کی اکثریتی پارٹیوں میں کوئی سمجھوتہ ہوجائے،ریڈیوپاکستان کے مطابق مسٹر بھٹو نے کہا کہ ہم متحدہ پاکستان اور غریب عوام کی بھلائی کے لیے ملک کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے خواہاں ہیں۔
اسی جلسے میں ذوالفقا ر علی بھٹو نے کلمہ طیبہ پڑھ کر اور اپنے بچوں کی قسم کھا کر عوامی لیگ کے اس الزام کی تردید کی کہ صدر جنرل یحیی خان نے 3 مارچ کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس تاریخ مقرر کرنے کے لیے ان سے کوئی مشورہ نہیں کیا، اس سے بھٹو کو سقوط دھاکہ کا ذمہ دار ٹھہرا نے والوں کو سمجھ آجانی چاہیے ،کراچی کے نشتر پارک کی یہ تقریر دس منٹ کم ایک گھنٹہ پر محیط تھی، اس تقریر کے حوالے سے کسی اور اخبار ہتکہ بھٹو مخالف نظریات کے حامل نوائے وقت اور سرکاری اخبارات روزنامہ امروز ،روزنامہ مشرق اور پاکستان ٹائمز نے بھی ایسی سرخی  نہیں لگائی تھی اور نہ ہی اگلے دنوں میں اس حوالے سے کوئی ادارتی نوٹ لکھ کر اپنے تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ۔
ادھرتم ادھر ہم والی سرخی کے خالق جناب عباس اطہر مرحوم نے بھی کئی مواقع پر اپنی اس غلطی کا اعتراف کیا،کہ انہوں نے تقریر کے  متن سے نہیں بلکہ اپنی سوچ کے مطابق سرخی نکلالی تھی، ادھر تم ادھر ہم سے یہ مطلب لے لیا جاسکتا تھا کہ بھٹونے مشرقی پاکستان میں مجیب کو اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو صوبائی حکومتیں بنانے کی بات کی ۔حالانکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ذوالفقا ر علی بھٹو نے اس تقریر کے اگلے روز روزنامہ ٓازاد کی سرخی کی تردید کردی تھی لیکن یہ زہر اس قدر عوام کے ذہنوں میں بھرا گیا کہ بھٹو آخری وقت تک اس کی وضاختیں دیتے رہے۔
جنرل ضیا الحق بہت محب وطن سمجھا جاتا ہے، اس نے ذوالفقا ر علی بھٹو کے خلاف ایک نواب کے قتل کا مقدمہ تو چلایا لیکن پورے پاکستان کے قتل کا مقدمہ بھٹو پر قائم نہ کر سکے، اس کے متعلق مختلف آرا بیان کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ وہ دلی طور پر بھٹو صاحب کو سقوط مشرقی پاکستان کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے، دوسرا یہ کہ انہیں اس بات کا پورا ادارک تھا کہ بھٹو پر سقوط مشرقی پاکستان کا مقدمہ چلانے سے پاک فوج کے کردار پر انگلیاں اٹھیں گی ،تیسرا یہ کہ حمودالررحمان کمیشن کی رپورٹ میں فوج کے جنرلوں کے کردار پر بہت کچھ موجود ہے، جنرلوں کے حوالے سے بہت سا مواد ہے، یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیا ء نے پورے پاکستان کے قتل کا مقدمہ ذوالفقا ر علی بھٹو پر قائم کرنے کی بجائے ایک نواب کے قتل کا مقدمہ چلانا ضروری خیال کیا۔ پورے پاکستان کے قتل کا مقدمہ بھٹو پر نہ چلانا، اور جنرل ضیا، جنرل مشرف کے ادوار میں حمود الررحمان کمیشن کی رپورٹ کو شائع نہ کرنا بھی ذوالفقا رعلی بھٹو کو سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کی فہرست سے نکال باہر کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان راتوں رات نہیں ہوا، بلکہ یہ برسوں کے اس سلوک کا نتیجہ تھا جو ہمارے حکمرانوں اور اسٹبلشمنٹ کی جانب سے مشرقی پاکستان کے عوام سے روا رکھا گیا،مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معماروں خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی اور محمد علی بوگرہ جیسے شریف النفس اور جمہوری حکمرانوں کے ساتھ ہم نے سوتلی ماں جیسا سلوک برتا، ان کی حکومتوں کو اس لیے گرانے کی سازشیں کی گئیں کہ ایوب خان کی قیادت میں فوجی حکمرانی کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچا جا سکے۔
بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم کی پیاری بہن جس کے ساتھ اور تعاون کے باعث پاکستان کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ممکن ہوسکا، میرا خیال ہے کہ اگر مادر ملت فاطمہ جناح کا ساتھ قائد اعظم کو میسر نہ ہوتا تو شائد تحریک پاکستان راستے میں ہی دم توڑ دیتی، قائد اعظم اور فاطمہ جناح کے احسانات کا جو بدلہ ہم نے دیا ،جس طرح ایوب خان نے 1964کے صدارتی انتخابات میں محسن پاکستان فاطمہ جناح کو شکست سے دوچار کیا، اس نے پاکستان اور جمہوریت سے وابستہ امیدوں پر پانی پھیر دیا اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایوب خان اور ان کے رفقائے کار نے فاطمہ جناح کو دھاندلی سے شکست دیکر بنگالیوں کی متحدہ پاکستان کی آخری امید کو شکست دی اور مشرقی پاکستان کے الگ ہونے پر مہر ثبت کردی گئی۔
مشرقی پاکستان کے عوام فاطمہ جناح سے والہانہ پیار محبت کرتے تھے، فاطمہ جناح نے بھی ایوب خان کے مقابل صدارتی انتخاب میں امیدوار بننا بنگالیوں کے اصرار اور تجویز پر قبول کیا تھا۔ فاطمہ جناح کی دھاندلی سے شکست نے مغربی پاکستان کی اشرافیہ کے خلاف نفرت کے بیجوں کو مذید خوراک فراہم کی،یہ بدگمانی روز بہ روز بڑھتی چلی گئی، مشرقی پاکستان کے عوام کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ وہ محکوم قوم ہیں اور مغربی پاکستانی حاکم،شائد یہ بات انہیں اس لیے سچ لگنے لگی کیونکہ متحدہ پاکستان کے آخری روز تک کسی بنگالی کو فوج کی سربراہی نہ دی گئی۔یہ ھقیقت پاکستانی تاریخ کا حصہ ہے۔
برسوں ایوان صدر میں خدمات انجام دینے والے بیوروکریٹ جناب قدرت اللہ شہاب اپنی سوانح عمری ”شہباب نامہ” میں لکھتے ہیں کہ صدر ایوب خان نے کئی بار کہا کہ مشرقی پاکستان سے جان چڑوالی جائے وہ لفظ بنگالی استعمال کیا کرتے تھے،اگر کسی کو اعتراج ہو تو وہ شہباب نامہ دیکھ کر تصدیق کرسکتے ہیں، پاکستان کے قیام کے لیے سب سے اہم کردار بنگالیوں نے ادا کیا، دوسرے نمبر پر سندھ کا ہے اور پنجاب تو آخر میں جاکر تحریک پاکستان کا حصہ بنا۔ مگر آج پنجاب پاکستان کا ”ماما” بنا ہوا ہے جس کو چاہے محب وطن اور جسے چاہے غدار وطن قرار دیدے،۔
ملکی تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی پنجاب کی نمائندہ استبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت ،جرآت دکھائی پنجاب(اسٹبلشمنٹ) نے اسے عبرت کا نشان بنانے کی کوشش کی، لیکن یہ الگ بات ہے کہ اسٹبلشمنٹ جسے عبرت کا نشان بنانا چاہتی تھی پاکستانی قوم نے اسے دلوں کا حکمران بنا کر اسٹبلشمنٹ کے منہ پر زور دار طماچہ مارا۔ شیخ مجیب اور ذوالفقا ر علی بھٹو اس کی واضح مثالیں ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے عوام شیخ مجیب کے ہمنوا نہیں تھے یہ لوگ زرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں کہ مجیب الرحمان کو ووٹ کس نے دئیے تھے اور آج بھی اس کی بیٹی حسینہ واجد عوام کے ووٹوں اور اعتماد کے بغیر بنگلی دیش کی حکمران ہے ؟
سقوط مشرقی پاکستان ایک دو سال کے کرتوتوں کا ثمر نہیں یہ سالہاسال بنگالی عوام سے ہونے والی زیادتیوں کا ردعمل تھا۔ جو بانی پاکستان اور قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے ان سے کی جاتی رہیں۔ بنگالی عوام ان زیادتیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے لیکن ان صداؤں کو جبر کے زور پر دبایا جاتا رہا،جیسے ایوب خان کی طرف سے مشرقی پاکستان کی اکثریتی آبادی کو مغربی پاکستان کے برابر کردیا گیا۔ مشرقی پاکستان کی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کی فتح کو دھونس دندھالی سے شکست میں تبدیل کرکے مشرقی پاکستان کی علیہحدگی پر مہر ثبت کی گئی۔فوج میں کسی بنگالی کو آرمی چیف کے عہدے پر نہ لگانا۔انہیں بونے اور کالے کہہ کر ان کی تضحیک کرنا۔
بھٹو اور مجیب کے خلاف تو باتیں کی جاتی رہتی ہیں لیکن اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج ہونے کے باوجود دشمن کی فوجوں کے آگے ہتھیار ڈالنے والے اور دیگر فوجی کرداروں پر مقدمات نہ چلانا زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم نے ٹائیگر جنرل اے اے کے نیازی( جنرل امیر عبداللہ خان نیازی) جو مشرقی کمانڈ کے سربراہ تھے کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی بجائے اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ۔سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داران پر مقدمات چلائے گئے ہوتے اور انہیں قرار واقعی سزائیں دی گئی ہوتیں تو بعد میں کسی طور مار خان جنرل کومارشل لاء لگانے کی جرآت و ہمت نہ ہوتی۔
شکست خوردہ قوم کو جینے کا نیا حوصلہ دینے ، دشمن کی قید سے نوے ہزار سول و فوجی قیدیوں کو واپس لانے، دشمن کے زیر قبضہ پاکستان کا 5 ہزار مربع میل کا علاقہ واگزار کرانے والے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے کو محض پاکستان توڑنے کے شبہ میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اگرذوالفقا رعلی بھٹو کا کوئی کردار ہوتا تو اسے ایک نواب کے قتل کے الزام میں سزائے موت دینے کی کیا ضرورت تھی؟ پاکستان کے قتل کا مقدمہ ذوالفقا ر علی بھٹو پر چلایا جاتا اور اسے اس جرم میں پھانسی پر لٹکایا جاتا تو آج اسکا کوئی نام لیوا نہ ہوتا۔ پاکستان کے قتل کا مقدمہ اس پر نہ چلاکر پاکستان توڑنے کے اصل ذمہ داروں کو بچایا گیا ہے۔
خدارا سیاست میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی پالیسی ترک کردیجیے۔ سیاستدانوں کو اپنا کام کرنے دیں اور اسٹبلشمنٹ اپنا کام کرنے پر توجہ دے۔ اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مگن ہوکر ہم مذید سانحات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرانے کا تجربہ نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔
قوموں کے ایک دوسرے کے ساتھ برتے جانے والے روئیے بڑے سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اپنی برتری ثابت کرنے کے جنون میں مثبت رویوں کو ہاتھ سے نا چھوڑے یہ تاریخ کا سبق ہے اور تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی۔

شیئرکریں
mm
انور عباس انور 1977 سے صحافت سے منسلک ہیں، مختلف اخبارات میں کام کرچکے ہیں ،اور ملک کے نامور لکھاریوں و بزرگان صحافت سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں