کراچی پریس کلب یر غمال

بدھ کی صبح آنکھ کھلی تو عادت کے مطابق موبائل فون چھاننے لگا اور محترم طلعت رشید صاحب کا واٹس ایپ کے ذریعے موصولہ پیغام دیکھا جس کے مطابق وہ کراچی پہنچ چکے تھے اور ہوٹل میں قیام پزیر تھے۔۔طلعت رشید گو کہ پاکستانی امریکن کمیونٹی میں تعارف کے محتاج نہیں لیکن یہاں تعارف کرانا ضروری سمجھتے ہوئے بتانا چاہوں گا کہ محترم امریکی ریاست ایلینوئے، شکاگو کے شہر بولنگ بروک کے کمشنر ہیں اور حال ہی میں پولیس ڈیپارٹمنٹ اور فائر بریگیڈ جیسے نہایت اھم ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کے حقدار بھی ٹھرے جو کہ پاکستان کے لیئے اعزاز ہے۔۔۔۔طلعت رشید ریپبلکن ہونے کے ناطے نہ صرف موجودہ امریکی صدر کے مشیر ہیں بلکہ شکاگو میں واقع مسلم میڈیکل کالج کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔۔ پاکستانی امریکی کمیونٹی کے لیئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔۔۔۔

پیغام موصول ہوتے ہی ہم نے تیاری کی اور ہوٹل جا پہنچے۔۔ طلعت صاحب کے ساتھ وفد میں شامل معروف کاروباری شخصیت اقبال بیگ سے بھی ملاقات ہوئی۔۔۔اس دوران متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی کے مابین اتحاد کی بازگشت پر تبصرہ ہوتا رہا۔۔۔۔ہم نے مہمانوں کو پاکستان کے تاریخی اہمیت کے حامل کراچی پریس کلب چلنے کی دعوت دے ڈالی جو قبول ہوئی۔۔۔۔ راستے میں مہمانوں کو کراچی پریس کلب کی اہمیت سے آگاہ کرتا رہا کہ کس طرح اسی پریس کلب نے ملک میں صحافت کو دوام بخشا اور جمہوریت کی بحالی میں کردار ادا کیا۔۔۔۔ مہمانوں کا تجسس بڑھتا گیا اور ہم فخریہ انداز میں کلب کی شان میں قصیدے پڑھتے جب کلب کے نزدیک پہنچے تو ارمانوں پر اوس پڑتی نظر آئی کیونکہ جمہوریت کے علمبرداروں نے کلب کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا حتی کہ پریس کلب کا بغلی گیٹ بھی ان کی دسترس میں تھا۔۔۔۔ چار و ناچار گاڑی زینب مارکیٹ کے نزدیک کھڑی کی اور مہمانوں کو ہجوم میں دھکیلتے ہوئے کلب کے صدر دروازے تک کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئے۔۔۔۔۔ اندر داخل ہونے کا مرحلہ جیسے تیسے طے کرتے اندر پہنچے تو دیکھا کلب کی دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔۔۔۔سامنے جوائنٹ سیکرٹری نعمت خان غیر ممبران کو داخلے سے روکنے کی ناکام کوشش کرتے اورغیر ممبران سیاسی کارکنان’ کلب کو یرغمال بنائے مسکراتے نظر آئے۔۔۔۔تل دھرنے کی جگہ نہ تھی پر ہم کہاں ہار ماننے والے تھے کسی نہ کسی طرح امریکی مہمانوں کو دھکیلتے ہوئے ہم کلب کی دوسری منزل پر جا پہنچے۔۔۔۔

گھٹے ہوئے دم کو بحال کرنے کے بعد ہم مہمانوں کو لیئے کھڑکی میں آکھڑے ہوئے تاکہ تارکین وطن شہر میں ہونے والی سیاست کا براہ راست مشاہدہ کر سکیں۔۔۔۔ ایک جانب دونوں جماعتوں کے لیڈران خطاب کر رہے تھے اور دوسری جانب ان کے تعلیم یافتہ کارکنان پریس کلب کی دیوار پھلانگتے نظر آئے ۔۔۔۔ صحافیانہ ذمہداریاں نبھاتے صحافی حضرات کی اوقات ہی کیا جب مہذب کارکنان کلب کی منتخب کابینہ اور سینئر صحافیوں کو ہی خاطر میں نہ لارہے ہوں۔۔۔۔ ہم بالکل نہ جھینپتے اور فیس بک لائیو کے آپشن کا استعمال کرتے ہوئے محترم طلعت رشید سے پاکستان اور امریکی سیاست کے تقابلی جائزے کا سوال داغ ڈالا۔۔۔۔

ان کے متوقع جواب کے بعد ہم نے عرض کی کہ حضوراب نیچے چلتے ہیں کیونکہ پریس کانفرنس کے بعد اب ہجوم چھٹنے لگا ہے اور کہیں آپ اس دھکم پیل کے لطف سے محروم نہ رہ جائیں۔۔۔۔ ظاھر ہے امریکہ میں ایسا لطف کہاں، تو مہمان بھی رضامند ہو گئے اور انہیں لیئے ہم جا پہنچے پریس کلب کے ٹیرس پر، ہمیں دیکھتے ہی سینئر صحافی بخاری صاحب نزدیک آئے اور اداس لہجے میں گویا ہوئے۔۔۔۔ صدام دیکھ رہے ہو کہ پریس کلب کے شیشے توڑ دیئے گئے ہیں پودے اکھاڑ دیئے گئے ہیں اور جب انہیں روکنے کی کوشش کی تو مجھے کہتے ہیں کہ فرعون نہ بنو۔۔۔۔

میرے سامنے وہ شخص کھڑا تھا جس کے دادا کراچی کے پہلے پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے جو اس شہر میں لوگوں کو ایمانداری کے ساتھ قانون کی پاسداری پر قائم رکھنے میں کردار ادا کرتے تھے۔۔۔۔ نعمت اللہ بخاری ہر صحافی کی طرح پریس کلب کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔۔۔۔ ان کا آخری جملہ میرے کانوں میں گونج سا گیا جب انہوں نے کہا کہ صدام ان کے لیڈران نے تو جاتے ہوئے معذرت کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔۔۔۔۔

مہمانوں کو ہوٹل چھوڑنے کے بعد میں سوچنے لگا کہ اگر ان سیاسی لیڈران کے گھر میں کوئی دیوار پھلانگ کر داخل ہوتا ، گھر والوں کو یر غمال بنانے کے بعد توڑ پھوڑ کرتا تو کیا یہ برداشت کر لیتے؟ شاید میرے سوال کا جواب معذرت کی صورت میں آ جائے جس کی مجھے توقع نہیں۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز