گر اس معاشرے میں رہنا ہے تو مائیں بچے نا جنیں

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس کی تمام تر خامیوں اور کمیوں سے اچھی طرح واقف ہیں، اور سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی ہم آنکھوں پہ پٹی باندھ کر بیٹھے ہیں،

ہم رات کو باہر کھلے عام گھوم نہیں سکتے ،ہاتھ میں اینڈرائڈ اٹھا کے نکلتے ڈر لگتا ہے کے چھن جائے گا، دو محالف جنس بالغ ایک ساتھ کھلی جگہ بیٹھ جائیں تو عجوبوں کی طرح گھورے جاتے ہیں، پولیس اپنا کھاتا کھولے آ جاتی ہے، عبادت گاہوں میں دھماکے ہوتے ہیں، دارڑھیوں والوں کو کیلن شیو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کلین شیو حضرات کو مولوی منبر پہ بیٹھ کر فتوہ دیتا ہے، کسی پہ بھی توہین مذہب کا الزام لگا کر سرعام گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے، گانوں اور ناچنے والوں کو آرٹسٹ نہیں بھانڈ سمجھا جاتا ہے، لوگ سرعام قتل کر دیے جاتے ہیں، نہ قاتل ملتا ہے نہ وجہ دریافت ہوتی ہے، ہماری اولادیں یہاں محفوظ نہیں، دن دھاڑے اغواء کر لی جاتی ہیں، اور پھر کچھ دن بعد ملتی ہے تو کسی کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے، سکول کالجز سے لے کر مدارس تک میں بچوں کے ساتھ سیکشول ابیوز ہوتا ہے، رشتے داروں کے ہاتھوں سے بچنا محال ہے، ہم کسی پہ اعتبار نہیں کر سکتے، اپنے علاوہ ہر دوسری نگاہ مشکوک لگتی ہے، مجموعی طور پر ہم انتہائی گر چکے ہیں، ہمارے شعور کا یہ عالم ہے کے ابھی تک غیرت کی جنگ میں پھنسا ہے، کبھی کسی بہن کو گولی مار دی جاتی ہے تو کبھی کسی ماں کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے، ہماری بیٹیاں ہمارے ہاتھوں سے ہی محفوظ نہیں، لوگ کیا کہیں گے یہی سوچ کھائے جاتی ہے، ناک کٹ جائے گی یہ کیوں کر دیا، یہاں پریشر کُکر والا ماحول ہے، معاشرے میں سانس لینا تک محال ہے، اس گھٹن زدہ ماحول میں جینا تو کیا موت بھی عذاب بنا دی گئی ہے،

اس سب کو جانتے بوجھتے ہم اپنی اولادیں دوسروں کے بھروسے پہ چھوڑ کر گھروں سے نکل پڑتے ہیں، صرف رشتے داروں کے بھروسے ہم اپنی اولادوں کا گلا چھری تلے رکھ کر ایمان پورا کرنے چل پڑتے ہیں، بس اپنی آخرت سنورنی چاہیے، اپنے گناہ دھلنے لازمی ہیں، چاہے تو اگلے قدم پہ زمین اپنے پیارے کے خون سے رنگی ہو، یہ رویہ ہی سمجھ نہیں آتا کہ ہم روز ایسی خبریں پڑھتے سنتے اور دیکھتے ہیں اس سب کے باوجود اپنے جگر کے ٹکڑوں کو لوگوں کو تھما کر یا ماتم بھگتا رہے ہوتے ہیں یا شادیاں یا عمرے، یہ رویہ ہی غلط ہے۔ کیا ان خبروں میں اگلی خبر ہمارے اپنے گھر کی ہونی لازمی ہے تب ہی ہم ہوش کے ناخن لیں گے؟ یا تو آپ ادلاد کو ساتھ رکھیں یا انکے بڑے ہونے کا انتظار کریں۔ ورنہ اگر کھلے ماحول میں جینا چاہتے ہیں تو اس ملک سے ہی چلیں جائیں، ورنہ آپکو اولاد کے بعد بلکل یہ حق نہیں کے اسے پیدا کریں اور بھیڑیوں کے سامنے ڈال کر اپنی مرضیاں کرتے پھریں۔ یہ آپ پہ فرض ہے کے آپ اس کی حفاظت کریں، پیدا جب آپ نے کیا ہے تو آپ پہ لازم ہے اسکی مکمل حفاظت بھی آپ ہی کریں۔
مگر یہاں تو روز ایسا ہی ہوتا ہے، کسی کی گلا کٹی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے تو کوئی گندے نالے، کسی معصوم بچے کے ساتھ زیادتی کر کے اسے چھت سے پھینک دیا جاتا ہے یا لٹکا دیا جاتا ہے، یہاں حال تو یہ ہے کہ انصاف کی کرسی پہ بیٹھے لوگوں کے اپنے گھروں میں کام کرنے والے بچوں پہ تشدد ہوتا ہے، روز رپورٹ ہونے والے ان حادثات کو دیکھ کر سر چکراتا ہے، جو کسی کھاتے کسی گنتی میں آتے ہی نہیں، میڈیا پر ٹرول نہیں ہوتے انکا کیا؟ ہم کہاں جی رہے ہیں؟ کون ہیں یہ لوگ ؟ کیوں کرتے ہیں ایسے؟ کیسے مانتا ہے انکا دل یہ سب کرنے کو؟ کیا انکے ہاتھ نہیں کانپتے؟ کیا انکو خوف نہیں آتا؟ اس سب کے بعد ایسے بہت سے سوالات ایک کے بعد ایک کر کے ذہن میں آتے ہیں، جانوروں میں بھی ایسا رویہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا، مگر یہ انسان، مجھے تو اس معاشرے میں ماں باپ کا اولاد پیدا کرنا ہی جرم لگتا ہے کیونکہ وہ جانتے بوجھتے اس معاشرے میں ایک جان کے لیے عذاب ڈال رہے ہیں، یہاں نا تو انصاف ہے نا ہی شعور بالغ ہونے کو تیار، ہمارے بچوں کا یہی قصور ہے کے وہ اس معاشرے میں جنم لے رہے ہیں، جو جانور کے رہنے کے لائق بھی نہیں رہا۔
یہاں بچے پیدا کرنا سنگین جرم ہے ۔ تب تک جب تک یہاں تربیت کا فقدان رہے گا تب تک ہماری مائیں انکار کر دیں کے وہ بچے نہیں جنیں گی، اور اگر جنیں گی تو ان کی تربیت میں کمی نا آنے دینگی،
ہم اپنے اور اپنی نسل کے خود ہی مجرم ہیں، ایسے تمام تر بیمار ذہن لوگ ہمارے معاشرے کے ہی ہیں ہمارے ہی گھروں سے نکلتے ہیں، ہمارے ہی کچھ لگتے ہیں، یہ سب ہماری تعلیم ہماری تربیت کا نتیجہ ہے،ہم بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہیں دیتے، جو باتیں انھیں گھر میں ماں باپ نے سمجھانی سیکھانی ہیں اس پہ بچے کو بچپن سے ہی شرم دلا کر چپ کرا دیا جاتا ہے، بچے کے اعتبار کی دھجیاں اسی وقت گھر والے ہی اڑا دیتے ہیں جب وہ بار بار آپکا پلو کھینچ کر وہ بات بتانا چاہ رہا ہوتا ہے جو اسے صرف آپکو ہی بتانی ہے، مگر اسے جھڑک کر ڈانٹ کر وہیں چپ کروا دیا جاتا ہے، اور نیتجہ کچھ سالوں کے بعد سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ہمیں دھڑا دھڑ بچے پیدا کرنے کی غرض ہوتی ہے کے آنے والا بچہ اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے، نا تو ہمیں اپنے وسائل سے واسطہ ہوتا ہے نا مسائل کو کچھ سمجھتے ہیں
اپنی اولادوں کی نگرانی نہیں کرتے کہ وہ دروازے سے باہر کس سے مل رہے کہاں جا رہے، اسکا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں میں ہے، ہمیں کسی چیز سے کوئی لین دین نہیں بس پیسہ کمانا ہے اور انکو بڑا کرنا ہے اسی میں لگے رہتے ہیں۔
یہاں کا یہ عالم ہے کے پریشر ککر والا ماحول ہوتا ہے، بچہ کس پریشانی میں ہے ہم اسکی بات سنے بنا اپنے تجربات کے فلسفے اور اپنی زندگی کے قصے اس پہ کھول دیتے ہیں، اپنے مسائل کا رونا روتے ہیں، اپنے فیصلے تھونپتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں کے فرض پورا ہوا، پھر ایک وقت آتا ہے ہم معاشرے کو کوستے ہیں اور لوگوں کو برا کہتے ہیں، یہ بیمار ذہن یہ درندے کہیں باہر سے تو نہیں آئے ہوئے، وہ بھی کسی کے بیٹے کسی کے بھائی یا باپ ہیں ۔ ایسے لوگ ہمارے خاندانوں میں ہی پائے جاتے ہیں، ہمارے ہی مامے چاچے کزنز ہوتے ہیں اور تو کوئی نہیں ہوتے۔
ہمارے بچے ہمارے ہی خاندانوں میں محفوظ نہیں کیونکہ ہمارے پچھلوں نے تربیت ہی نہیں کی ویسی جو ہونی چاہیے تھی، بس بڑا کر دیا، شعور نہیں دے سکے، عورت کو شہوت دلانے والی چیز سے زیادہ کا تصور ہی نہیں دیا گیا مرد کو، یہ تصور وہ پیٹ سے لے کر تو نہیں نکلا تھا، ظاہری سی بات ہے باہر آنے کے بعد اسے یہ تصور ملا، ہمارے خاندانوں سے، ہمارے ہی گھروں سے، اور عورت کو پیدا ہوتے ہی کسی اور کا مال سمجھا جاتا ہے، پرایا دھن اور پتا نہیں کیسے کیسے القابات سے نواز دیا۔
ہم وہ لوگ ہیں جنکے پاس نا تو اچھی تعلیم ہے نا ہی تربیت، تعلیم کے نام پر کتابیں تو رٹوا دی جاتی ہیں مگر ان میں انسان بنانے والا کوئی مواد موجود ہی نہیں ہوتا، تربیت جو کے گود سے شروع ہونی تھی جس نے تربیت کرنی تھی اسکا اپنا شعور ہی نابالغ ہو تو تربیت کیا ہو گی، ہماری مائیں اکثر یہی کہتی ہیں کہ باہر گلی میں بچوں کو کھیلنے نا دیا جائے کیونکہ محلے کے بچے گندے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، تو یہ محلے کے بچے ہیں کون؟ ہمارا اجتماعی شعور حد درجے کا نابالغ ہے، ہمارے معاشرے میں جن چیزوں پہ کھل کر بات ہونی چاہیے چھپائی جاتی ہیں۔ سوال کرنے والوں کے منہ پہ قفل لگا دیے جاتے ہیں،ایسے رویوں کو بجائے سامنے لا کر حل کرنے کے لین دین سے بس ختم کر دیا جاتا ہے، کیونکہ تب ان کی عزت پہ حرف آتا ہے۔
ایسے کچھ نہیں ہونے والا اگلی دوصدیوں تک جب تک ہم اپنی اگلی نسلوں کی تربیت نہیں کرتے، اور اس تربیت کے لیے ہم خود باشعور نہیں ہو جاتے، ہر بدلتے دن کے ساتھ خود نہیں بدلتے، اپنے اجداد کی بے سر پیر روایات کو ایک طرف رکھ کر کھلے دماغ سے مسائل اور ان کے حل پر بات نہیں کرتے، انکو ختم کرنے کی ذمہ داری ہم صرف حکومت یا قانون کے ہاتھ میں نہیں رکھ سکتے یہ ہمارے اپنے گھروں کی آگ ہے، ہمارے بڑوں نے وقت کے ساتھ بدلنا ترک کر دیا ہے، وہ پرانی روایات اور اپنی زندگی کے تجربات سے آگے کا نہیں سوچ سکتے ، تو ہمارے پاس وقت ہے، جسکے ہر بدلتے لمحے کی تبدیلی کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا ہے اور اپنی آنے والی نسل کو روایات کی بجائے تربیت دینی ہے، جو انکے خیالات بدلے، انکی سوچ کو مثبت طرف لے جائے، مخالف جنس کی عزت کرنا، اسے بھی اپنی طرح کا جیتا جاگتا انسان سمجھے، جب تک یہ سب نہیں ہو گا تب تک سب ایسے ہی چلے گا۔

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں