ہارون رشید صاحب کے ایک کمنٹ کے جواب میں

سر پہلے تو اپ کا بہت بہت شکریہ کہ اپ نے ہماری تحریر کو پڑھا اور کمنٹ کیا۔ سر ہم اپ کی ہی تحریریں پڑھ پڑھ کر یہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کہ اردو کو کیسے بہترین انداز میں لکھا جاۓ۔

سر ان پنجاب کے دھشتگردوں کی ابھی ابتدا ہے، چھوٹے چھوٹے ٹریلر تو اکثر چلتے رہیتے ہیں، جیسے قادری نے ایک معصوم بندے کو مار دیا، بہت سے کیسز ایسے بھی ہو چکے ہیں، جن میں چھوٹے الزام لگا کر انسانوں کو اجتماعی  طور پر ماردیا گیا۔

بقول فرنود عالم کے، آسیہ مسیح کا کیس نمٹ چکا ہے۔ ثبوت و شواہد نا کافی ہیں۔ اب معاملہ اسے بری کرنے کا ہے۔ سترہ ماہ بعد آسیہ کی شنوائی ہوئی۔ سپریم کورٹ پہنچی توبینچ سے ایک جج اٹھ گیا۔ کیونکہ جج صاحبان نتیجے پرپہنچ چکے ہیں۔مگرنتیجہ سنا نہیں سکتے کہ وہ انجام جانتے ہیں۔
جسٹس عارف اقبال بھٹی کو اسی صبح قتل کیا گیا تھا جس صبح وہ توہین اسلام کے الزام میں دھرے گئے ایک معصوم کا فیصلہ سنانے والے تھے۔ توہین رسالت کے الزام میں گرفتارہونے والے جنید حفیظ کا کیس راشد رحمان لڑر ہے تھے۔ جس دن مخالف وکیل کے دلائل پٹ گئے، اس کے اگلے روز چیمبر میں ہی انہیں قتل کردیا گیا۔

جنید حفیظ کے دوسرے وکیل لاہورسے تھے۔ وکیل نے درخواست کی کہ اس کیس میں ایک وکیل کی جان جاچکی ہے۔ یہ کیس ملتان سے لاہور منتقل کردیا جائے۔ جج نے جواب دیا “ملتان کے حالات کیس کے لیے سازگار ہیں”۔

ایسا کیوں؟ کیونکہ ایک گروہ اس کیس میں اپنا فیصلہ سنا چکا ہے۔ اب جنید حفیظ کے دلائل کتنے ہی مضبوط ہوں جج صاحبان طے شدہ فیصلے کے برعکس کوئی فیصلہ نہیں سناسکتے۔

گجرات میں ایک ڈاکٹر صاحب نے طالب علموں سے ایک بات کہی، جس کو ایک گروہ نے توہینِ رسالت سمجھا اور تھانے میں پرچہ کروانے گئے، مگر نہیں ہوا۔ اس گروہ نے سڑکیں بند کردیں، ڈاکٹر صاحب اب جیل میں ہیں۔ اب انصاف کیا ہے.۔؟ انصاف یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو پھانسی دی جائے، کیونکہ ایک گروہ یہ فیصلہ کر چکا ہے۔ اگر عدالت نے ڈاکٹر صاحب کو بے قصور مان لیا تو خون ریز نتائج کی ذمہ دار خود عدالت ہوگی۔ کہا جائے گا “جب عدالتیں انصاف نہیں کریں گیں توپھر ظاہر ہے لوگ خود فیصلہ کریں گے”۔
جنید جمشید سے تو اپ واقف ہوں گے، ان کی کس طرح harrasment کی گی

سر ان سب فقہ کے ماروں کا اپنا اپنا فہم ہے مزہب کے بارے میں۔ طالبان مزاروں پر جانا شرک سمجھتے ہیں تو بموں سے اُڑا دیتے ہیں۔ ان پنجاب کے دھشت گردوں نے ابھی کچھ دن پہلے چند تبلیغیوں کو مار دیا کیونکہ ان کے مطابق اُن تبلیغیوں نے رسول پاک کو نور نہ مان کر توہین رسالت کی تھی۔ طالبان کے نزدیک یہ لوگ خدا کے ساتھ شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اب کس کا فہم مزہب کے بارے میں ٹھیک ہے؟ یہ بتانے کا مطلب ہے کہ اپنے اوپر کافر کا ٹھپہ لگ جاۓ۔

سر بس ایک سوال جو یہ مؤلف بہت عاجزی سے پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا پاکستان کے باسی چاہیے، مسلمان ہوں، یا کرسچن، یا سکھ، یا کسی اور مزہب کے ماننے والے ہوں، کیا وہ واقعی میں کسی کی مقدس ھستیوں کی توہین کر سکتے ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ نہیں، ایسا ہرگز کوئ نہیں کر سکتا۔ صرف ہر ایک فرقہ کا اپنا اپنا فہم ہے جس سے وہ سمجھتا ہے کہ توہین ہو گئ۔ اگر ہم غیر مسلم شعراء کی شاعری پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان سب کو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ محبت اور ان کی رحمت والی صفت کا پتہ ہے، مگر افسوس نہیں پتہ ہے تو ہمارے شریعت کے متوالوں کو، جن کی زبانوں پر گالی ہے، اور ہاتھوں میں پتھر، معصوم لوگوں کا سر کچلنے کے لیے۔

جگن ناتھ آزاد
سلام اس پر جو آیا رحمت للعالمین بن کر
پیام دوست لے کر صادق و وعدو امیں بن کر
سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بے کسوں کا آسرا مشفق غریبوں کر

پنڈت گیا پرساد خودی
زندگی میں زندگی کا حق ادا ہو جائے گا
تو اگر اے دل غلام مصطفٰے ہو جائے گا
رحمت للعالمیں سے مانگ کر دیکھو تو بھیک
ساری دنیا سارے عالم کا بھلا ہو جائے گا
ہے یہی مفہوم تعلیمات قرآن و حدیث
جو محمد کا ہوا اس کا خدا ہو جاۓ گا۔

راجندر بہادر موج
حضرت کی صداقت کی عالم نے گواہی دی
پیغام الہٰی ہے پیغام محمد کا
اوہام کی ظلمت میں اک شمع ہدایت ہے
بھٹکی ہوئی دنیا کو پیغام محمد کا

پنڈت ہری چند اختر
نام پاک احمد مرسل سے ہم کو پیار ہے
اس لئے لکھتے ہیں اختر نعت میں اشعار ہے

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپور
انوار ہیں بے شمار معدود نہیں رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام وہ امت اسلام میں محدود نہیں

ان ہندو شعراء کے خیالات سن کر اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، آج اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے کہ کس طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں نے دھشت کا بازار گرم کیا۔ اسلام کو تو امن اور سلامتی کے عالمی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسلام تو ہر انسان کو زندہ رہینے کا حق دیتا ہے۔ اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے۔ دنیا کو ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پیار اور محبت کا درس دیا ہے۔ معافی اور رحمت تو ہمیشہ سے ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصّہ رہا ہے۔ ان کو تو غیر مسلموں نے بھی رحمت للعالمین کا لقب دیا۔ مگر یہ تو انسانی وحشت، بربریت کی ایک ایسی مثال تھی کہ ان کے مظالم دیکھ کر یزید، ہٹلر اور جنگیز خان بھی شرما گۓ۔ رسول کے نام پر جب بھی ان کو موقع ملا، انہوں نے دھشتگردی کی، معصوم لوگوں کو قتل کیا۔ یہ اسلام نہیں ہے، ۔ دھشتگردی ہے، جسے کبھی طالبان کا نام دیا گیا، کبھی ائزیس، اور کبھی القایدہ اور اج کل لبیک کا نام، ان دھشتگردوں نے کچھ مزہب، کچھ فقہ، کچھ ناقص روایات اور زیادہ تر اندھی عقیدت کا لبادہ اوڑھا کر دُنیا کے آگے اسلام کے نام سے مزہب کو پیش کیا ہے۔

سر ہماری وال پر کچھ دن پہلے دو ویڈیوز شیر کی ہیں۔ ایک ڈسکو دھشتگرد (دھرنے کے شرکا۶ ) کے نام سے ہے۔ جبکہ دوسری انڈیا کی ویڈیو ہے جس میں ہندو عقیدت کے ہاتھوں گایوں کے ایک ریوڑ کے نچے کچلے جا رہے ہیں۔ دونوں ویڈیوز ایک ہی بات اشکار کرتی ہیں کہ انسان اپنے حوش و حواس کھو دیتے ہیں جب بات اندھی عقیدت کی اتی ہے۔

سر ہم پختون خواہ کے باسیوں نے دھشتگردی کی انتہا ریکھی ہے۔ ہم ان دھشتگردوں کی نس نس سے واقف ہیں۔ ہم نے ان دھشتگردوں کو بنتے دیکھا ہے۔ ہم نے ایک دن میں چھ چھ دھماکے دیکھے ہیں۔ پشاور کی ماں ابھی بھی ڈرتی ہیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہوے۔ ہم اس خوف کے تحت جیے ہیں کہ نا نجانے اگلا لمہ ہمیں نصیب بھی ہوتا ہے کہ نہیں؟ سر اگر اپ پنجاب کے لوگوں نے اپنے ان دھشتگردوں کو قابو نہ کیا گیا تو سر، اپ کی پنجاب کی مایں بھی اسی خوف کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جایں گی کہ
کہیں اگلے لمہ کوئ ان کا دشمن ان کے بچوں پر توین رسالت کی تحمت لگا کر مار نا دے؟

سر کیا اپ پنجاب کے لوگ اس خوف کے تحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟

سر اسی لیے ہم پختون خواہ کے باسی، اپ پنجاب کے لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ ان دھشتگردوں کو سر اُٹھانے سے پہلے کچل دیں، ورنہ یہ طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، کچھ پتہ نہیں کل یہ کسی کے بچے کو توہین رسالت کا الزام لگا کر مثال کی طرح بے دردی سے مار نہ دیں۔ یہ نہ صرف انتہاہی درجے کے جاہل ہیں، بلکہ خطرناک دھشتگرد بھی ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں