اقدار کی پاسداری

دنیا سے معاشرتی و مذہبی اقدار کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے. اس کی بنیادی وجہ بنی نوع انسان کا مادہ پرستی کی جانب بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ اقدار کی پاسداری اور رواداری کے متحمل افراد چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، کسی بھی نسل سے ہو، کسی بھی زبان سے یا کسی بھی خطے سے ہو “اولڈ ایج ہاؤس” یا اس سے مماثلت رکھنے والی جگہوں پر ہی ملیں گے یا پھر اپنی اپنی عبادت گاہوں میں۔ اس کی وجہ یہ بھی نہیں کہ لوگ مذاہب کو فراموش کر رہے ہیں، مگر اس کی وجہ یہ ضرور ہے کہ لوگوں نے مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کردیا ہے اور آپس کی قرابت داریاں پیشہ ورانہ معاملات کی طرح نبھائی جا رہی ہیں۔

اس وقت امریکی انتخابات اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا جہان کے اخبارات کی زینت اور رونق بنے ہوئے ہیں۔ صدر صاحب گلیمر اور کاروباری آدمی ہیں، انہیں اچھا دکھنا اور بیچنے کا ہنر بہت خوب آتا ہے۔ یہ ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی شہرت کی حامل ہلیری کلنٹن جنہیں امریکہ کی خاتونِ اول رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، ان کو شکست کھاتے ہوئے سب نے دیکھا، یہ ایسی شکست تھی کہ مسز کلنٹن کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں جو کوئی معمولی بات نہیں۔

ٹرمپ نے صدر بننے کیلئے تمام سیاسی اقدار کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا، اخلاقیات کو بھی خاطر میں نہیں لائے اور بلا آخر ان اہم ترین جذیات کی عدم موجودگی کے باوجود امریکیوں نے ان کے ہاتھوں میں اپنا مستقبل سونپ دیا۔ شاید یا جان بوجھ کر ان امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنوایا ہے اور وہ واقعی “سب سے پہلے امریکہ” کے مقولے کو پسند کرتے ہیں۔ مجھے کوئی خاص خوشی تو نہیں کہ امریکہ کا سیاسی مزاج بھی تقریباً جنوبی ایشیاء سے ملتا جلتا دکھائی دینے لگا ہے۔ خصوصی طور پر تازہ انتخابی عمل سے۔

یہاں ہم پاکستانی اپنی واہ واہ کیلئے کسی کی بے عزتی کرنے سے نہیں چوکتے، چاہے مزاح ہو یا پھر کسی سے دشمنی، بس اپنے آپ کو “اسپاٹ لائٹ” میں رکھنے کیلئے کچھ بھی کہتے اور کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سب عوامی مزاج کے مرہونِ منت چلتا ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی کسی کا مذاق بنا رہا ہے تو ہمیں مذاق بنانے والے کو سمجھانا چاہئے کہ اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ہم بھی وہاں کھڑے ہو کر یا پھر بیٹھ کر اس مذاق سے لطف اندوز ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مذاق اڑانے یا بنانے والے کو خوب دادو تحسین سے نوازتے ہیں۔

ہمارے ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اور وہاں ہونے والے جلسے اور جلوسوں میں شرکت کر کے آپ اپنے کانوں سے سن سکتے ہیں کہ سوائے ایک دوسرے کی حتک کرنے کے ان میں کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ہے اس نے یہ کردیا اسکا باپ ایسا تھا یہ وہ، دنیا جہان کی مغلظات سننے کو ملتی ہیں اور ہم پاکستانی وہاں کھڑے ہو کر خوب تالیاں، تاشے اور باجے بجاتے ہیں۔ تہذیبیں دم توڑتی جارہی ہیں۔

اقدار کا جنازہ نکالتے ہوئے ہم بھول کیوں جاتے ہیں کہ ہم بھی اسی کی طرح ہیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔ آپ نے اپنے جلسے کو چار چاند لگانے ہیں اور اسنے اپنے جلسے کو چار چاند لگانے ہیں۔ حقیقت کیا ہے کوئی جانتا ہی نہیں۔ تماش بین بن کر جئے جا رہے ہیں۔ اس کام کو سرانجام دینے کیلئے ہم معاشرتی اور سیاسی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، ہم ضابطے کی ہر ڈور کو توڑتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ہمارے ملک کے معزز اراکینِ اسمبلی نے ملک کی عزت کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دی جب قانون ساز اسمبلی کو اکھاڑے کی شکل دے دی گئی۔ دوسری طرف اپنی ساتھی ممبر اسمبلی کا تماشہ بنا دیا۔ کیا ہماری اقدار یہی ہیں؟ یا ہم خبروں میں رہنے کیلئے یہ سب کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر کل گھر کے معاملات بھی اور جھگڑے بھی میڈیا ہاؤسسز کی زینت بننے لگیں گے۔  سیاست میں خاندانوں کو نہیں لانا چاہئے خصوصی طور پر ان کے خاندانوں کو جن کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں بربادی کی جانب گامزن ہوتی چلی جائیں گی اور انہیں اپنی بربادی کا پتہ بھی نہیں چل سکے گا۔ مگر ہم لوگ شرمندہ اور ندامت ذدہ اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کیلئے چلےجائیں گے۔

شیئرکریں
mm
خالد زاہد نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے، شعر و شاعری کا شغف رکھتے ہیں اور آرٹیکل / بلاگز تحریر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں