ارے کم بختو! تم مر کیوں نہیں جاتیں؟

سنو اے لڑکیو! تم اس پاک معاشرے میں جنمی ہو جس میں پیدا ہوتے ہی تقدیس کی چادر میں لپیٹ لی جاتی ہو, کانوں میں آذان دے کر یہ خوشخبری سنائی جاتی ہے اور مبادکباد دی جاتی ہے کے تم ایک ایسے گھر میں اتاری گئی پاک روح ہو, جسکے اجداد جنت کے ٹھیکدار تھے اور جس کی جنمنے والی نسلیں یہی خوشخبری لے کے جنمیں گی کے ان کے علاوہ باقی کسی کا جنت پہ کوئی حق نہیں, اور اگر غلطی سے کوئی حق جمانے لگے تو اس کا گلا کاٹ کر اسے قبل از وقت جہنم پہچانا اسکا فرضِ اول ہے, تمھیں تو خوش ہونا چاہیے کے تم پیدائشی جنتی ہو, تم پر تو خاص کرم کیا ہے پیدا کرنے والوں نے پھر یہ رونا دھونا کا بات کا؟ ارے باپ کی جائیداد میں کبھی کسی اور مذہب میں حصہ دیا گیا عورت کو؟ نہیں نا؟ بھائیوں کے برابری کے حقوق ملے کے نہیں؟ تعلیم کا بھی تو حق دیا گیا ہے,پھر مرضیوں کی شادیوں کی کھلی چھٹی بھی تو تم ہی لڑکیوں کو ملی, پھر ہر بات پہ احتجاج کرنے کو کیوں اٹھ کھڑی ہوتی ہو, بڑی ہی کم ظرف ہو تم- تم تو ایسے معاشرے میں جنمی ہو جہاں پر تمھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے, غیرت کے نام نہاد چولے میں ڈھانپی ہوئی, کسی کی بہن ہو تم تو کسی کی بیٹی, کسی کی ماں ہو تو کسی کی بیوی, ہر روپ میں ہی بڑی عظمت ہے تمھاری, ارے تم لوگوں کے کندھوں پہ تو کمانے کا بھار بھی نہیں, گھر پڑی موج کرتی ہو, کمانا چاہو تو بھی کون روک سکتا ہے, اس پہ بھی تمھارا مذہب ہی چھوٹ دیتا ہے, تم تو حیا کا پیکر بنا کے اتاری گئی اپاپ ہستیاں ہو, پھر جب سرے بازار یوں چادریں چاک کیے پھرو گی, نوکری کے نام پہ دھندے کرو گی, برائے نام اور نیم برہنہ لباس پہنوں گی, اور آذادی کے نعرے لگاو گی تو تمھارے بھائی باپ یا شوہر کو غیرت نا آئے گی؟ اب اگر اس غیرت کے نیک جذبے میں تمھارا خون کر کے اپنی عزت اور معاشرے سے بے حیائی مٹا ہی دے تو کیا کہرام مچا دو گی, تب سوچا ہوتا جب آزادی چاہی تھی- تم اس جگہ پیدا ہوئی ہو جہاں تمھیں دیوی بنا کے پوجا جا سکتا ہے تمھیں سر پہ تو بیٹھایا جا سکتا ہے, مگر تمھیں ایک فرد تسلیم کرنے کی غلطی قطعاً نہیں کی جا سکتی, اس سے تقدیس کی روح مجروح ہو جائیگی, بہت سے غیرت مندوں کو زہر گلے سے اتارنا پڑے گا, عزت کے رکھوالوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا پڑے گا, مذہب کے ٹھیکداروں کو خودکشی کرنی پڑے گی, کیسے ممکن ہے کے تم ہر جگہ دندانتی پھرو, مرضی کی نوکریاں کرو,مرضی کی تعلیم حاصل کرو, مرضی کا لباس پہنو, جیسے چاہو جیو, بھلا بھیڑ بکریاں بھی کیا فرد ہوا کرتی ہیں؟ تم تو حوا کی وہ بیٹیاں ہو جنکو چنی سے سر ڈھکنے کا ڈھنگ تلک نہیں ہوتا کے کسی عزت دار بھائی کی عزت رکھنے کو ونی کر دی جاتی ہو, شادی کے نام پہ مقدس کتاب سے باندھ دی جاتی ہو, وٹے سٹے کے نام پہ قربان کر دی جاتی ہو, شوہر مجازی خدا ہوا کرتا ہے جان بھی لے لے کیا فرق پڑتا ہے, گُھٹ کر جی لینا ہی مقدر ہے تمھارا, افف تلک کرنا گناہ- تم تو وہاں اتاری گئی ہو جہاں کی تاریخ ہی خون سے لکھی گئی ہے, اور اس وقت تک لکھی جاتی رہے گی جب تک خون کا رنگ سفید نہیں ہو جائے, یا تمھاری ہستیاں مٹ نہیں جاتیں, کیا ہوا اگر کسی نے تمھاری خوبصورتی پہ تیزاب ڈال دیا , تو کس نے کہا منہ کھلا رکھ کے حسن چھلکاتی پھرو, کسی نے راہ چلتے جملہ کس دیا تو قصور تمھارا ہی ہو گا, ہاتھ لگا لینا تو عام سی بات ہے وویلا کس بات کا ہے, جنسی زیادتی کا شکار ہونے میں بھی تمھارا اپنا ہی ہاتھ ہے, اوروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ادائیں, تمھارا لباس, ارے یہ مغرب تو نہیں ہے, جہاں عورت کو ایک فرد سمجھا جاتا ہے, جسکو دیکھ کر مرد کے سوئے ارمان اور مرے جذبات نہیں جاگتے, نا اسکی غیرت کو آنچ آتی ہے نا عزت برباد ہوتی ہے, یہاں تو برقعے میں عورت سکین کر لی جاتی ہے, اسکے چلنے کے انداز سے اسکے کردار کے اندازے لگائے جاتے ہیں,اسکی آزادی کو معاشرے میں فحاشی اور ایمانیت کو غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے- تم اس خدا کے نام کی نظر ہوتی ہو جسے تمھاری قربانی سے کوئی خوشی نہیں ملتی, تمھارا خون نا حق بہا کر جس مذہب کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ ان نام نہاد مذہبی دکانداروں کی دکان چمکاتا ہے, ان کی تجوریاں بھرتا ہے, خدا خون کا کاروبار نہیں کرتا, تم ابھی ان روایات میں الجھی ہو جہاں مرد تمھارے سامنے ہو تو ادب سے سر جھکائے زمیں پہ بیٹھو گی, جب تک وہ نا اٹھے تم نا اٹھو گی, ابھی بھی شادی کے ایک سال تک سب کے سامنے شوہر سے پردہ کرو گی, نہیں کرو گی تو بے شرم کہلاو گی, چاہے تمھاری گود میں اس حیا کا جیتا جاگتا ثبوت سانس ہی کیوں نا لے رہا ہو, نکاح میں سب کی عزت رکھنے کو ہاں کر کے ساری عمر اپنا من مار کر کے گزارا کرو گی, تم تو سراپا صبر ہو پھر اتنے سب پہ کیا فرق, بھیڑ بکریوں کی طرح زبانیں بند کر کے جیو- ہر سال اعداد و شمار میں ہزار سے بارہ سو جانیں غیرت کے نام پہ قربان کر دی جاتی ہیں, اور یہ ہزار بارہ سو بھی وہ جو آبادی کے زمرے اور اداروں کی گنتی میں شمار ہیں, یہاں کا تو یہ عالم ہے نا پیدائش کے انداج کا حساب ہوتا ہے نا مار دینے کے بعد ہڈیاں ہی ہاتھ آتی ہیں, اور ان علاقوں کا کیا جو پاکستان کے نقشے میں تو شامل ہیں مگر گنتی سے ہمیشہ خارج ہی رہے, قانون پہ قانون بنائے جا رہے ہیں, حقوق نسواں کے نئے سے نئے بل پاس ہوئے جاتے ہیں مگر حال وہی ہے , آج اس نام نہاد غیرت کی غلیظ آندھی نے ایک اور دیا بجا ڈالا, بجنے والا بھی ہمارا, بجانے والے ہاتھ بھی ہمارے اپنوں کے, کونسی جان جانتی ہے کے اس کے اٹھائے اگلے قدم پہ غیرت کا نام لے کر اسی کا اپنا بھائی گلا کاٹ ڈالے گا, اسی کا باپ اسکی قبر کھود دے گا, اسی کے اپنے خون کے رشتے خدا بنے بیٹھے ہونگے, آخر قصور ہی کیا تھا حنا کا, اور حنا جیسی کتنی ہی معصوم زندگیوں کا, جو اپنا حق استعمال کرنا چاہتی ہیں- میں بات کرتی ہوں زندہ جیتے جاگتے انسانوں کی, سانس لیتے ہر موجود نفس کی, جو میرے سامنے تڑپتا, فریاد کرتا, بھوک سے بلکتا, زبان سے اپنے دکھ سناتا, زخم دیکھاتا ہے, میں تمھاری تخلیق کردہ ہر اس شے سے انکاری ہوں جو معصوموں کے خون بہا پہ خوش ہوتی ہے, جس نے تم جیسے انا پرستوں, خونخوار بھیڑیوں, غیرت کے الم برداروں اور نام نہاد عزت پرستوں کو اپنا ٹھیکا دے رکھا ہے, جو جب چاہیں خدائی فوجدار بن کر فتوے داغیں, جو مسلمانیت کی غیرت کو منبروں پر کھڑے ہو کر للکاریں , عورت کی آزادی کو فحاشی کا رنگ دینے والو! اپنے گریبان بھی جھانک لو, شاید اسی غیرت سے ڈوب مرنے کا من چاہے, جس دن یہ غیرت عورت میں جاگی تم جیسے تمام غیرت مند اس دن خودکشی کرنا بہتر جانو گے-

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں