گداگری……غربت کی مجبوری یا پیشہ؟؟

سائل سوال کرنے والے کو کہتے ہیں، یعنی مانگنے والا فقیر، جسے ہم بھکاری اور گداگر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کے نام پے… یہ جملہ ازبر ہو چکا ہے۔ کیوں کہ بغیر کوئی دن قضا کیے بھکاریوں سے واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے، گھر پہ ہوں یا بازار میں، گاڑی میں ہوں یا پیدل،یہ آواز ضرور پیچھا کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گداگری میں سالانہ 5 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر گلی، محلے، چوک، چوراہے، سگنل، پر یہ مخلوق وافر مقدار میں پائی جاتی ہے، اور انکی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ (خرگوش کے بچوں کی طرح)
اچھے بھلے، ہٹے کٹے لوگ ہاتھ پھیلانے کو ذرا بھی عار نہیں سمجھتے حالانکہ ہاتھ پھیلانا انتہائی قبیح عمل ہے۔

ترمذی شریف کی روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہو گی، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے“۔

لیکن آج کل تو مانگنا پیشہ بن چکا ہے۔ ایک مقولہ ہےکہ “فقیر را بہ مجادلہ چہ کار” یعنی فقیر جھگڑے اور بحث میں نہیں پڑتا، مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہ گداگر جب تک کچھ لے نہ لیں جان نہیں چھوڑتے، اور یہ تھوڑے پہ خوش بھی نہیں ہوتے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ غریب نہیں بلکہ پیشہ ور ہیں کیونکہ “فقیر اپنی کملی میں مست ہے” یعنی تھوڑے میں ہی خوش ہے جبکہ انکی کوشش ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہاتھ لگے۔ جیسے کسی دکان میں جائیں تو دکاندار کی کوشش ہوتی ہے یہ گاہک کچھ نہ کچھ تو خرید کے ہی جائے۔ ایک ورائٹی نہیں پسند تو دوسری سہی ، دوسری نہیں، تو بھی کوئی بات نہیں ،منٹوں میں بیسیوں کمپنیوں کی چیزیں ڈھیر لگ جائیں گی کہ گاہک کو کچھ خریدتے ہی بنے گی۔
ایسے ہی بھکاریوں کے پاس بھی بہت سی آفرز ہوتی ہیں، اللہ کے نام پہ پانچ روپے کے سوال سے ابتدا کرینگے اور پھر…. اچھا صاحب دس کا نوٹ دے دو ناں… دس روپے نہیں تو تھوڑا سا آٹا چاول ہی دے دو۔ یہ نہیں تو صاب! کوئی سوٹ ہوگا ناں وہ دےدو، یہ دیکھو صاب! میرا سوٹ پرانا ہوگیا ہے۔ یہ بھی نہیں تو بھی جان بخشی ممکن نہیں بلکہ صاب بوٹ چپل تو ہوگا ناں….؟ وہ ہی دے دو صاب دعا دونگا۔ اور ساتھ ہی دعاؤں بھلاؤں کی بارش، کہ اس صاحب کو دیتے ہیں بنتی ہے۔

سنا تھا “فقیر کی کملی ہی دوشالہ ہے” مگر یہاں تو انہیں جو کچھ میسر آئے اسکے علاوہ بھی بہت کچھ مانگتے ہیں کیونکہ اصلی فقیر نہیں بلکہ پیشہ ور ہیں۔ گداگری ایک پیشہ ہے یا غربت یہ سوال باقی ہے۔
کچھ بھکاریوں کے بارے میں تو یہاں تک سنا کہ انکی گاڑیاں چلتی ہیں مگر مانگنا پھر بھی نہیں چھوڑتے۔ منافع بخش کاروبار بچت ہی بچت ہے . بھلا کون چھوڑ سکتا ہے؟

ابھی کل ہی ایک قصہ سنا کہ ایک بھکاری تھا وہ صبح سے شام نان سٹاپ مانگتا۔ کوئی چوک کوئی چوراہا ایسا نہیں تھا جہاں کا ذائقہ اس نے نہ چکھا ہو، یوں مانگتے مانگتے اس نے اپنے بیٹے کو پڑھایا اور بیٹا پڑھتے پڑھتے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ اسکی نوکری لگ گئی اور کسی بڑے عہدے پہ براجمان ہوگیا اور سفید کالر والوں میں اسکا شمار ہونے لگا۔ ایک دن اپنے باپ سے کہا : ابا آپ آخر یہ عادت کب چھوڑو گے؟ دیکھو میں ایک آفیسر ہوں اور میری معاشرے میں اتنی آؤ بھگت ہے ۔ جہاں سے گزرتا ہوں لوگ سلام ٹھوکتے ہیں۔ اب تم بس کر لو، مانگنا چھوڑ دو آرام سے گھر پے بیٹھو۔ مگر اسکا باپ نا مانا۔
آخر ایک دن باپ نے اپنے اس آفیسر بیٹے سے کہا چلو ٹھیک ہے، میں مانگنا چھوڑ دیتا ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔
بیٹے نے کہا ہر شرط منظور ہے آپ مانگنا چھوڑ دو بس… کیونکہ میں اتنا کما رہا ہوں آپکا ہی تو ہے سب۔
باپ نے شرط بتائی کہ تم تین دن تک میرے ساتھ بھیک مانگو اسکے بعد دیکھتے ہیں ۔ سو بیٹا مان گیا اور حلیہ تبدیل کر کے مانگنا شروع کر دیا۔ تین دن تک خوب مانگا، چوتھے دن باپ نے کہا لا بیٹا کیا کمایا تین دن؟ جب ساری رقم جمع کی تو دن کے آٹھ، دس ہزار​ روپے بنے ۔
اب باپ نے کہا تیرا کام زیادہ کمائی والا ہے یا میرا؟ تُو بتا اب میں چھوڑوں یا تُو چھوڑ رہا ہے؟ پیسہ بولتا ہے، سو بیٹے نے کہا: ناں بابا آپ نہ چھوڑو میں چھوڑ دیتا ہوں۔ سو اس نے اپنے عہدے کو خیر آباد کہہ کر اس کم محنت اور بغیر مشقت والے بزنس کو اپنا لیا اور لگا کمائی کرنے۔

حقیقت میں بھی یہی کہانی ہے ، کسی بھکاری سے گب شپ بنا کے آپ اندر تک کی کہانی پڑھ سکتے ہیں۔
اب تو معاملہ گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے کہ یہ بھکاری تو چلو ٹھیک ہے کسی حد تک برداشت کیے جاسکتے ہیں، انہیں سمجھا بجھا کے وعدے وعیدیں سنا کے رخصت کر لیتے ہیں مگر بھکارنوں کی نہ ختم ہونے والی جماعت، توبہ… توبہ…
آوارہ گردی کرتی بھی پائی جاتی ہیں، مانگنے کا بھی شائد فن ہو جو یہ ایسا کرتی ہیں مطلب ہاتھ تو چند روپے کے لئے پھیلاتی ہیں مگر سامنے والے کا بہت کچھ لوٹ کے لے جاتی ہیں، نامعلوم یہ مانگنے آتی ہیں یا لوٹنے… چند رپوں کی خاطر بہت سی بیماریاں پھیلانے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے ایک بس اسٹینڈ پر ایک بھکارن نے کندھے سے ہلایا پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو صرف چہرے پر ہی نقاب تھا۔ تیوری چڑھا کے غصے سے ڈانٹا کہ کم ازکم خود کو سنبھال (سمیٹ) تو لو ، کیوں لوگوں کے ایمان پے ڈاکہ ڈال رہی ہو؟ تو فوراً دوسرے شخص کی طرف بڑھ گئی یہ کہتے ہوئے کہ دفع ہو تُو تو مرد ہی نہیں ہے۔

یہ پیشہ ور بھکارنیں ہیں جو جنسی بے راہ روی کو پھیلاتی ہیں اور چند ٹکوں کے عوض خود کو طشت میں ہوس کے پجاریوں کو پیش کرتی ہیں۔ انکا لباس اللہ معافی… (صرف نام کا ہوتا ہے) مگر مسئلہ یہ ہے کہ مانگتی اللہ کے نام سے ہیں، اللہ کے نام پہ دو روپے دے دو۔ اور جب تک بندہ جیب میں ہاتھ ڈال کے روپے نکالتا ہے تب تک ان بھکارنوں کی اداؤں کی جھلکیاں دیکھنے والے کو دس روپے دینے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ جھونپڑ پٹی، میں علاقے کے کونے کھرچے میں ڈھیرا جمائے بیٹھی ہوتی ہیں۔ انکے گھر کے مردوں عورتوں میں لگتا ہے ایکسچینج ہو چکا ہے کیونکہ وہ تو بدبو کے بھپکوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے بیچ چوکی پہ بیٹھے حقہ پیتے دکھائی دیتے ہیں یا پھر چولہے میں لگی آگ پھونکتے اور اس چولہے پہ چڑھی ابلتی ہانڈی میں چمچ ہلاتے نظر آتے ہیں اور انکی عورتیں سر بازار مٹکتی اور بھیک مانگتے نظر آتی ہیں۔ کبھی انکی جھونپڑی کے پاس سے گزریں تو مرد خود اپنی عورت کو بلا کے بھیج دیتے ہیں کہ وہ رہا تمہارا شکار اور وہ بھی اپنے شکار پہ ایسے جھپٹتی ہیں کہ جب تک کچھ روپے دینے کی حامی نہ بھری تو خود کے لٹ جانے کی مکمل گارنٹی ہوتی ہے ۔ اور جو پیسے نکلوا لے وہ خاندان کے وڈیرے سے شاباش کی مستحق ہوتی ہے۔

ایسی کسی بھکارن سے واسطہ پڑھ جائے اور قریب میں کوئی وردی والا کھڑا ہو تو اندھا کیا مانگے دو آنکھیں کے مصداق فوراً سے پہلے آواز نکلتی ہے کہ سر…! دیکھیں ناں یہ تنگ کر رہی ہے۔ دل میں ہوتا ہے کہ وردی والوں سے عام لوگ تو کنارہ پکڑتے ہی ہیں یہ بھی جان چھوڑ دیگی۔ مگر وہ بھی مسکراتے ہوئے کہہ دیتا ہے۔ دے دو نا بھائی….! چند روپے ہی تو مانگ رہی ہے۔ اور اس بھکارن کی طرف بھی تازہ تازہ ایک مسکراہٹ اچھال دیتے ہیں۔ جو چور کی داڑھی میں تنکا کا پتا دیتی ہے۔
بہت سوچ بچار اور اردگرد سے معلومات کے بعد پتا چلتا ہے کہ اس کمائی میں یہ صاحب لوگ بھی ملوث ہیں کیونکہ جتنی کمائی ہو گی اسکا ایک حصّہ تو انہیں ملتا ہی ہے۔ اور یہ انہی اداروں کی چھتری تلے گھناؤنے جرم کرتے ہیں، انکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کیونکہ انہیں بھینس پالے بنا دودھ ملتا ہے… ایسی صورت میں ہمارے پاس کانوں کو ہاتھ لگائے بنا کچھ بچتا ہی نہیں۔ کہ توبہ توبہ کیسا زمانہ آگیا۔

ان سوچوں میں سے ابھی نکلا نہیں ہوتا کہ سریلی سی آواز دوبارہ پکڑ لیتی ہے اللہ کے نام پے…..غریب آں جی… چھوٹے چھوٹے بچے ہیں… بیمار ، مسکین آں… گھر پہ کھانے کو کچھ نہیں… اور حقیقت میں بھی بچوں کی فوج سلور کے کٹورے ہاتھ میں لیے اردگرد کی دکانوں پہ نظر آتے ہیں تا کہ سب کا حصہ پڑتا رہے۔ ان بچوں کے لشکر کو دیکھ کے یہی سمجھ میں آتا ہے : کہ لگتا ہے ان آوارہ عورتوں کا بھیک مانگنے اور بچے جننے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں۔ یوں یہ پیشہ ور بھکارنیں شرم و حیاء کی چادر کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھتیں۔

آپ کے اردگرد بھی سیکڑوں بھکاری بھکارنیں گھوم رہے ہونگے، نظر رکھیے۔ “فقیر کی صورت ہی سوال ہے”، محتاج کے چہرے سے ہی اسکی غربت کا پتا چلتا ہے۔
سو ضرورت مند کی ضرور مدد کیجئے کہ رسولِ​ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر زیادتی کرتا ہے نہ بے یارومددگار چھوڑ کر دشمن کے سپرد کرتا ہے، اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ پاک اسکی حاجت کو پورا فرماتے ہیں۔ جو کسی مسلمان سے اسکی پریشانی دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکی وجہ سے اسکی قیامت کی بڑی پریشانیوں سے کوئی پریشانی دور کردیگا۔ اور جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ اسکی پردہ پوشی فرمائیں گے”۔
(بخاری و مسلم)

ہمیں حاجت مندوں کی ضرور مدد کرنی چاہیے لیکن پیشہ ور گداگروں سے خلاصی کیلئے لوگوں میں شعور بیدار کرتے ہوئے اداروں کو بھی متوجہ کرنا ہوگا تا کہ انکے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے اور ہمارا معاشرہ اس ناسور سے چھٹکارا پائے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں