ڈرائی کلینگ پارٹی کی سیاسی ناکامیوں سے عوام کی بیزاری

“کراچی سونے کی چڑیا ہے “۔ سینیٹر تاج حیدر کا یہ جملہ ہمیشہ ازبر ہوگیا ہے اور کراچی کے عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور معتصبانہ سلوک پر مجھے سینیٹر تاج حیدر کے الفاظ بخوبی یاد آجاتے ہیں کہ اگر کراچی کا مسئلہ حل ہوگیا تو اس کو نوچ نوچ کر کون کھائے گا ۔ کراچی پاکستان کو 70فیصد ریونیو دینے والا شہر ہے ۔ لیکن اس کی تباہی میں کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ کراچی کی سیاست کرنے والوں کا ہر قسم کا ہاتھ ہے ہم کسی کو بری الزما قرار نہیں دے سکتے۔ کسی کو مورد الزام بھی قرار نہیں دے سکتے۔ لیکن بڑے اسٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے ایم کیو ایم ہمیشہ اس حوالے سے مورد الزام ٹھہرائی جاتی رہی گی کہ کئی عشروں تک بلدیات اور صوبائی وفاق حکومت کا حصہ دار رہنے کے باوجود کراچی کی اہمیت کے پیش نظر ان کی توجہ کم رہی ۔ موجودہ مسائل ایک دو دن کے پیدا کردہ نہیں ہے ۔ بلکہ ایم کیو ایم جب پی پی پی کی اتحادی تھی تب بھی کراچی کو طویل امعیاد منصوبوں کی ضرورت تھی ۔ ایم کیو ایم کے بانی کے مینڈیٹ پر اسمبلیوں میں بیٹھنے والوں کو سندھ اسپیکر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایم کیو ایم کے ووٹ سے آئیں ہیں ، ایم کیو ایم پاکستان کے ووٹ سے نہیں ۔ پاک سرز مین پارٹی نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف بڑی شد و مد کے ساتھ مہم چلائی اور ایک معقول تعداد جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ لیکن ذاتی طورپر میں نے جب بھی اردو اسپکنگ علاقوں میں تجزیاتی دورے کئے تو انھوں نے پاک سر زمین پارٹی کو مسترد کیا ۔ ایم کیو ایم کی حمایت بھی نہیں کی اور بانی ایم کیو ایم کی مخالفت بھی نہیں کی ۔بلکہ مختلف تاویلیں دیتے نظر آئے۔ ڈرائی کلینگ پارٹی میں میڈیا کے ایک مرکزی رکن سے غیر رسمی گفتگو میں مجھے وہ انتہائی مایوس نظر آئے کہ ان کے دو معروف سیلفی قائدین بڑے جتنی محنت کر رہے ہیں ، لیکن ان کے ساتھ جو ہیں ، وہ مخلص نہیں ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ایم کیو ایم میں جس شعبے میں تھے ، وہاں تو کوئی تکلیف نہیں تھی اور نہ ہی آپ کو ڈرائی کلینگ ہونے کی ضرورت تھی ۔ تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا ، اس لئے میں نے شمولیت کرلی( ، گو کہ میں اس بات سے آگاہ تھا) ، موصوف سرکاری ملازم ہیں ، لیکن سرکاری امور کی انجام دہی کے بجائے سیاسی دفتر کے مرکزی آفس میں ہی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔ کے ایم سی کے ایک ڈائریکٹر بھی ڈرائی کلینگ پارٹی میں شامل ہوئے ۔ میں نے ان سے وجوہات پوچھی کہ کیا بات ہے کہ جب سے جوائن کیا ہے ڈارئی کلینگ ہاﺅس نہیں آتے ا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوکری سے ابھی ریٹائرڈ ہونے والا ہوں ، نہیں چاہتا کہ کسی مشکلات میں پڑوں ، اس لئے اجازت لیکر تیتر بٹیر بنا ہوا ہوں ۔
پاک سر زمین پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں تقریباََ سب پرانے چاول ہیں ۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے آٹھ مطالبات کے ساتھ 16نکات پر مبنی کراچی کے مسائل کے حل کےلئے شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا ، دھرنے کا اختتام افسوس ناک تھا ۔ گو کہ مصطفی کمال نے جذبات میں کہا کہ گلی گلی بند کرادیں گے، کراچی کو بند کرادیں گے ، پورے پاکستا ن کو بند کرادیں گے ، لیکن واٹر کینن کی بوچھاڑ نے ان کی تحریک پر ایسا پانی پھیرا کہ ابھی تک بھیگے ہوئے ہیں ۔ کراچی کا مسئلہ حل ہوا اور نہ ہی کراچی بند ہوا ۔ مشہور کہاوت ہے کہ “وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔”قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں پرتشدد پڑتالوں ، بھتوں اور دھمکیوں کو ایسا سیدھا کیا ہے کہ کراچی کی عوام بھی سمجھ چکی ہے کہ ان کے نام پر سیاست کرکے اپنے مفادات حاصل کئے جاتے ہیں ۔ سیاست میں شائد کوئی اصول ، اخلاق و ضابطہ نہیں ہے ۔ اس بات کو تو میں بھی اچھی طرح سمجھتا ہوں ، لیکن پاک سر زمین پارٹی کے حوالے سے یہ تاثر ضرور قائم تھا کہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں انھوں نے کوئی سبق حاصل کرلیا ہوگا ۔ لیکن یہی پاک سر زمین پارٹی جو اپنے مطالبات منوانے کے لئے کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں تھی اور حکمران صوبائی جماعت نے واٹر کینین سے سب کو دھو ڈالا تھا ۔ گذشتہ دنوں افظار پارٹی میں اسی جماعت کے سیاسی رہنماﺅں کو مدعو کیا گیا جو بچوں ، عورتوں اور بزرگ خواتین سمیت عوام کو منتشر کرنے کےلئے ان پر واٹر کینین ، آنسو گیس ، فائرنگ کررہی تھی ، اور پاک سر زمین پارٹی والے دعوے کررہے تھے کہ ہم لندن والے نہیں جو رحمان ملک کے سامنے جھک جائیں ۔ لیکن چشم فلک نے یہ نظارا بھی کراچی اور پاکستان کی عوام کو دکھانا تھا کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے مسکرا مسکرا کر اپنی پلکیں فرش پر بچھا کر ان کا استقبال کررہے تھے ۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ دشمنی تو نہیں کرنی ۔تو ایم کیو ایم کو بھی بلا لیتے ، آفاق احمد کو بلا لیتے ۔ اسلامی شعائر کو سیاست کی نظر کیوں کرتے ہیں۔
سیاست ،منافقت و جھوٹ کا کاروبار ہے ۔ جس میں انسانوں کو تولا نہیں گنِا کرتے ہیں۔دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ڈرائی کلینگ پارٹی میں بھی تضاد نظر آتا ہے ۔ لیکن اس کا فیصلہ ہم عوام پر ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کیا فیصلہ کرتے ہیں ، پرانے چاولوں کا انتخاب کرتے ہیں ، یا پرانے مینڈیٹ پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں ، یا پھر جس جماعت کوچھوڑ کر لسانی جماعت میں شامل ہوکر اپنی شناخت کھو دی تھی ، ان کے ساتھ جاتے ہیں یا پھر کراچی میں مختصر دورہ کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر صوبائی حکمران جماعت کو ایک موقع دیتے ہیں کہ ان پر اعتماد کرلیا جائے تو کیسا ہو۔ خیبر پختونخوا کی عوام سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ جو عوام کے لئے کام کرتے ہیں ، عوام سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو ہی منتخب کرتے ہیں ، کراچی میں سیاسی ماحول بڑا عجیب سا ہے ، جلسے کسی کے بڑے ہونگے ، جیتے گا دوسرا۔ کراچی جیسے تعلیم یافتہ شہر کو بوٹی مافیا بنانے والے کون ہیں ، یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ، لیکن ہم نے ہاتھی کی دم پکڑی ہوئی ہے کہ مسائل کا انبار لئے ہاتھی کی دم تھامنے سے روک لیں گے ۔ ہاتھی عوام کا گنَا چوستا رہے گا ۔عوام بڑھ بڑھ کر اپنی محنت و مشقت کی کمائی اور قیمتی وقت دیتے رہےں گے لیکن نتائج وہی رہیں گے جو 1960سے ہیں ۔
عوام کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا ۔ سمجھنا ہوگا کہ یہ سب کس لئے اور کس کے اشارے پر ہو رہا ہے ۔بے وقوف کب تک بنتے رہیں گے ۔ کراچی کے مسائل کے حل کےلئے ہر اس جماعت کی حمایت کریں جو عملی طور پر ثابت بھی کرے ۔ 130ارب روپے کسی موچی، چمار کو بھی دے دیئے جائیں تو دو اضلاع کو چار چاند لگا دے گا ۔ یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے ، کراچی کا ایک بڑا حصہ6 کنٹونمنٹ بورڈ پر مشتمل ہے جو بلدیہ عظمی ٰ کے زیر کنٹرول نہیں ۔ضلع ایسٹ و سینٹرل کو تو ہر حکومت نے خوب نوازا ہے ۔ ضلع کورنگی تو لسانی جماعت کا گڑھ رہا ہے ۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ ضلع غربی میں کس نے کیا کام کیا ، ضلع جنوبی میں کس نے کیا کام کیا اور ضلع ملیر کیوں محروم رہا ۔ کراچی میں 60فیصد سے زائد کچی آبادیاں ہیں ، ان کے لئے کس حکومت نے خصوصی پیکچ دیئے ، بلکہ انھیں کراچی کے ماتھے پر بد نما داغ کہتے رہے۔
میں کسی پر اپنی کوئی سیاسی رائے نہیں ڈھونسنا چاہتا ، لیکن اپنی سیاسی و صحافتی زندگی کے تجربے میں ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ نام بدل کر آنے والے جماعتوں کے دل فریب نعروں سے دھوکا نہ کھائیں ، جنھوں نے قومیتوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیا تھا ، یہ ڈارئی کلینگ مشین چلانے والے بھی وہی تھے ، اب بھی وہی ہیں ، پارٹی کا نام تبدیل کرنے سے ایجنڈا نہیں بدل جاتا ۔ ان کی مثال بھی کالعدم جماعتوں کی طرح ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کریمنل و ٹارگٹ کلرز ، چائنا کٹنگ ، بھتہ خور ، لینڈ مافیا کا جمع غفیر ڈرائی کلینگ پارٹی میں موجود نہ ہوتا ۔کراچی کی عوام ماضی کو سامنے رکھے اب آپ سے کوئی زبردستی ووٹ نہیں لے سکتا 96فیصد ووٹ کا ریکارڈ نہیں بن سکتا ، قبرستان سے مُردے ووٹ ڈالنے والے روحیں نہیں آسکتی ۔ اور یہ سب وہی کرتے رہے ہیں جو اب ڈرائی کلینگ کی مشین کی دوکان ، نئے پکوان کے ساتھ کھولے بیٹھے ہیں۔ایک بار ، صرف ایک خیبر پختونخوا کی عوام کی طرح سیاسی شعور کا مظاہرہ اور ہمت کریں اور اُن کو آزمائیں جن کو کبھی نہیں آزمایا ۔ باقی سب جانتے ہیں کہ اللہ اُس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہیں کرتے۔

شیئرکریں
mm
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں