فریش گریجویٹ کے ساتھ ستم ظریفیاں

چار سال کی اٹوٹ محنت کے بعد ہم ’ڈگری خواں‘ ہوئے۔ جی ہاں ’ڈگری خواں، جس طرح فسانہ خواں افسانہ پڑھتا، شعر خواں شعر پیش کرتا، نغمہ خواں نغمہ اور غزل خواں غزل سناتا ہے ٹھیک اسی طرح ہم بھی محفلوں میں اپنی گریجویشن کے گُن گانے لگے۔ چونکہ ماسٹرز کی تعلیم مکمل ہوئے سال ہونے کو تھا، نوکری کی تلاش اب بھی جاری و ساری تھی، اور علاوہ ڈگری میرے کنے بے روزگاری تھی ، لہٰذا چراغِ اُمید سے روشنی جارہی تھی۔۔۔
ڈگری مکمل ہونے کے چندماہ قبل ہی طالبِ علم نوکری کی تلاش کو نکل پڑتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی اسی عرصے سے کھوجِ ملازمت کی ابتداء کردی۔ کئی اداروں میں سی وی اور کاغذات جمع کروائے، کئی انٹرویوز بھی دئیے لیکن مانگ کسی تجربہ کار کی تھی اور ہم ٹہرے فریش گریجویٹ۔ کبھی دورانِ انٹرویو نروس ہوجاتے تو کبھی انٹرویو کے بعد اپنی اُن تمام ذہانت آمیز باتوں کا خیال ہی کرتے رہتے جو ان کہی رہ جاتیں۔ بصورتِ دیگر ایک اور شے بھی تھی جو انٹرویو پاس کروانے اور کسی معروف ادارے میں نوکری کی خواہش کو با آسانی پورا کر سکتی تھی اور وہ تھی ’سفارش‘ مگر وائے قسمت کی اٹھکیلیاں!اس انمول رتن سے بھی ہماری جھولی خالی ہوتی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں ملازمت ’سفارش‘ کے بغیر نا ممکن ہے، اس ملک میں انٹر یا حد میٹرک پاس بھی اَس نعمت کی بدولت اعلٰی تریں عہدوں پر فائز نظر آتے ہیں ،لیکن ایسا نہیں کہ ہم سفارش کے خلاف ہیں ۔ ہمارے نزدیک اگر اسے جائز استعمال کیا جائے اور مطلوبہ ملازمت کی اہلیت و صلاحیت رکھنے والے فرد کی سفارش کے ذریعے مدد کردی جائے تو حقدار کی حق تلفی نہ ہوگی اور یہ ایک بھلے کا کام ہوگا۔
تعلیمی دور میں اکثر و بیشتر اپنے دوست احباب کے منہ سے ہم یہی سنتے آئے کہ نوکری سفارش سے ہی ملتی ہے لیکن یقین جانئیے یہاں اس سوچ کے بلکل مترادف تھا۔ ہمارا ماننا یہ تھا کہ کوئی بھی کام احسن طریقے اور محنت سے کیا جائے تو نوکری کے لئے زیادہ دوڑ دھوپ نہیں کرنی پڑتی اور یہی وجہ تھی کہ ہم میقاتِ جامعہ کے ہر مضمون میں جی جان سے محنت کرتے،دی گئی ہر مشق ، اسایئنمنٹ، یا پریزینٹیشن کو ٹھوس دلائل، درست معلومات، اور اس میں تخلیقی عنصر ڈال کر شاندار بنا دیا کرتے۔
اکثر لوگ ہم معصوم دنیا کی سختیوں اور مصیبتوں سے بے خبر، تعلیمی اداروں کی کینٹینوں میں دوستوں یاروں کے ساتھ بیٹھے سموسوں اور کھٹی میٹھی چٹنیوں کے چٹخارے لیتے محنت کش طالبِ علموں پر الزام لگاتے بھی نظر آتے ہیں کہ ’آج کل کے بچوں کو تو یہ خبر ہی نہیں کہ اُنھیں کرنا کیا ہے؟؟؟ پہلے سے اپنے گول کا تعین کرکے اسے فوکس کریں تو بھلا ایسا کیوں کر ہو؟؟؟‘
بات تو بجا ہے کہ کسی ایک فن کا انتخاب کیا جائے اور اسکی بھر پور ٹریننگ لی جائے، اسکے طور طریقوں اور اصول و ضوابط سے پوری طرح آگاہی حاصل کی جائے تاکہ میدانِ عمل میں اترتے ہی سخت مشکلات اور دشواریوں کاسامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن صاحبو! آج کل تو ملٹی ٹاسکنگ کا زمانہ ہے اور تو اور ملک کی حالیہ صورتِحال کو مدنظر رکھا جائے تو ملازمت کے کثیر مواقعوں کے باعث ایک طالبِ علم کو مختلف علوم و فنون سے واقفیت ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ایک در بند ہونے کی صورت میں کسبِ معیشت کے کئی اور راستے بھی اس کے آگے کھُلے ہوں۔
ہم نے یہی روش اختیار کی اور ذرائع ابلاغ کی طالبہ ہونے کے ناطے نا صرف خبر، مکالمے، کالم نگاری، کہانی نویسی اور ڈاکومینٹری بنانے کی مشقات جاری رکھیں بلکہ کنگھی بطور مایئک ہاتھ میں لئے شیشے کے آگے کھڑے ہو کر رپورٹنگ اور اخبارات سے روانی میں خبریں پڑھنے کی پریکٹس بھی کیں۔ بلآخر رمضان کے مبارک مہینے کی آمد ہوئی اور ایک معروف چینل نے اپنی رمضان نشریات میں کئی اور فریش گریجویٹس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی بطور انٹرنی اپنے جوہر دکھانے کا موقع دیا۔ انٹرن شپ اَن پیڈ ہے، اسکی پرواہ کیئے بغیر ہم نے کمر کس لی اور اللہ کا نام لے کر ابتداء کی یہ سوچ کر کہ جناب کچھ سیکھنے کو ملے گا اور جانے مانے ادارے میں کام کرنے کا شرف اور تجربہ حاصل ہوگا۔

لو جی! ایک ہفتہ گزرا ، دوسرا ہفتہ ہو چلا، یہاں تک کہ پورا رمضان بیت گیا اور ٹرانسمشن کا سیزن ساتھ ہی ہماری انٹرن شپ کا دور دونوں اپنے اختتام کو پہنچے۔ اس مرحلے میں ہم نے بہت کچھ سیکھا مثلاً تحفے تحائف اُٹھانا، دینا، پانی کی بوتلیں بانٹنا، افطاریاں سجانا، شو کے شرکاء کو نظم و ظبط کی فضاء قائم رکھنے کے لئے کچھ ہدایاتی جملے بولنا اور ہاں! تمام نامورشخصیات جو شو کی مہمانِ خصوصی ہوتیں، کے ساتھ پاووٹ یعنی مچھلی یا بطخٌ نما منہ بنائے موبائل کیمرہ کے اوپری اینگل سے سیلفیاں لینا۔ادارے میں فل وقت کوئی اسامی خالی نا ہونے کے باعث رمضان کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی خیر باد کہہ دیا گیا ۔اب عالم یہ ہے کہ تلاشِ روزگار کا سلسلہ ازسرِنو شروع ہوچلا ہے، پھر کئی اداروں میں سی وی نامی ایک کاغذ جو ہماری گریجویشن کا ایک ادنٰی ثبوت ہے جمع کروایا ہے، کئی اداروں میں انٹرویو بھی دئیے ہیں جہاں زیادہ تر یہی سوال پوچھا گیا ’آپ کس کے ریفرینس سے ہیں؟‘۔۔۔کیا خوب کہا ہے انور مسعود صاحب نے،

’’صرف محنت کیا ہے انورؔ کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفوں ہونا چاہیئے‘‘

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں