کچھ غامدی صاحب کے متعلق

غامدی صاحب کے بارے میں مجھے دو سال پہلے کچھ جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا تھا۔ انہیں ٹی وی پر دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ بندہ پڑھا لکھا اور مہذب ہے اور اچھے ڈھنگ سے بات کر سکتا ہے اور اسلام کے بارے میں الجھنوں اور سوالات کو آسان پیرائے میں سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ٹی وی میں مختلف پروگراموں میں نظر پڑی تو لگا کہ روایتی علماء کے مقابلے میں ان کے اندازِ گفتگو میں آج کے جدید ذہن کو جذب کرنے کی صلاحیت بہت بہتر ہے۔ پھر جیسا ٹھنڈا ٹھار اور نتھرا لہجہ ہے وہ بھی اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ بندہ اہلِ زبان ہے۔ مجھے بعد میں یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی تھی کہ موصوف کا تعلق پاکپتن شریف سے ہے۔ پاکپتن والا اور ایسی خوبصورت اردو۔۔۔ معجزہ ہی ہے۔

پچھلے رمضان میں ان کی کافی ساری ویڈیوز کو ویب سے ڈاؤن لوڈ کرکے سننا شروع کیا تھا۔ ان ساری ویڈیوز کو دیکھ کر میں نے زیرِ نظر مضمون میں ان کے متعلق اپنا مجموعی تاثر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
غامدی صاحب جہاں پر جدید مسائل کی تفہیم اور تشریح کرتے ہیں یا اجتہادی آراء دیتے ہیں وہاں پر ان سے اتفاق ہوتا ہے۔ مثلاً زکوۃ کے مسئلے پر ان کا یہ کہنا کہ حکومت جو انکم ٹیکس کاٹ لیتی ہے وہ زکوۃ کے ضمرے میں ہے، پھر بھی کوئی بھائی مطمئن نہیں ہوتا تو وہ الگ سے زکوۃ دے سکتا ہے۔ ہیرے جواہرات پر تاریخی طور پر کبھی زکوۃ لاگو نہیں رہی تو اس پر ان کی رائے ہے کہ تاریخی طور پر زکوۃ اشیاء کی صورت میں ادا ہوتی تھی۔ یعنی کسی کے پاس سونا ہے تو وہ سونے کا ایک ٹکڑا ہی زکوۃ میں ادا کردیتا تھا، بکریاں یا اونٹ ہیں تو زکوۃ بھی بکریوں اور اونٹوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جواہرات میں یہ سہولت موجود نہیں کہ انہیں کاٹ کر زکوۃ ادا کی جائے۔ لیکن اب چونکہ تمام ادائیگیاں کرنسی کی صورت میں ہوتی ہیں تو حکومت چاہے تو جواہرات پر بھی زکوۃ عائد کر سکتی ہے۔ اسی طرح سے تاریخی طور پر جلدی گل سڑ جانے والی چیزوں یعنی سبزیوں پر کوئی زکوۃ لاگو نہیں ہوتی تھی۔ اب حکومت چاہے تو ان پر بھی زکوۃ عائد کر سکتی ہے۔ اسی طرح سے جب وہ نماز کی رکعات بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں صرف فرائض ادا کرلینا بھی کافی ہیں تو بات دل کو لگتی ہے۔ تراویح کے متعلق جب وہ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی رمضان کی لازمی عبادت نہیں ہے تو تب بھی ان کے دلائل سے اتفاق ہوتا ہے۔ بہت سے دینی رسومات کی اصل دینی حیثیت واضح کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس قدر ناروا بوجھ دین کے نام پر اپنے اور اپنے بچوں پر لادتے ہیں۔ تصوف کے نام پر غیر اسلامی رسوم و عقائد کو واضح کرتے ہیں تو دل سے نکلتی ہے جزاک اللہ۔
جہاں وہ سنت کی مختلف تعریف کرتے ہیں یا حدیث کی مختلف درجہ بندی کرتے ہیں تو وہاں پر ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اہلِ علم کرتے بھی ہیں۔ اہل علم آپس میں ایسے علمی اختلاف کرتے رہتے ہیں۔ اس سے کسی کا درجہ نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ۔

بہرحال، غامدی صاحب کی بیان کردہ درجہ بندی بھی لاجیکل ہے اور عام ذہن کو سمجھ میں آنے والی ہے۔ ایسی باتوں پر نہ تو غامدی صاحب کو “منکرحدیث” کہا جانا چاہیئے اور نہ ہی ان کے موقف کو “فتنہءِ غامدیت” کا نام دینا چاہیئے۔ بعض اوقات ایک عالم کسی مسئلے کہ ایک زاویے سے تشریح کرتا ہے۔ دوسرا عالم دوسرے زاویے سے۔ بعض اوقات جس چیز کو ہم اختلاف کہہ رہے ہوتے ہیں وہ اختلاف صرف اندازِ بیان کا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ وہ سنت کے ثبوت کا معیار تواترِ عملی کو سمجھتے ہیں اور اس پر کسی نے اگر یہ اعتراض کر دیا کہ تواتر عملی تو بعض اوقات بدعات کو بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ تو ان کی بات میں مجھے کوئی بنیادی فرق نہیں لگتا۔ دونوں اطراف شاید ایک ہی بات کو مختلف انداز سے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جب غامدی صاحب اقامت دین کو ایک فریضہ نہیں سمجھتے تو وہاں پر ان سے اختلاف ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ان کی بہت اچھی گفتگو ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب کے ساتھ یوٹیوب پر موجود ہے۔ سچی بات ہے کہ فرید پراچہ کے دلائل زیادہ مضبوط لگتے ہیں۔ شاید یہ پہلا پروگرام دیکھا ہے جس میں غامدی صاحب کو جواب دینے میں مشکل پیش آئی ہو اور وہ واقعی دل لگتی بات نہ کر پائے۔ ورنہ غامدی صاحب کے دلائل کی وجہ سے عام علماء کو غامدی صاحب کے سامنے گفتگو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ غامدی صاحب کے ساتھ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے پروگرامز میں بھی یہ دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب کے لئے غامدی صاحب کے سوالات کا جواب دینا مشکل لگ رہا تھا۔ تصوف کے موضوع پر بھی غامدی صاحب کی دلائل اتنے جاندار تھے کہ احمد جاوید صاحب جیسا عالم آدمی بھی سارے پروگرام میں صوفیاء کے دعووں کی تاویل کرنے کے بعد آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ “صوفیا نے واقعی بعض جگہوں پر ایسی باتیں کہی ہیں کہ جن کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہے”۔ ایسے ماحول میں پراچہ صاحب کا غامدی صاحب کے دلائل کو دلائل کے ساتھ رد کرنا واقعی قابلِ داد ہے اور ان کی علمی استعداد کا ثبوت ہے۔ ان پروگرامز سے پہلے میں پراچہ صاحب کی علمی استعداد سے واقف نہیں تھا۔
تصوف کے معاملے میں صرف یہ عرض ہے کہ بے شک بعض صوفیا کی کتب میں بیان کردہ عقائد اسلام سے تعلق نہیں رکھتے، ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے ، لیکن صوفیا کی اختیار کردہ بعض نفسی ورزشوں اور مراقبہ وغیرہ سےعبادات میں ارتکاز بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس حیثیت میں انہیں اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اختلاف وہاں پر شدید ہو جاتا ہے جہاں پر غامدی صاحب ہر مذہبی رسم کی اہمیت یہ کہہ کر ختم کر دیتے ہیں کہ “یہ دین نہیں ہے” یا “یہ دین کا حصہ نہیں ہے”۔ جبکہ عام مسائل میں غامدی صاحب معروف کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔ معروف وہ چیز جس کا عام رواج ہو۔ چلیں دین نہ سہی، آپ معروف سمجھ کر ہی ان رسومات کا خیال کر لیں۔ میں شاید بات واضح نہیں کر پایا۔ اختلاف اس چیز سے نہیں کہ وہ ایک رسم کی دینی حیثیت کو واضح کرتے ہیں۔ ضرور کریں۔ چہرے کا پردہ دین کا لازمی جزو نہیں ہے۔ بالکل درست بات ہے۔ تراویح کوئی لازمی عبادت نہیں ہے۔ بالکل درست بات ہے۔ لیکن کم از کم اس بات کو بیان کرنے میں لہجہ اور انداز ایسا رکھیں کہ لوگ تراویح سے متنفر نہ ہو جائیں۔ ایک مہینہ تو ایسا ہوتا ہے جس میں لوگ دل لگا کر عبادت کر لیتے ہیں اور وہ مومینٹم اگلے تین چار مہینے بندے کو ٹھیک رکھتا ہے۔ اس سے بھی محروم کر دیں گے تو پیچھے کیا بچےگا۔ لوگ تراویح چھوڑ کر سینما جائیں گے یا ٹی وی دیکھیں گے۔ ایسے ہی باقی مسائل پر جب آپ کسی چیز کی دینی حیثیت واضح کرتے ہیں تو اندازِ بیاں ایسا رکھنا چاہیئے کہ عبادت چاہے نفلی ہی کیوں نہ ہو، اس کا ذوق و شوق برقرار رہے۔ ہے تو عبادت ہی ناں۔ پچھلے رمضان میں جب کچھ دوستوں نے غامدی صاحب اور مولانا اسحٰق صاحب کا تراویح کے متعلق موقف فیس بک پر پیش کیا تو یقین کیجیے کہ دل میں یہی سوچا تھا کہ چلو اس سے بھی چھٹی ہوئی۔ عبادات میں پہلے ہی تنظیم نہیں ہے، چلو تراویح سے بھی جان چھوٹی۔ بعد میں مولانا طفیل ہاشمی صاحب اور ہیر رانجھا والے ظفر اقبال صاحب نے اس پر دوسرے انداز سے موقف رکھا تو پھر دل تراویح پر ٹِکا۔ اسی طرح چہرے کے پردے پر ان کا موقف کو اس انداز سے پیش کرنا بالکل نہیں بھاتا کہ گویا چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین کوئی غیر دینی کام کر رہی ہیں یا ان سے دین کی بہت بڑی خلاف ورزی سرزد ہو گئی ہے۔ ان کے پروگرام سن کر چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین احمق لگنا شروع ہو جاتی ہیں کہ جنہیں یہی نہیں پتہ کہ چہرے کا پردہ تو فرض ہے ہی نہیں ، یہ ایویں ہی کئے جا رہی ہیں۔ اس پر جب ایسی کچھ خواتین سے بات چیت ہوئی تو اندازہ ہوا کہ انہیں اس چیز کا علم ہے کہ چہرے کا پردہ لازم نہیں ہے، لیکن حالات اتنے خراب ہیں کہ وہ اپنے تحفظ کے لئے چہرے کا پردہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔ قران میں ایسے تو یہ حکم نہیں آ گیا تھا۔ عرض یہی ہے کہ غامدی صاحب انداز و بیان ایسا رکھیں کہ دینی رسومات پر درست معلومات بھی لوگوں تک پہنچ جائیں لیکن دین پرسختی سے عمل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی نہ ہو۔
غامدی صاحب ایک طرف تو عبادات اور دینی رسوم کے متعلق یہ کہہ کر “یہ دین کا حصہ نہیں ہے” ان کی اہمیت ختم کر دیتے ہیں، دوسری طرف مغربی رسوم پر یہ کہہ کر انکا جواز فراہم کر دیتے ہیں کہ “دین میں اسے منع نہیں کیا گیا ہے”۔
مثال کے طور پر، میں ویلینٹائن ڈے پر ان کا موقف دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ ویلنٹائن ڈے پراینکر نے اسلام کا نکتہ نظر پوچھا کہ اس دن لڑکے لڑکیوں کو گلاب کا پھول پیش کرتے ہیں ، محبت کا اظہار کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ؛ تو غامدی صاحب نے بڑے ہلکے پھلکے انداز میں فرمایا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے، بچے بچیوں کی شادیاں ہوں گی، ہم بھی چاول کھائیں گے۔ آفرین ہے۔ مان لیا جی کوئی حرج نہیں۔ دین بھی گلاب کا پھول دینے سے منع نہیں کرتا۔ گلاب کا پھول دیں چاہے گوبھی کا، دین کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ہماری کیا مجبوری آ گئی ہے کہ ایک ایسی رسم کو جواز دیتے پھریں جس کا نہ ہمارے دین سے تعلق، نہ تہذیب سے تعلق نہ ہمارے مٹی سے۔ غامدی صاحب اگر یہ کہہ دیتے کہ بسنت اسلام میں منع نہیں ہے تو میں واقعی ان کی بات سے اتفاق کرتا کہ بسنت منع نہیں ہے کہ یہ تہوار کم از کم ہماری مٹی سے تو جڑا ہے۔ ویلنٹائن کہاں کی رسم آ گئی کہ اب اس کو یہ کہہ کر جواز دے دیا جائے کہ “دین میں منع نہیں ہے”۔

آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ تمام اختلاف کے باوجود میں ان کی بہت قدر کرتا ہوں۔ ان کی تشریحات سے جہاں بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے وہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ بہت سے ایسے لوگ جو دینی فرائض کو بھاری بھرکم پا کر بے عملی میں مبتلا تھے، انہیں جب یہ پتہ چلا کہ دین تو بہت آسان اور مختصر ہے، انہیں اس پر عمل کرنے میں کوئی تامل نہ ہوا۔ مثلاً نماز ہی کو لے لیجیے ۔۔ اس میں سنن اور نوافل شامل کر کے نماز کے رکعتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ شاید مقصد یہی ہے کہ لوگ فرض رکعات ادا کر کے مزید کچھ بھی ادا کریں تاکہ ان میں نفلی عبادات کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ لیکن جب میرے جیسا بندہ یہ دیکھتا ہے کہ عشاء کی سترہ رکعتیں ادا کرنی ہیں تو وہ بیچارہ فرائض سے بھی جاتا ہے۔ لیکن جب یہ پتہ ہوتا ہے کہ صرف فرائض ادا کر لینا بھی کافی ہیں گو وقت اور قویٰ اجازت دیں تو مزید رکعات ادا کرنا اچھا ہے تو وہ اپنی سہولت اور آسانی سے کبھی کم اور کبھی زیادہ نماز ادا کر لیتا ہے۔ جو لوگ غامدی صاحب کے دینی فہم کو فالو کرتے ہیں اور انہیں اس پر اطمینان ہے تو بے شک وہ کرتے رہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عام آدمی کو جس عالم پر اعتماد ہو اسی کے فقہ پر عمل کرنا چاہیئے۔
:
(عمران زاہد)

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں