ہیپی ویلنٹائنز ڈے

فروری کی راتیں، سیاہ آسمان کی چادر پہ ٹانکے گئے رنگا رنگ ستارے، فضا میں ہلکی خنکی, پہاڑوں کی چوٹیوں پہ جمی برف سے آتا ہوا کوئی یخ جھونکا اب بھی اپنے اندر یخ بستگی رکھتا خون میں سرد سی لہر بن کر جل تھل کرتا, شاخساروں پہ ننی سی نئی پھوٹتی کونپلوں سے ٹکرا کر مست ہو جاتا, کمرے کی دور پہاڑوں پہ بنے گھروں کی ٹہنیوں کے رقص پہ ٹمٹماتی بتیاں, پاس کے گھنے جنگلوں سے آنے والے جانوروں کی یادوں کا تسلسل توڑتی آوازیں ,کھڑکی کی جالی سے چھن چھن کر آتی ہلکی ہلکی چاندنی, کمرے میں پھیلے اندھیرے کو فنا کرتی میرے اندر اتر جاتی ہے-
فروری کے دنوں اور تاریخوں سے کچھ لوگ الجھے رہتے ہیں, کسی کا ان سے جھگڑا چلتا ہے تو کوئی انکی تاریخ رقم کرنے والوں پر رشک کرتے ہیں, وصال والوں کی تو کیا ہی بات ہے, قربتوں کی خوشبو میں سرشار اس جہان سے گھوم آتے ہیں گویا انکی جنت یہی ہو, فراق والوں کی داستان ہی الگ ہے, پرانی یادوں سے خانہ دل سجا کے کوئی اپنے محبوب کی نازک کلائی کی ٹوٹی چوڑیاں جو کبھی پیار سے مروڑے جانے پہ ٹوٹ کے اس کے ہاتھ آئیں ہوں انہی کی مدھر آواز میں کھویا رہے گا تو کوئی کتاب سے سوکھے گلاب کی پتیوں کو نکال کر اُن میں وہی مہک تلاشے گا جس مہک نے اسے کبھی یہ گلاب پیش کیا تھا, کوئی ڈائیری کے کسی پنے کی تاریخ میں گم اُسی پل کا ہو جائیگا جس میں اُسے اپنی جناب کی زیارت نصیب ہوئی ہو تو کوئی کسی تحفے کو آنکھیں موندے سینے سے بھینچ لے گا, کوئی اپنی آنکھوں کی چمک سے گال تر کر لے گا تو کوئی کسی لمحے میں کھویا مسکراتا رہے گا.

کچھ تو وہ ہیں جو ابھی سوال کی بندھی گرہ ہی کھولنے میں لگے ہیں, مضطرب گھومتے رہتے ہیں, چکی کے دو حصوں میں پستے, دل عاشق کے پہلو میں اور دماغ زمانے کے گرداب میں, ایک کی کڑوی باتوں کو بھی شہد سمجھ کے ہنس کر پی جانے والا اور دوسرے کی میٹھی بات تلک کو بھی تھوک دینے والا, کچھ شوخ چنچل جوان خون تاریخوں کے الٹ پھیر کے فلسفے سے قطعاً نا واقف, اسکی اصل روح سے بے پرواہ, اپنی مستی میں مست, معصوم فطرت پہ جوشِ جبلت کا چونا کیے کسی کو آنکھ تو کسی کو گلاب مارتے, سیٹی اور شوخ جملہ کستے اپنی ایک الگ دھن میں مست گزرتے جاتے ہیں-
بعض وہ ہیں جو ہر بات سے بس لڑائی کا پہلو نکال کر جھگڑنے لگتے ہیں, برائی سے منسوب کر کے تنقید کرتے ہیں, پچھلوں کی کردار کشی سے لے کر زندگی کی رمق باقی رکھنے والوں تلک سب کے انداز پہ ایسے الزامات دھریں گے کے پَر کا پرندہ ہو چلے گا, اور پھر وہ پرندہ اُس معمولی سی چیز کی تشہیر کا کام خود ہی کر لے گا, بعض اس سب سے پرے ایک الگ ہی دنیا بسائے بیٹھے ہیں, جو بس چپ رہتے ہیں, ضرورت پہ مسکرا بھی لیں گے, اور دیکھ کر منہ بھی بنا لینگے, مگر نا تو آپ کو چھیڑیں گے نا آپکی ذات کے کسی پہلو کو کریدیں گے, نا تاریخوں سے انکا کوئی مطلب ہے نا دنوں سے غرض ,بس زندگانی کا گھورکھ دھندا اور اس کی گھمن گھیریاں-
بات فروری کی یخ بستہ راتوں کی چلی تھی اور کہاں آ نکلی, میری یادوں کا ایک بڑا سرمایہ ان یخ شاموں اور اُن کی کوکھ سے پھوٹتی راتوں کا ہے, ان ساری شاموں کا جو آپکے آنے کے انتظار میں بیتیں, بالکونی پہ کافی کے مَگ کے ساتھ کتنے ہی لمحے میں گِرل سے لگی گلی میں تکتے, کتنی ہی شاموں کو رات ہوتے دیکھتی رہی, اور جب آج کی رات کسی ایسے ہی پہر انتظار میں ٹکی آنکھیں لگ گئیں, تو خواب میں آپکے آنے کی آہٹ پہ جھٹ سے آنکھیں کھلیں, کمرہ لال گلابوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا, اور سامنے مسکراتے ہوئے آپ, اور میں آنکھیں ملتی منہ بناتی ہی رہ گئی, کس قدر خوبصورت لمحات تھے وہ میری آنکھوں کے کھلتے ساتھ ہی آپکو مسکراتا ہوا اپنے سامنے دیکھنا, اس سے پیارا تحفہ اور کیا ہوتا, ہو ہی نہیں سکتا-
زندگانی کی چلتی شاموں اور ان گنت گزرتی راتوں سے چرائی کچھ یادگار تاریخوں کی حسین یادیں, زندہ سانس لیتے لمحات اور ان سے جڑے ہمارے جذبات ہمیشہ ساتھ رہتے اور ہمیں آپس میں ایک تعلق میں پروے رکھتے ہیں ,ایک ایک گھڑی کو آباد کیے ہوئے, کچھ ان لمحات سے سیکھتے ہیں, کچھ انکا ہاتھ تھامے زندگی کی پر خار راہوں پہ مسکرا کے چلتے ہیں, کچھ ندامت سے پلکوں کو بھگو کر اپنی ذات میں اتر جاتے ہیں, کچھ ٹھوکر کھا جانے کے بعد سنبھالنا سیکھ جاتے ہیں, انسانیت کے زندہ تعلق میں روح پھونکتے ہیں, پھر وہ کونسے ہاتھ ہیں جو مجرم ہوئے جاتے ہیں, چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو گناہ سے منسوب کر کے اس کا گلا ہی کاٹنے کے در پے ہیں, وہ کون لوگ ہیں جو اپنے اندر سے کدورتیں مٹائے بغیر غیر کے گلے میں جھانکتے پھرتے ہیں-

ہم محبتیں بانٹنیں والوں میں اپنا شمار کرتے ہیں, نفرتوں کا کاروبار کرنے والے ہر زمانے میں نفرتوں کو پالتے رہے, مگر محبتوں نے نا ہار مانی نا اپنے خون ہی کی پرواہ کی, جبلت کے پجاریوں کے لیے ہر دن ایک سا ہوا کرتا ہے, لالچ حرص و ہوس میں سرمست, کیا جانیں اس جذبے کو, اس جذبے کی روح کیا ہے, سال کے بارہ مہینے کتنے ہی دن منائے جاتے ہیں, جنکا تصور مغرب سے ہی آیا ہے, لیبرز ڈے, پیرنٹس , ٹیچرز ڈے , کتنی ہی بیماریوں کا دن منایا جاتا ہے, ہمارے گزر جانے والے کتنے ہی بڑے لوگ ہیں جنکا دن آرام سے منایا جاتا ہے, پھر محبتیں بانٹنے پہ اگر ایک دن رکھ لیا جائے تو جاتا ہی کیا ہے؟ تنقید کرنے والے تو کسی بھی چیز کو پکڑ لیتے ہیں, انھیں بھی انکی تنقید پہ ایک عدد گلاب مار دیجیئے کیا فرق پڑتا ہے-
مسلہ اتنا سا ہے کے ہم اپنی سمجھ کو بنا تکلیف دیے کسی کی بھی کہی بات پہ چڑھ دوڑتے ہیں, ضرورت اس بات کی ہے کے ہر چیز کی اصل روح کو سمجھا جائے پھر اس پہ بات بھی کی جائے ورنہ صرف باتیں بنا لینا سراسر زیادتی ہے اور کچھ نہیں اور زیادتی بھی اپنے ہی ساتھ, جہاں تک دنوں کا تعلق ہے کسی بھی دن یا کوئی بھی تہوار برا نہیں ہوتا خرابی ہم اس میں خود ڈالتے ہیں, ویلنٹائن ڈے میں خرابی نہیں, کیونکہ ہم سارا سال تنقیدی عینک لگا کر نہیں گھومتے بس اسی ایک دن لگاتے ہیں جب لال رنگ کچھ زیادہ ہی پہنا جاتا ہے, ورنہ تو سال میں میرا نہیں خیال آپکا وضو نا ٹوٹا ہو, منہ سے کوئی جملہ ادا نا ہوا ہو, جنس مخالف میں کشش محسوس نا ہوئی ہو, اب فطری باتوں کو جھٹلائیں گے تو یقین نا آئیگا-

چلیے رہنے دیجیئے! محبتوں کا دن ہے, محبتیں بانٹیے, جن سے پیار ہے اظہار کیجیے, جو دور ہیں انھیں خاص طور پر تحائف دیجیئے, اور جو پاس ہیں انکو دل سے لگا کر رکھیے, ایک مسکراہٹ, دو پیار کے بول, ایک کھلتا گلاب اور اسکا کمال آپکی زندگی میں صدا بہار, کیونکہ محبتوں کے لمحات فراموش نہیں کیے جا سکتے,دل سے لگ کر بیٹھ جایا کرتے ہیں, اور جب کبھی غم توڑنے لگے تو ڈھال بن کر سامنے کھڑے ہو جایا کرتے ہیں, آزما لیجئیے, کسی پیارے کے لبوں کی مسکراہٹ بن کر, مگر اس کے ساتھ اپنے قیمتی لمحات اپنوں میں بانٹیے اپنوں کے ساتھ بیتائیے, شوخی میں کسی کی دل آزاری میں نہیں-

ہیپی ویلنٹائن’ز ڈے

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں