جماعت الدعوة بطور “ملی مسلم لیگ پاکستان”

آزادی کشمیراور فلاحی کاموں کے لیے متحرک اورانڈیا سے نفرت کیلئے پوری دنیا میں مشہور جماعت الدعوة اب ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے جارہی ہے شاید جس سے پاکستان میں کوئی خاص فرق نہ پڑے مگر بین الاقوامی سطح پر ضرور بھونچال آجائے گا. بلکہ ہمارے پڑوسی ہندوستان کیلئے تو نیند اڑا دینے والی خبر ہو گی. اگرچہ جماعت الدعوة نے آفیشلی اس بات کا اعلان نہیں کیامگرگزشتہ دو سال سے یہ بازگشت سنائی دے رہی تھی اور سوشل میڈیا پر صحافیوں کی طرف سے تبصرے اور جماعت الدعوة کے بااعتماد اور باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوة ” ملی مسلم لیگ پاکستان” کے نام سے وطن عزیز کی سیاست میں عملی طورپر قدم رکھنے والی ہے، اگرچہ جماعت الدعوة گزشتہ کئی سالوں سے دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے سیاست میں رہی ہے مگر کسی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنی۔ مولانا سمیع الحق کے بے حد اصرار کے باوجود دفاع پاکستان کونسل کو سیاسی جماعت میں تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی مذہبی سیاسی جماعت کا دوران الیکشن حمایت کا اعلان کیا ،2013کے الیکشن کے دوران بھی جماعت الدعوة پر بہت زور تھا کہ وہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی حمایت کا اعلان کریں، مگر تب بھی جماعت الدعوة کی طرف سے انکار آیا۔اس میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت الدعوة کا منہج اور نظریات تھے، جو اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ ماضی میں جماعت الدعوة خلافت کو اسلامی طرز حکومت کہتی رہی ہے اور جمہوریت کو غیراسلامی اور مغربی نظام قرار دیتی رہی ہے،غیراسلامی نظام سمجھنے کے باعث اس کے کارکنان کسی انتخابی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ اب جبکہ سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے یہ بات سامنے آرہی ہے تو کچھ جماعت الدعوة کے لوگ اس فیصلے سے ناخوش ہیں جبکہ اکثریت اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا میں اس کے بڑے چرچے ہورہے ہیں۔جماعت الدعوة کے کارکنان کو نشستوں اور لٹریچرکے ذریعے موجودہ دور میں سیاسی میدان میں اترنے کی افادیت بتائی جا رہی ہے۔
جبکہ دوسری طرف جماعت الدعوة پر اسٹیبلشمنٹ کی بھی چھاپ ہے اور سیاسی پنڈت اس فیصلے کو ان سے کام لینے والوں کی ضرورت کے طور پر لے رہے ہیں ، ابھی حال ہی میں جماعت الدعوة کی اعلیٰ قیادت سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا غفور حیدری کی جماعت الدعوة کے مرکز کا دورہ اور یہ ملاقاتیں اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہاہے اور دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آرہی ہیں کہ بڑے بڑے نام “ملی مسلم لیگ پاکستان” کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔
جماعت الدعوة اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے، ماضی میں سینیٹرساجدمیرکی وجہ سے پنجاب میں اہلحدیثوں کے سارے ووٹ مسلم لیگ ن کو ملتے تھے، اب ” ملی مسلم لیگ پاکستان” آنے کے بعد کیا پنجاب کی حکومت جماعت الدعوة کو آزادانہ طور پر کام کرنے دے گی۔پاکستان میں مسلک کی بنیاد پر کئی جماعتیں موجود ہیں، جن میں اہل سنت و الجماعت، مجلس وحدت مسلمین، سنی تحریک شامل ہیں، اسی طرح جمعیت علما اسلام دیوبند مکتب فکر کی ترجمان جماعت سمجھی جاتی ہے۔
آزادی کشمیراور فلاحی کاموں کے لیے متحرک جماعت الدعوة نے فلاحی کاموں کے ذریعے وطن عزیز کے سمجھدار حلقے میں اچھا مقام بنالیاہے جبکہ خاص کر نوجوان بہت زیادہ مرعوب نظر آتے ہیں جو جماعت الدعوة کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے۔
جماعت الدعوة کو سیاسی میدان میں آنے کے بعد مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جماعت الدعوةکے کارکنان اسے بطور ایک جمہوری جماعت قبول کریں گے، کیوں کہ کسی بھی جماعت کی طاقت اس کی افرادی قوت ہوتی ہے،جماعت الدعوةاپنے کارکنان کو کیسے اس پر آمادہ کرے گی،دیگر سیاسی جماعتیں جو جماعت الدعوة کے ہراسٹیج پر نظرآتی رہی ہیں، کیا اب اس کا سیاسی چہرہ قبول کر پائیں گی؟ یا ووٹ ٹوٹنے کے ڈر سے نئی سیاسی جماعت بھی ان کی آنکھوں میں کھٹکے گی، کیا عالمی سطح پر جماعت الدعوة کے ہرکام کو ناپسند کرنے والی طاقتیں، بلکہ اس کے وجود کو ہی ختم کرنے کے مطالبات اور کوششیں کرنے والے پاکستان کے قومی دھارے میں شریک ہونے کو ہضم کر پائیں گے؟ ، ان سب سوالوں کے جوابات کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا ۔
جبکہ جماعت الدعوة کے سربراہ پروفیسرحافظ سعید ان دنوں نظر بند ہیں، انہیں انڈیاکے شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ٹھرایا جاتاہے جس کے بعد جماعت الدعوةپر بین الاقوامی سطح پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھی، انھیں کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیم لشکر طیبہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ جماعت الدعوة وطن عزیز کی آزادی کے دن اس کاباضابطہ اعلان حافظ سعید سے کروانا چاہتی تھے مگر ان کی نظر بندی کی توسیع کی وجہ سے یہ اعلان اب 14اگست کوجماعت الدعوة کی سپریم کونسل کر ے گی ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں